
تحصیل دینہ میں ایک دفعہ پھر 1 پریس کلب بنانے کی جدوجہد جاری۔ تمام صحافی برادری پر بہت بڑی زمہ داری عائد ھو گئی ۔ سینئر صحافیوں میں مشاورت جاری
دینہ( رپورٹ پروفیسر خورشید ڈار)تحصیل دینہ میں ایک دفع پھر پریس کلب بنانے کی جدوجہد کی جا رہی ہے اور توقع کی جاتی ہے کہ مستقبل قریب میں نامزدگی نہیں ہوگی بلکہ الیکشن ہونگے-اس سے تحصیل دینہ کے مسائل بڑی حد تک ختم ہو جائیں گے یہاں پر ایک بات انتہائی ضروری ہے کہ اس وقت تحصیل دینہ میں جتنے بھی پریس کلب کے صدور اور جنرل سیکرٹری وجود رکھتے ہیں وہ تحریری طور پر اس امر کی یقین دہانی کروائیں کے مستقبل میں جو الیکشن ہونا ہے اس الیکشن کا جو بھی رزلٹ ہوگا ان کو قابل قبول ہوگا اور وہ کسی صورت میں بھی اپنا پریس کلب جس میں وہ اس وقت کام کر رہے ہیں وہ بحال نہیں کریں گے کیونکہ ایک پریس کلب کی موجودگی میں ذاتی پریس کلب بنانا وہ زیادتی کے زمرے میں ہوگا اور تمام صحافیوں کا فرض بنتا ہے کہ ہر وہ شخص جو فیلڈ میں کام کرتا ہے اس کو ووٹ دیں تاکہ وہ بہتر طریقے ہیں کام کر سکے تمام صحافی قابل احترام ہیں لیکن ووٹ کا حقدار صرف اور صرف صدر یا جنرل سیکرٹری ہو سکتا ہے جو فیلڈ میں کام کرتا ہو-کسی چہرے کو پسند یا ناپسند کی بنیاد پر ووٹ نہیں دینا چاہیے- اگر اس نقطے پر ہم نے عمل کیا تو یقینا تحصیل دینہ کی انتظامیہ ہمارے وقار کو مدنظر رکھے گی



















