
سید اقرار الحسن کی کھیوڑہ آمد
شعور، نوجوان اور نظام کی تبدیلی کا بیانیہ
رپورٹ :راشد خان
ملک کے نامور صحافی اے آر وائی نیوز سے وابستہ اور مقبول ترین پروگرام (سرِعام) کے میزبان سید اقرار الحسن کی ضلع جہلم کے تاریخی، سیاحتی اور صنعتی شہر کھیوڑہ آمد ایک بامقصد فکری و عوامی تحریک کا حصہ تھی، جس کا بنیادی مقصد نوجوان نسل کو موروثی سیاست، خاندانی اقتدار اور شخصیت پرستی کی غلامی سے نجات دلانا ہے۔ یہ دورہ معروف مقامی صحافی ملک طیب عمیر کی خصوصی دعوت پر عمل میں آیا، جبکہ اس پروگرام کا اہتمام سالٹ رینج میڈیا کلب کے زیرِ انتظام کیا گیا۔کھیوڑہ پہنچنے پر مہمان شہرسید اقرار الحسن کا پرتپاک استقبال کیا گیا۔ اس موقع پر کلب ممبران سمیت شہر دیگر معزز سیاسی سماجی صحافتی شخصیات موجود تھیں۔ مہمان پر پھولوں کی پتیاں نچھاور کی گئیں اور ہار پہنائے گئے۔ بعد ازاں ایک کارنر میٹنگ منعقد ہوئی۔

تقریب کی نظامت کے فرائض مسرت حسین کاظمی نے انجام دیے۔ پروگرام کا باقاعدہ آغاز تلاوتِ کلامِ پاک اور نعتِ رسولِ مقبول ﷺ سے ہوا، جو سرفراز عباس نے پیش کی۔اپنے خطاب میں سید اقرار الحسن نے نوجوانوں سے براہِ راست مخاطب ہوتے ہوئے انہیں اپنی جاری فکری تحریک میں شامل ہونے کی دعوت دی۔ انہوں نے اس سوچ پر شدید تنقید کی کہ “لیڈر صدیوں میں پیدا ہوتے ہیں” اور کہا کہ اس بیانیے نے نوجوانوں کی صلاحیتوں کو محدود کر کے انہیں ذہنی غلامی میں مبتلا کر دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ قیادت کسی ایک خاندان یا مخصوص طبقے کی میراث نہیں، بلکہ ہر نوجوان میں لیڈر بننے کی صلاحیت موجود ہے، بشرطیکہ اسے موقع، اعتماد اور درست پلیٹ فارم فراہم کیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان آج جن سیاسی، معاشی اور سماجی مسائل سے دوچار ہے، ان کی بنیادی وجہ گزشتہ تین سے چار دہائیوں سے چند مخصوص خاندانوں کی سیاست پر اجارہ داری ہے۔ شخصیت پرستی نے قوم کو افراد کے پیچھے چلنے کا عادی بنا دیا، جس کے باعث نظام مضبوط ہونے کے بجائے کمزور ہوتا چلا گیا۔ جب تک نوجوان آگے نہیں آئیں گے اور ایک پلیٹ فارم پر متحد نہیں ہوں گے، تب تک محرومی، ناکامی اور بنیادی سہولتوں کی عدم دستیابی ہمارا مقدر بنی رہے گی۔
سید اقرار الحسن نے کہا کہ قیامِ پاکستان کے بعد، خصوصاً قائداعظم محمد علی جناحؒ کی وفات کے بعد سے ملک مسلسل سیاسی عدم استحکام کا شکار رہا۔ جمہوری ادارے مستحکم ہونے کے بجائے کمزور ہوتے گئے اور اقتدار چند مخصوص سیاسی خاندانوں کے درمیان باریوں کی صورت میں گردش کرتا رہا۔ تاریخ کے مطابق بھٹو خاندان، شریف خاندان اور چند دیگر بااثر گروہ دہائیوں تک اقتدار کے محور رہے، جبکہ عوامی مسائل جوں کے توں رہے۔انہوں نے اس کے ساتھ ساتھ طویل فوجی آمریتوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایوب خان، جنرل ضیاء الحق اور جنرل پرویز مشرف کے ادوار میں جمہوری عمل معطل رہا، آئینی ارتقا رُک گیا اور قوم سیاسی بلوغت کے فطری سفر سے محروم رہی۔ یوں ملک بار بار جمہوریت اور آمریت کے درمیان جھولتا رہا۔
دنیا کی مضبوط جمہوریتوں کی مثال دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ امریکہ میں 1789ء سے صدارتی جمہوریت قائم ہے، جہاں باراک اوباما، جارج بش اور ڈونلڈ ٹرمپ جیسے صدور آئینی مدت پوری کر کے اقتدار چھوڑ گئے۔ نہ ان کے بیٹے اقتدار میں آئے اور نہ ہی قریبی رشتہ دار۔ اسی طرح برطانیہ میں صدیوں سے پارلیمانی جمہوریت قائم ہے جہاں ادارے مضبوط ہیں اور سیاست کسی ایک خاندان کے گرد نہیں گھومتی۔

مقامی صحافیوں کے سوالات کے جواب میں سید اقرار الحسن نے واضح طور پر اس تاثر کی تردید کی کہ انہیں کسی ادارے کی سرپرستی حاصل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کی جدوجہد خالصتاً عوامی شعور اور نوجوانوں کی فکری بیداری کے لیے ہے اور وہ ہر فورم پر شفاف انداز میں اپنا مؤقف پیش کرنے کے لیے تیار ہیں۔
ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ نوجوانوں کو شعور دینے کے لیے کام کرنے والی دیگر تحریکوں سے بھی ان کا رابطہ ہے۔ ان کے مطابق یہ مقابلے کی نہیں بلکہ مشترکہ مقصد کی جدوجہد ہے، اور جتنا زیادہ تعاون ہوگا اتنی ہی تیزی سے مثبت تبدیلی ممکن ہو گی۔فنانسنگ سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ فی الحال تحریک کے اخراجات کوئی بڑا مسئلہ نہیں۔ موجودہ دوروں کے انتظامات دوست احباب خود کر رہے ہیں، گاڑی چینل کی فراہم کردہ ہے جبکہ دیگر ذاتی اخراجات وہ خود برداشت کر رہے ہیں۔ مستقبل میں اگر یہ تحریک باقاعدہ سیاسی جماعت کی شکل اختیار کرتی ہے تو فنڈ ریزنگ کے لیے ایک شفاف اور جمہوری طریقہ کار عوامی مشاورت سے طے کیا جائے گا، جس کی مثال انہوں نے جماعت اسلامی کے تنظیمی ماڈل سے دی۔
سید اقرار الحسن نے واضح کیا کہ ان کا کسی بھی سیاسی جماعت یا رہنما سے کوئی ذاتی عناد یا دشمنی نہیں۔ نہ وہ کسی کی مخالفت کے لیے نکلے ہیں اور نہ اندھی حمایت کے قائل ہیں۔ ان کی جدوجہد محض اپنے حصے کا دیا جلانے کی کوشش ہے، جس کا مقصد نوجوان کو اس قابل بنانا ہے کہ وہ اچھے اور برے میں تمیز کر سکے، خاندانی اثر و رسوخ اور سماجی دباؤ سے بالاتر ہو کر اپنے مقامی نمائندے کا انتخاب کرے۔
انہوں نے کہا کہ جب یہ شعور پیدا ہو جائے گا تو پاکستان کے کسی بھی کونے میں کوئی نااہل یا غلط شخص قیادت کے مقام تک نہیں پہنچ سکے گا۔
انہوں نے مزید بتایا کہ جب تحریک کی رجسٹریشن کا مرحلہ مختلف ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر شروع ہوگا تو ہم خیال افراد کو جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے ایک لڑی میں پرو دیا جائے گا۔ ایک کلک پر ہر فرد کو معلوم ہوگا کہ وہ جہاں موجود ہے وہاں اس جیسے کتنے لوگ جڑے ہوئے ہیں، اور وہ خود کو کبھی تنہا محسوس نہیں کرے گا۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ان شاء اللہ آنے والے دنوں میں وسیم بادامی جیسے قریبی دوست اور ہم خیال شخصیات بھی اس تحریک کا حصہ بنیں گی، کیونکہ ان کے نزدیک اپنے فکری ہم نواؤں کا ساتھ دینا ہی ان کی ذہنی و فکری کامیابی ہے۔خطاب کے اختتام پر سید اقرار الحسن نے پنڈ دادن خان، کھیوڑہ اور گردونواح سے آنے والے تمام سامعین، نوجوانوں اور صحافیوں کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے سالٹ رینج میڈیا کلب اور ملک طیب عمیر کا خصوصی طور پر شکریہ ادا کیا جنہوں نے اس بامقصد پروگرام کے انعقاد اور کامیابی میں کلیدی کردار ادا کیا اور نوجوانوں کو اظہارِ رائے کا ایک مؤثر پلیٹ فارم فراہم کیا۔



















