
منگلا میر پور(آصف محمود چوہدری) منگلا ڈیم مچھلی ٹھیکے دار کے بندے شوقیہ شکاریوں کے ساتھ نارواں رویہ اپناتے ہوئے بدمعاشی کرنے لگے شکار کی پرچی کے نام پر ہزاروں روپے وصول کیے جانے لگے تفصیلات کے مطابق منگلا ڈیم مچھلی کے ٹھیکے دار کہ بندے جو خود کو چیکر کہلواتے ہیں نے منگلا ڈیم پر شوقیہ شکار کے لیے انے والے لوگوں سے انتہائی بدمعاشی والا رویہ اپنانے لگے یاد رہے کہ شوقیہ شکاری کنڈی اور راڈ پر شکار کرتے ہیں جس کی پرچی 200 روپیہ ہوتی ہے جو ٹھیکیدار کے بندوں کو ادا کر کے پرچی لے کر منگلا ڈیم پر شکار کیا جا سکتا ہے جبکہ ممنوع ایریا میں شکار کرنے کی کسی کو اجازت نہیں ٹھیکے دار خود بھی اس ایریا میں شکار نہیں کر سکتا لیکن ٹھیکدار کے بندے اختیارات کا غلط استعمال کر رہے ہیں پہلے 50 روپے فی کنڈی وصول کی جاتی تھی اب خود ساختہ پرچی کے ریٹ مقرر ہیں 200 روپے والی پرچی کا 2 سے 3 ہزار روپیہ وصول کیا جاتا ہے ذرائع کے مطابق کچھ شوقیہ شکاری کو ہزاروں روپیہ جرمانے کی مد میں ان کو دینا پڑتا ہے مجبوری کے تحت پنجاب کے دور دراز علاقوں سے ائے ہوئے لوگوں سے یہ رویہ اپنایا جاتا ہے مزید کسی مشکل سے بچنے کے لیے لوگ ہزاروں روپیہ دے کر اپنی جان چھڑواتے ہیں دوسری جانب منگلا ڈیم کے ارد گرد بسنے والے عوام کو منگلا ڈیم سے اپنے کھانے کے لیے مچھلی کی شکار کی اجازت نہیں جبکہ مقامی افراد کا کہنا ہے کھانے کے لیے مچھلی پکڑنے پر ٹھیکے دار کے بندے نامناسب رویہ اپناتے ہیں اور خود ممنوعہ ایریا میں منگلا ڈیم کے جس حصے میں مچھلی کا شکار کرنے کی اجازت نہیں اس حصے میں بھی شکار کیا جاتا ہے دوسری جانب عوام کو یہ بھی شکایت ہے منگلہ ڈیم کی مچھلی پرائس کنٹرول لسٹ کے مطابق فروخت نہیں کی جاتی یاد رہے کہ منگلا ڈیم میں ٹھیکے دار کی جانب سے شکار کرنے کے بھی قواعد و ضوابط موجود ہیں جس پر عمل نہیں کیا جا رہا انتظامیہ خود ساختہ مہنگائی کو کنٹرول کرنے کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہی ہے منگلا ڈیم کے معاملات پر بھی ارباب اختیار نوٹس لیں اور مچھلی کے ٹھیکدار کو قواعد و ضوابط کے تحت شکار کرنے کا پابند بنائیں عوام کا مطالبہ شوقیہ شکاریوں اور مقامی افراد سے ہونے والی بدمعاشی کا نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے اور کہا کہ محکمہ فشریز کے کچھ افسران بی ٹھیکدار کی کھلی معاونت کرتے ہیں جتنے سائز کی مچھلی شکار کرنے پر پابندی ہے اس کو روکنے کی بجائے ٹھیکیدار کو کھلی چھٹی دے رکھی ہے انڈر سائز مچھلی کاشتکار بھی تسلی سے کیا جاتا ہے جس پر محکمہ فشریز کے افسران خاموش رہتے ہیں اور منگلا ڈیم کے انتہائی ممنوعہ علاقوں میں جہاں پر ہر قسم کے شکار پر مچھلی کے شکار پر بی پابندی ہے وہاں بھی ٹھیکدار کے بندے ہر سال شکار کرتے ہیں جس پر چھوٹی موٹی کاروائی کر کے خانہ پوری کی جاتی ہے کمشنر میرپور ڈویژن اور ڈپٹی کمشنر میر پور نوٹس لیں عوامی مطالبہ ٹھیکے دار نے اپنا موقف دیتے ہوئے کہا کہ ہم تمام کام درست طریقے سے کر رہے ہیں پرچی کے حوالے سے پوچھا کہ کتنے کی پرچی مقرر ہے تو انہوں نے بتانے سے گریز کیا کہ مجھے زبانی یاد نہیں چیکر کو معلوم ہوگا میں نے ان کو اختیار دے رکھا ہے جیسے چاہیں کام کریں



















