چیف ایڈیٹر:طارق محمود چودھری  ایڈیٹر: مظہر اقبال چودھری  مینیجنگ ایڈیٹر: ادریس چودھری

اگست 7, 2026 4:52 شام

دینہ (رضوان سیٹھی سے)چراغ تلے اندھیرا، دینہ شہر کی مصروف ترین منگلا روڈ شہری حدود میں عرصہ دراز سے جگہ جگہ پر ٹوٹ پھوٹ کا شکار، آئے روز موٹرسائیکل سوار گر کر زخمی ہونے لگے

دینہ (رضوان سیٹھی سے) دینہ شہر کی مصروف ترین منگلا روڈ شہری حدود میں عرصہ دراز سے جگہ جگہ پر ٹوٹ پھوٹ کا شکار، آئے روز موٹرسائیکل سوار گر کر زخمی ہونے لگے منگلا روڈ سے گزرنے والی قیمتی گاڑیاں بھی تباہ ہونے لگیں راہگیروں کو شدید مشکلات کا سامنا، شہریوں نے وزیر اعلیٰ پنجاب، ڈپٹی کمشنر جہلم اور ہائی وے سے مطالبہ کیاہے کہ منگلا روڈ دینہ کی روڈ کو نئے سرے سے تعمیر کیا جائے۔ تفصیلات کے مطابق دینہ شہر کی اکلوتی مصروف ترین منگلا روڈ شہری حدود میں عرصہ دراز سے جگہ جگہ پر ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے جس کو تعمیر ہوئے کئی سال گزر چکے ہیں اس منگلا روڈ سے روزانہ ہزاروں گا ڑیوں کا گزر ہوتا ہے شہر کی زیادہ ترآبادی کا حصہ منگلا روڈ کی طرف واقع ہے مگر آج تک کسی نے بھی اس طرف توجہ دینا مناسب نہ سمجھا قیمتی گاڑیاں بھی گزرنے کی وجہ سے تباہ ہو رہی ہیں جبکہ روزانہ کی بنیاد پر کئی موٹرسائیکل سوار گر کر زخمی بھی ہو چکے ہیں شہریوں نے شدید احتجاج کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف، ڈی سی جہلم اور محکمہ ہائی وے سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ عرصہ دراز سے بنی منگلا روڈ دینہ کو جلد از جلد نئے سرے سے منگلا روڈ کی تعمیر کرنے کا مطالبہ کیا۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Pinterest
Pocket
WhatsApp

متعلقہ خبریں

جہلم:DHQ ہسپتال جہلم ، چلڈرن وارڈ میں 35 بیڈز پر 70 بچے اور ساتھ 70 مائیں ، بیڈز کی تعداد بڑھائی جائے ، عوامی حلقے ، اس گرمی اور حبس میں ائیرکنڈیشنر 4 سے 5 گھنٹے چلایا جاتا ہے پھر 6گھنٹون کے لئے بند کر دیا جاتا ہے ، مائیں ، وارڈ میں پنکھوں کی ہوا نہ ہونے کے برابر ہے ستم یہ کہ میرے بیڈ پر پنکھا ہی نہیں ،میں ساری رات ہاتھ والے پنکھے سے اپنے بچے کو ہوا دیتی ہوں ، ایک ماں کی دہائی

تازہ ترین خبریں

جہلم:DHQ ہسپتال جہلم ، چلڈرن وارڈ میں 35 بیڈز پر 70 بچے اور ساتھ 70 مائیں ، بیڈز کی تعداد بڑھائی جائے ، عوامی حلقے ، اس گرمی اور حبس میں ائیرکنڈیشنر 4 سے 5 گھنٹے چلایا جاتا ہے پھر 6گھنٹون کے لئے بند کر دیا جاتا ہے ، مائیں ، وارڈ میں پنکھوں کی ہوا نہ ہونے کے برابر ہے ستم یہ کہ میرے بیڈ پر پنکھا ہی نہیں ،میں ساری رات ہاتھ والے پنکھے سے اپنے بچے کو ہوا دیتی ہوں ، ایک ماں کی دہائی