
جہلم (نعیم احمد بھٹی) سرکاری آٹا کیوں نہیں رکھا تمھارا چالان ہوگا انتظامیہ نے سرکاری آٹا نہ رکھنے والے دکانداروں کو جرمانے کرنا شروع کر دیے دوسری طرف دکانداروں کا کہنا ہے کہ سرکاری آٹا کوئی خریدتا ہی نہیں ہم کیسے رکھیں ہمیں بلاوجہ تنگ کیا جا رہا ہے جب شہریوں سے سرکاری آٹے کے متعلق پوچھا گیا کہ آپ کیوں نہیں خریدتے تو ان کا کہنا تھا کہ ناقص آٹا ہوتا ہے جس کے کھانے سے پیٹ خراب ہوجاتا ہے اور روٹی بھی سوکھی پکتی ہے حکومت ہمیں اگر سستا آٹا فراہم کرتی ہے تو اس کی کوالٹی بھی اچھی بنائے ہمیں چھان بورا کھلایا جا رہا ہے انتظامیہ اس کا نوٹس کیوں نہیں لیتی تفصیلات کے مطابق سستا آٹا یعنی کہ سرکاری آٹا کیوں نہیں رکھا تمھارا چالان ہوگا انتظامیہ نے مجسٹریٹس کے زریعے سرکار کا آٹا نہ رکھنے والوں کو جرمانے کرنا شروع کر دیے اس سلسلے میں جب دکانداروں سے یہ پوچھا گیا کہ سرکار کا آٹا آپ کیوں نہیں رکھتے تو ان کا کہنا تھا کہ کوئی خریدتا ہی نہیں ہم کیسے آٹا رکھیں جو بھی یہ آٹا لے جاتا ہے وہ ہمیں واپسی پر شکایت بھی کرتا ہے انتظامیہ فلور ملز کو پابند بنائے کہ وہ اچھی کوالٹی کا آٹا دیں اس سلسلے میں جب شہریوں سے پوچھا گیا تو ان کا کہنا تھا گھٹیا کوالٹی کا آٹا ہم کیسے لیں اس آٹے سے اکثر پیٹ خراب ہوجاتا ہے سرخی مائل آٹے میں چھان بورا زیادہ ہوتا ہے روٹی بھی جلد سوکھ جاتی ہے حکومت اگر غریبوں کو آٹا سستا دیتی ہے تو اس کی کوالٹی بھی اچھی رکھے کیا یہ آٹا حکومتی وزراء خود بھی کھانا پسند کریں گے شہریوں نے مزید کہا کہ انتظامیہ اور حکومت فلور ملز کو پکڑیں جو ایسا آٹا مارکیٹ میں دے رہے ہیں دکانداروں نے پنجاب کی وزیر اعلیٰ مریم نواز سے مطالبہ کیا ہے کہ ہمیں اتنے بھاری جرمانوں سے بچائیں اور سستے آٹے کی کوالٹی کو بہتر بنائیں تاکہ ہم سستا آٹا بھی اپنی دکانوں پر رکھیں تاکہ شہری اس کو خرید سکیں



















