چیف ایڈیٹر:طارق محمود چودھری  ایڈیٹر: مظہر اقبال چودھری  مینیجنگ ایڈیٹر: ادریس چودھری

اپریل 22, 2026 6:13 شام

دینہ// رپورٹ:پروفیسر خورشید علی ڈار// ٹریفک پولیس کی غفلت، نااہلی ۔ تحصیل دینہ کی سڑکوں پر 80 فیصد رکشے بغیر نمبر پلیٹ کے دوڑنے لگے کم عمر ڈرائیور لوگوں کی زندگیوں سے کھیلنے میں مصروف

دینہ// رپورٹ:پروفیسر خورشید علی ڈار// ٹریفک پولیس کی غفلت، نااہلی ۔ تحصیل دینہ کی سڑکوں پر 80 فیصد رکشے بغیر نمبر پلیٹ کے دوڑنے لگے کم عمر ڈرائیور لوگوں کی زندگیوں سے کھیلنے میں مصروف
جہلم ( رپورٹ//پروفیسر خورشید علی ڈار )۔شہر دینہ کے انگنت مسائل ہیں جن پر خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے سر فہرست اگر ترجیحات کو مد نظر رکھا جائے تو منگلا روڈ ….جی ٹی روڈ …… جتنے بھی لنکس ہیں جن پر رکشے چلتے ہیں وثوق سے کہا جا سکتا ہے کہ 80 فیصد رکشہ چلانے والوں کے پاس کاغذات نہیں ہوں گے 20 فیصد رکشے ایسے ہوں گے جن کے نہ فرنٹ اور نہ بیک پر نمبر ہوگا مزید برا انتہائی 10/ 11 سال کے کم عمر بچے چلا رہے ہوں گے یا پھر انتہائی ضعیف اشخاص دن کو دکھائی نہیں دیتا وہ رکشہ چلا رہی ہوں گے حادثات کا سبب یہی لوگ بنتے ہیں یقینا منگلا روڈ پر موٹر سائیکل پارکنگ کی جو جگہ بنائی گئی ہے وہ مثبت سوچ کے حوالے سے ہوگی ۔لیکن زمینی حقائق کو مد نظر رکھا جائے تو اس کی ضرورت نہ تھی وہ اس لیے کہ منگلا روڈ اور قرب و جوار میں کار پارکنگ کی بلڈنگ موجود ہے یہاں پر رکشے اور کار وغیرہ یا موٹر سائیکل کھڑے کیے جا سکتے ہیں ظلم تو یہ ہے کہ موٹر سائیکل پارکنگ کے لیے جو جگہ بنائی گئی ہے 50 فیصد اس کا مس یوز ہورہا ہے وہاں پر رکشے کھڑے ہوتے ہیں اب ان کو کون روکے گا کس کی جرات ہے کہ دیکھیں گے بھی لیکن قانونی کاروائی نہیں ہوگی یقینا ٹریفک پولیس کے اپنے مسائل ہوں گے لیکن سمجھ سے بالاتر جو چیز ہے وہ یہ ہے کہ منگلا روڈ پر اپنا موٹر سائیکل مشرق کی طرف کھڑا کرتے ہیں کار لفٹر ائے گا اور اپ کا موٹر سائیکل اٹھا لے گا اورد ہزار روپےجرمانہ ہوگا اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا اپ نے سپیسیفک جگہ پر کہیں سائن بورڈ لگایا ہے کہ نو پارکنگ اگر نو پارکنگ نہیں ہے تو ایسا کیوں کیا جا رہا ہے نو پارکنگ کا سائن بورڈ لگانے پر کتنا خرچہ اتا ہے اور کتنا وقت لگتا ہے نہ ہونے کے برابر ہے اگر مین بازار چلے جائیں تو وہاں پر جو نالے بنائے گئے ہیں فائدہ شاید انے والے وقت میں ہوگا یا نہیں ہوگا لیکن اس کے نقصانات فوری طور پر ظاہر ہونا شروع ہو گئے ہیں لوگوں کے لاکھوں کروڑوں روپے ڈوب گئے ہیں کوئی گاہک دکان تک نہیں جا سکتا کیونکہ درمیان میں نالہ ہے جو پانی سے بھرا ہوا ہے ایسی چیز کی اہمیت کو جب نظر انداز کر دیا جاتا ہے ایسے مسائل پیدا ہوتے ہیں کس قدر افسوس کا مقام ہے ایک دکاندار تقریبا روزانہ کی بنیاد پر اس کا کرایہ پانچ سے 10 ہزار روپے بنتا ہے سارا دن گاہک نہیں ائے گا لیکن وہ کرایہ دینے کا پابند ہے وہ اس قدر سہم گئے ہیں اور بے بس ہو گئے ہیں کہ اب وہ احتجاج کرنے کی بھی صلاحیت نہیں رکھتے ان کے پاس طاقت نہیں ہے یا ایسا کہہ دیں کہ ان کو یہ معلوم ہے کہ جب ہماری کسی نے بات سنی ہی نہیں ہے تو احتجاج کرنے کا کیا فائدہ …کیا ٹھیکیدار کو پابند نہیں کیا جا سکتا کہ وہ تین شفٹیں استعمال کرے 24 گھنٹے میں تین گروپس نالے کی مرمت کا کام شروع کر دیں پر ہاتھ رکھے ہوئے بیٹھے ہیں جب تک یہاں پر کسی کی موت واقع نہیں ہو جاتی یا کوئی ناخوشگوار واقعہ نہیں ہوتا ہم ٹس سے مس نہیں ہوں گے ہماری نظر حال پر ہے نہ مستقبل کی فکر ہے اور یہ جو بے حسی ہے اس میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے مظلوم لوگوں کی تعداد میں کہیں گنا زیادہ اضافہ ہو چکا ہے اسی لیے کہا جاتا ہے کہ روڈ پر اگر اپ کو پولیس نظر نہیں اتی روڈ پر اگر اپ کو ملٹری کے سپاہی نظر نہیں اتے تو اپ کہہ سکتے ہیں کہ اس ملک میں جمہوریت ہے اس ملک میں انصاف ہے یہاں پر قانون کی حکمرانی ہوتی ہے جہاں پر اپ پولیس کے سپاہی دیکھیں گے تو دوسرے لفظوں میں اپ یہ کہہ سکتے ہیں کہ یہاں پر قانون کی حکمرانی نہیں ہے من حیث القوم ہم زوال کی طرف جا رہے ہیں حقوق حاصل کرنے کی خواہش ہے لیکن فرض کی ادائیگی کرنے سے قاصر ہیں حوالے سے تحصیل انتظامیہ حسب ضرورت اگر توجہ دیں تو شاید مسائل حل ہو سکیں

Facebook
Twitter
LinkedIn
Pinterest
Pocket
WhatsApp

متعلقہ خبریں

دینہ( ادریس چودھری) دینہ کے نواحی علاقے چھمالہ میں سکول میں بچیوں کے درمیان ھونے والی لڑائی بڑوں تک جا پہنچی۔ فائرنگ سے 57 سالہ شخص اور اس کا بھتیجا جاں بحق ہو گئے۔ایک بھتیجا شدید زخمی، بھتیجے دونوں سگے بھائی ۔ قاتل فیملی سمیت فرار ھو گیا۔ تھانہ منگلا کینٹ پولیس نے تفتیش شروع کر دی

تازہ ترین خبریں