
جہلم (نعیم احمد بھٹی) سنگھوئی کیس اہم رخ اختیار کر گیا بہن کا بھائی پر زیادتی کا الزام ڈرامہ نکلا ذرائع کے مطابق پیسے دے کر بہن نے سوشل میڈیا پر بھی اس گھٹیا الزام کو پھیلایا ہے ڈسٹرکٹ رپوٹر جہلم نیوز کی انویسٹیگیشن کے مطابق اہل علاقہ نے اس الزام کو بے بنیاد اور جھوٹا قرار دے دیا جبکہ لڑکی کی طرف سے پولیس اہلکار ضمیر پر بھی 60000 روپے رشوت لینے کا الزام ثابت نہ ہوسکا اہل علاقہ نے ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر سے اس کیس کی شفاف انکوائری کرانے کا مطالبہ کیا ہے تفصیلات کے مطابق سنگھوئی کیس میں بڑا موڑ سامنے آیا ہے بہن کا بھائی پر زیادتی کا الزام ڈرامہ نکلا تفتیش کے بعد ہادیہ کے بھائی مجاہد کو پولیس نے کیس سے رہا کر دیا ہے تفتیشی کی طرف سے یہ کہا جا رہا ہے کہ تحقیقات میں وہ بے قصور پایا گیا ہے جبکہ بہن حادیہ نے پیسے دے کر سوشل میڈیا کے زریعے بھی اس گھٹیا الزام کو بار بار دہرایا ہے ڈی ایس پی شہباز ہنجرا کا کہنا ہے کہ یہ انتہائی افسوس ناک واقعہ رشتوں کے تقدس کو پامال کرنے والی بات ہے میں نے اہل علاقہ سے بھی بات کی لڑکی کا میڈیکل بھی کروایا لیکن ابھی تک کوئی ایسا ثبوت نہیں ملا کہ ہم اس کیس پر کاروائی کر سکیں لڑکی کی طرف سے بھی ابھی تک کسی قسم کی کوئی ٹھوس شہادت نہیں ملی میں نے اپنے طرف سے بھی کیس کی تفتیش کی اور مدعی کو بلایا بھی لیکن مدعی حاضر نہیں ہوا ہے لڑکی نے فی الحال سوشل میڈیا پر ہی یہ بیانات دیے ہیں اہل علاقہ نے بتایا ہے کہ یہ لڑکی الطاف نامی شخص کے گھر کام کرتی تھی اور پھر گاؤں والوں نے بھی اس لڑکی کے خلاف مختلف قسم کی باتیں کرنا شروع کر دی اس بات پر بھائی کو غصہ آگیا اور اس نے بہن کو الطاف کے گھر میں کام کرنے سے روک دیا جس کے بعد بہن اور بھائی میں کئی بار جھگڑا بھی ہوا اور بھائی دل برداشتہ ہوگیا کہ گاؤں والے اس کی بہن کے خلاف طرح طرح کی باتیں کر رہے ہیں ذرائع کے مطابق میڈیکل رپورٹ میں بھی کوئی ایسے شواہد سامنے نہیں آئے جو زیادتی کے الزام کو ثابت کریں جس کی وجہ سے یہ مؤقف زور پکڑتا جا رہا ہے کہ واقعہ مبینہ طور پر ایک منصوبہ بندی کے تحت کھڑا کیا گیا ہے اہلِ علاقہ کا دعویٰ ہے کہ اس تمام معاملے کے پیچھے الطاف کا کردار سامنے آ رہا ہے، جس پر الزام ہے کہ اس نے لڑکی کو بھڑکا کر یہ مقدمہ درج کروایا اور پورا کیس اسی نے بنایا علاقے کے لوگ پہلے بھی الطاف کے کردار پر سوال اٹھاتے رہے ہیں، خاص طور پر اس کے نابالغ لڑکی سے غیر مناسب میل جول نے سب کو پریشان کیا ہوا تھا یہ خبر پورے گاؤں کے لیے شرمندگی کا باعث بنی ہے اہل علاقہ کے لوگوں نے مطالبہ کیا ہے کہ اصل مجرم کو سامنے لایا جائے جس نے بھی یہ سازش کی یا جھوٹ گھڑا، اسے قانون کے مطابق جوابدہ ہونا چاہیے اور شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کے بعد اصل ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے



















