
جہلم// جماعت نہم کےمایوس نتائج، اساتذہ کے خلاف کاروائی ضرور کریں ۔ مگر کہ ان وجوہات کو بھی مد نظر رکھا جائے جن کی وجہ سے رزلٹ غیر معیاری رہا ہے۔ رپورٹ پروفیسر خورشید علی ڈار
جہلم// پروفیسر خورشید علی ڈار//امسال جماعت نہم کا رزلٹ مجموعی طور پر مایوس کن ہے قانون کے مطابق غیر معیاری رزلٹ دکھانے والے اساتذہ کے خلاف کارروائی کرنا ازحد ضروری ہے قرینے انصاف ہوگا کہ ان وجوہات کو بھی مد نظر رکھا جائے جن کی وجہ سے رزلٹ غیر معیاری رہا ہے ضلع 1)جہلم میں 80 فیصد ادارے سربراہ ادارہ سے محروم ہیں ان کی جگہ کوئی سینیئر ٹیچر فرائض سر انجام دے رہا ہے یقینا سربراہ ادارہ کے بغیر ادارہ نہیں چل سکتا .2) کچھ عرصہ سے حکومت نے اؤٹ سورس کی جو رٹ لگا رکھی ہے اس سے اساتذہ کے اندر عدم تحفظ کا احساس پیدا ہوا ہے جو شخص ذہنی اذیت کا شکار ہوگا اس نے کارکردگی کیا دیکھانی ہے کیا مذکورہ تعلیمی ادارے ہر حوالے سے تعلیمی سہولیات رکھتے ہیں اس کا جواب نفی میں ہوگا پاکستان وہ واحد ملک ہے جہاں سیاسی مداخلت عروج پر ہے پر اس سیاسی مداخلت کی بنا پر اساتذہ عزت و احترام سے محروم ہیں۔ امتحانی طریقہ کار ہر حوالے سے ناقص ہے نالائق ترین لوگوں کو امتحانی ڈیوٹی پر لگایا جاتا ہے مارکنگ سینٹر کا قیام کر کے شفاف رزلٹ بنانے میں ایک بہت بڑی رکاوٹ بنی ہے اس سے قبل اساتذہ گھروں میں مارکنگ کیا کرتے تھے جس کی بنا پر شفاف رزلٹ دکھائی دیتا تھا کیا محکمہ تعلیم نے اس بات پر غور و فکر کیا ہے کہ 365 ایام میں تعلیمی ادارے کتنے ایام کام کرتے ہیں یہ بات وثوق سے کہی جا سکتی ہے اگر انصاف کے تقاضوں کے مطابق ری مارکنگ کروائی جائے تو 20 پرسنٹ رزلٹ میں اضافہ ہو سکتا ہے ۔ ریاست کی ترجیحات میں صحت اور تعلیم پہلے نمبر پر ہوتی ہے ۔۔۔جبکہ یہاں پر ہر بات الٹ ہے یہ کہنا مناسب تو نہیں حکومت بھی ٹک ٹاک پر چل رہی ہے۔اور تمام ادارے بھی ٹک ٹاک پر چل رہے ہیں جس معاشرے میں اساتذہ کا احترام نہیں ہوگا اس معاشرے نے کیا ترقی کرنی ہے جو نقصان ہونا تھا وہ ہو چکا ہے ضرورت اس امر کی ہے کہ تمام زعماء مل بیٹھ کر دیکھیں کہ ہم نظام تعلیم کو کس طرح بہتر بنا سکتے ہیں۔۔۔وہ کون سے اقدامات کیے جائیں جن کے کرنے سے ہماری نوجوان نسل تعلیم سے اراستہ ہو سکے ۔



















