
جہلم// ٹریفک پولیس کےچالان در چالان۔شہری ڈپریشن کا شکار ہونے لگے لڑائی جھگڑے معمول بننے لگے
جہلم ( نعیم احمد بھٹی) شہری ڈپریشن کا شکار ہونے لگے لڑائی جھگڑے معمول بننے لگے چالان در چالان پر شہری بھی اذیت کا شکار ٹریفک پولیس کی طرف سے سول لائن شاندار چوک میں چالانوں کی بھرمار شہری لڑنے پر اتر آئے گزشتہ روز سول لائن روڈ پر ٹریفک پولیس کی شہری کے ساتھ بات توں تکرار تک پہنچ گئی شہریوں کا کہنا ہے کہ ہم دو ہزار روپے چالان کہاں سے دیں ہوشربا مہنگائی اور بجلی کے بلوں نے پہلے ہی مشکلات میں اضافہ کر رکھا ہے ہم جہاں گاڑی کھڑی کریں وہیں چالان ہوجاتا ہے دوسری طرف ٹریفک آفیسرز کا کہنا ہے کہ ہم تو حکم کے غلام ہیں ہمیں جو احکامات آتے ہیں ہم اس پر عمل درآمد کرتے ہیں ایک ٹریفک انسپکٹر نے نام نہ لکھنے کی شرط پر بتایا کہ ہمیں اوپر سے ٹارگٹ پورا کرنے کے احکامات ہیں کہ تم نے اتنے چالان کرنے ہیں شہریوں نے آئی جی پنجاب سے نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے تفصیلات کے مطابق چالان در چالان شہری ڈپریشن کا شکار ہونے لگے دو ہزار روپے کا چالان شہریوں کے لیے ایک ازیت کا باعث بن گیا ٹریفک پولیس اور شہریوں کے درمیان توں تکرار بڑھنے لگی مہنگائی کی چکی میں پسے شہری اور بجلی کے بلوں کو دیکھ کر ششدر ہونے والے شہریوں کی زندگی تنگ کر دی گئی پیسے ہوں نہ ہوں چالان لازم جمع کروانا ہے اس موقع پر شہریوں کا کہنا تھا کہ حکومت ہم سے مزید اور کتنے پیسے نکلوانا چاہتی ہے پہلے ہی ہم ہوشربا مہنگائی اور بجلی کے بلوں سے پریشان ہیں اوپر سے جس سڑک پر جائیں وہیں چالان ٹریفک پولیس بھی اس طرح چالان کرتی ہے جیسے کوئی یہ یہ بہت بڑے ثواب کا کام ہو چالان در چالان سے ہماری زندگی اجیرن بن چکی ہم کہاں سے اتنے پیسے لائیں شہریوں نے مزید کہا کہ حکومت ہماری زندگیوں کو ازیت ناک نہ بنائے ہمیں جینے دے ہمارے لیے اب دو وقت کی روٹی کمانا مشکل ہوچکا بچوں کو پڑھانا مشکل ہوچکا اور حکومت ہے کہ ہمیں چالانوں کی زد میں لا کر ہم سے پیسے چھین رہی ہے دوسری طرف جب ٹریفک پولیس آفیسرز سے اس بارے میں بات کی تو ان کا کہنا تھا کہ ہم تو حکم کے غلام ہیں ہم نے بھی ڈیوٹی کرنا ہے ایک انسپکٹر نے نام نہ لکھنے کی شرط پر بتایا کہ ہمیں اوپر سے ٹارگٹ دیا جاتا ہے کہ تم نے اتنے چالان کرنے ہیں پھر ہم کیسے نہ چالان کریں۔ شہریوں نے وزیر اعلیٰ پنجاب اور آئی جی پنجاب سے مطالبہ کیا ہے کہ چالانوں کی رقم کو کم کیا جائے اور چالان در چالانوں کا سلسلہ بھی ختم کیا جائے



















