چیف ایڈیٹر:طارق محمود چودھری  ایڈیٹر: مظہر اقبال چودھری  مینیجنگ ایڈیٹر: ادریس چودھری

مئی 11, 2026 6:24 صبح

خون کا عطیہ بڑی نیکی صدقہ جاریہ زندگی کی امید. تحریر: آصف محمود چودھری ۔ منگلا

خون کا عطیہ بڑی نیکی صدقہ جاریہ زندگی کی امید,,

زندگی بہت حسین ہے خوبصورت بھی یوں تو موت اور زندگی دینے کا اختیار صرف اللہ پاک کے پاس ہے وہی کسی کو امیر اور کسی کو غریب بناتا زندگی گزارتے میں کبھی کبھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور کئی بار بڑے بڑے پیسے والے بھی اچانک امرجنسی میں بے بس ہو جاتے ہیں اور ان کو کسی نہ کسی انسان کی مدد کی ضرورت پڑ جاتی ہے زندگی کا بہترین مقصد انسانیت کی بھلائی قدر اور انسانیت کی خدمت میں ہے جس انسان میں انسان سے ہمدردی نہیں اس کی زندگی بےکار ہے مختلف بیماریوں میں اور حادثات میں اللہ کے بندوں کو انسانی مدد کی ضرورت پڑتی ہے جو کہ خون کی شکل میں ہوتی ہے مختلف تنظیمیں خون کا عطیہ دینے کے لیے بنی ہوئی ہیں جو دکھی انسانیت کی مشکل وقت میں ایمرجنسی میں مدد کرتی ہیں اور ان کے ممبران ایک تنظیم کی شکل میں کام کرتے ہیں ملک بھر میں اور دنیا بھر میں ایسی تنظیمیں کام کر رہی ہیں خون کا عطیہ دینا بہت بڑی نیکی صدقہ جاریہ ہے اور زندگی کی امید ہے جس شخص کو زندگی بچانے کے لیے خون درکار ہو اس کے لیے ایک ایک قطرہ خون کا بہت قیمتی ہے زیادہ طور پر ہماری نوجوان نسل خون کا عطیہ دینے میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتی ہے کچھ بلڈ گروپ روٹین میں مل جاتے ہیں اور کچھ گروپ انتہائی نایاب ہوتے ہیں جو مشکل سے ملتے ہیں جدید دور میں ہر شخص کا بلڈ گروپ معلوم کرنا اتنی بڑی بات نہیں ہر شخص کو اپنا بلڈ گروپ کا ٹیسٹ کروا کے اس کو میری رائے کے مطابق اپنے قومی شناختی کارڈ میں اپنے بلڈ گروپ کو لکھوانا چاہیے کسی بھی ایمرجنسی میں بلڈ گروپ قومی شناختی کارڈ میں پہچانا جائے گا اور گروپ کی تلاش اسانی رہے گی دوسری جانب خون عطیہ کرنے کا شعور دینے کے لیے کالجوں یونیورسٹیوں میں مہم شروع کرنی چاہیے جہاں خون کی ضرورت مختلف بیماریوں امرجنسی میں ہوتی ہے اسی طرح کسی بڑے ہنگامی حالات میں اگر خون کی ضرورت پڑ جائے وہ بھی مہیا کرنے کا سارا بندوبست ہو جائے طالب علموں کو یہ بھی بتانا چاہیے کہ خون کا عطیہ دینے سے صحت پر اچھا اثر پڑتا ہے کوئی نقصان نہیں ہوتا زندگی بچانے کے لیے مسلسل خون کی ضرورت ہوتی ہے جیسے تھیلاسیمیا کی بیماری میں مریض کو خون چاہیے ہوتا ہے اس لیے کسی بھی انسانی زندگی کو بچانا نیکی کا کام ہے صدقہ جاریہ بھی اور زندگی بچانے کا سبب بھی ویسے تو کوئی شخص خون کے ایک قطرے کی قیمت بھی ادا نہیں کر سکتا اور خون دینے والے کسی مجبور بے بس کی امید بن کر ان کی خدمت کرتے ہیں جو حقیقی معنوں میں انسانیت کی بہت بڑی خدمت ہے اللہ پاک ایسی تنظیموں ایسے افراد کو سدا قائم رکھے جو امید کی کرن بن کر عوام کی خدمت کرتے ہیں اس کام کو مزید بڑھانے کے لیے ہر شہر ہر علاقے میں بلڈ ٹیسٹنگ کیمپ لگوا کر خون کی گروپنگ کہ رجسٹر بنائے جائیں اور ان لوگوں کو ہر وقت تیار رکھا جائے کیوں نہ کہ بلڈ بینک ہر جگہ قائم کرنا تھوڑا مشکل کام ہے ایسے افراد کو ضرورت پڑنے پر ان سے رابطہ کر کے خون دینے کا کہا جائے خون دینے والوں کے لیے تمام انتظامات کیے جائیں اور ان پر کسی قسم کا کوئی مالی بوجھ نہ ڈالا جائے اس نیک کام کو مسلسل جاری رکھنے کے لیے مخیر حضرات کے تعاون سے مفت ٹیسٹنگ کیمپ لگانے کا سلسلہ جاری رکھا جائے تاکہ کسی بھی ہسپتال میں خون کی کمی کو پورا کر کے اس مریض کی جان کو بچایا جا سکے اور کسی مریض کو خون نہ ہونے کی وجہ سے موت کے منہ جانےسے بچایا جا سکے تمام سرکاری اور پرائیویٹ ہسپتالوں میں بلڈ بینک ہوں جن سے عوام کو خون دستیاب ہو اور کسی پریشانی کا سامنا ان کو نہ کرنا پڑےت

حریرآصف محمود چوہدری

Facebook
Twitter
LinkedIn
Pinterest
Pocket
WhatsApp

متعلقہ خبریں

تازہ ترین خبریں