
رمضان میں روزے کی حُرمت، خود احتسابی اور اصلاحِ معاشرہ کا پیغام
بقلم: ڈاکٹر فیض احمد بھٹی
رمضان المبارک کا مہینہ اپنے ساتھ برکتوں، رحمتوں اور مغفرتوں کی ایک ایسی بہار لے کر آتا ہے، جس میں ایمان تازہ ہوتا ہے، دل نرم پڑ جاتے ہیں اور روح کو سکون نصیب ہوتا ہے۔ یہ صرف بھوک اور پیاس برداشت کرنے کا نام نہیں؛ بلکہ صبر اور ایثار کا عملی درس ہے۔ یہ مہینہ انسان کو اس کی اصل حقیقت سے روشناس کرواتا اور اسے یاد دلاتا ہے کہ زندگی کا مقصد محض نفسانی خواہشات کی تکمیل نہیں؛ بلکہ دوسروں کے دکھ درد کو محسوس کرنا اور ان کے لیے آسانیاں پیدا کرنا بھی ہے۔
روزہ انسان کے اندر تقوے کی وہ صلاحیت پیدا کرتا ہے، جو اسے برائیوں سے دور اور نیکیوں کے قریب لے جاتی ہے۔ جب ایک صاحبِ حیثیت شخص دن بھر بھوک اور پیاس کی شدت محسوس کرتا ہے، تو اسے ان لاکھوں افراد کی محرومیوں کا اندازہ ہوتا ہے، جو سال بھر اسی کیفیت میں گزر بسر پر مجبور ہوتے ہیں۔ یہی احساس ہمدردی کو جنم دیتا ہے اور یہی ہمدردی معاشرے میں محبت اور اخوت کی بنیاد بنتی ہے۔
رمضان المبارک خود احتسابی کا بھی مہینہ ہے۔ یہ ہمیں اپنے کردار کا جائزہ لینے کی دعوت دیتا ہے۔ یہ مہینہ ہمیں سکھاتا ہے کہ ہم نہ صرف اپنے رب کے سامنے جواب دہ ہیں، بلکہ اپنے معاشرے کے ان مظلوموں کے سامنے بھی جواب دہ ہیں، جن کا حق کھایا ہے۔
ایک مہذب معاشرہ اسی وقت وجود میں آتا ہے جب اس کے افراد ایک دوسرے کے حقوق کا احترام کریں اور یہ یقین رکھیں کہ آج جن کے حقوق غصب کیے ہیں، روزِ محشر یہ ادا کرنے ہوں گے۔ یا تو ان کے بدلے میں اپنی نیکیاں دینی پڑیں گی یا مظلوموں کے گناہ لینے پڑیں گے۔
اس بابرکت مہینے میں صاحبِ استطاعت افراد کی ذمہ داری مزید بڑھ جاتی ہے۔ یہ وہ وقت ہے جب دل کھول کر یتیموں، بیواؤں اور نادار خاندانوں کی مدد کی جائے۔ کسی ضرورت مند کے گھر میں راشن پہنچانا یا کسی مجبور انسان کی مالی پریشانی کو کم کرنا درحقیقت عبادت کی وہ صورتیں ہیں جو اللہ تعالیٰ کو بے حد پسند ہیں۔ رمضان ہمیں یہ پیغام دیتا ہے کہ حقیقی خوشی دوسروں کو خوشی دینے میں ہے۔
افسوس کا مقام یہ ہے کہ اسی مقدس مہینے میں بعض عناصر ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خوری جیسے غیر اخلاقی اور غیر انسانی اعمال میں ملوث ہو جاتے ہیں۔ یہ رویہ نہ صرف اسلامی تعلیمات کے منافی ہے، بلکہ معاشرتی انصاف کے اصولوں کی بھی کھلی خلاف ورزی ہے۔ رمضان ہمیں آسانیاں پیدا کرنے کا درس دیتا ہے نہ کہ مشکلات بڑھانے کا۔ اشیائے ضرورت کی مصنوعی قلت پیدا کرنا اور قیمتوں میں بے جا اضافہ کرنا ایک ایسا ظلم ہے، جس کی سزا دنیا و آخرت دونوں ادوار میں ملے گی۔
یہ حکومت کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ رمضان المبارک کے دوران اشیائے ضرورت کی مناسب قیمتوں پر فراہمی کو یقینی بنائے اور ناجائز منافع خوری کرنے والوں کے خلاف مؤثر کارروائی کرے۔ اسی طرح مخیر حضرات اور فلاحی اداروں کو بھی آگے بڑھ کر غریب اور مستحق طبقات کو ریلیف فراہم کرنا چاہیے۔ تاکہ کوئی بھی شخص اس مقدس مہینے میں بے بسی اور محرومی کا شکار نہ رہے۔
روزے کی حرمت کا تقاضا یہ ہے کہ انسان ہر اس برائی سے اجتناب کرے جو اس کی اخلاقیات کو مجروح کرتی اور اس کے کردار کو داغدار بناتی ہے۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: "جو شخص روزے کی حالت میں جھوٹ بولنا، جہالت کی باتیں کرنا اور ان پر عمل کرنا نہ چھوڑے، تو اللہ کو کوئی ضرورت نہیں کہ وہ اپنا کھانا پینا چھوڑے”۔ [صحیح البخاری] یہ حدیث پاک اس حقیقت کو نہایت واضح انداز میں بیان کرتی ہے کہ روزہ صرف ظاہری بھوک اور پیاس کا نام نہیں؛ بلکہ یہ باطن کی اصلاح کا نام ہے۔ اس فرمانِ نبوی کا مفہوم یہ ہے کہ روزے کو محض کھانے پینے سے رُک جانے تک محدود نہ سمجھا جائے۔روزے کی اصل غرض و غایت یہ ہے کہ انسان اپنی خواہشاتِ نفس کو قابو میں رکھے، اپنے قول و فعل کو پاکیزگی عطا کرے اور ہر قسم کے چھوٹے بڑے گناہوں سے خود کو محفوظ رکھے۔ جھوٹ، غیبت، برے اعمال، حقوق کی پامالی اور گالی گلوچ جیسی برائیاں روزے کی روح کو متاثر کرتی اور اس کے اصل مقصد کو کمزور کر دیتی ہیں۔ اگر انسان ان منفی رویوں سے اجتناب نہیں کرتا، تو اسے یہ خطرہ لاحق رہتا ہے کہ اس کی یہ عبادت شرفِ قبولیت نہ پا سکے اور اس کی تمام محنت اکارت ہو جائے۔ غور طلب بات یہ ہے کہ یہ تمام امور عام حالات میں بھی ممنوع ہیں، لیکن روزے کی حالت میں ان سے بچنے کی تاکید اور بھی زیادہ ہو جاتی ہے۔ وگرنہ پھر روزہ کیا ہوا!
یہی وجہ ہے کہ روزہ انسان کو محض جسمانی ضبط کا نہیں بلکہ اخلاقی تطہیر کا بھی درس دیتا ہے۔ جھوٹ، غیبت اور فحش کلامی جیسے امورِ رذیلہ سے اس لیے منع کیا گیا ہے کہ یہ نہ صرف انسانی کردار کو مجروح کرتے ہیں بلکہ روزے کے مقصد کو بھی فوت کر دیتے ہیں۔ جب زبان اور عمل پاکیزہ ہو جائیں، تبھی روزہ اپنی حقیقی تاثیر دکھاتا ہے اور روزے دار اس کے ثمرات سے مستفید ہو سکتا ہے۔ بصورتِ دیگر، انسان روزے کی ظاہری حالت تو اختیار کر لیتا ہے، مگر اس کی اصل روح اور اس کی برکتوں سے محروم رہ جاتا ہے۔
رمضان المبارک کا مہینہ دراصل ایک تربیتی مشق ہے، جو ہمیں ہمدردی اور قربانی کا عملی سبق دیتی ہے۔ اگر ہم اس مہینے کی اصل روح کو سمجھ لیں اور اسے اپنی زندگی کا حصہ بنا لیں تو نہ صرف ہماری انفرادی زندگی سنور سکتی ہے؛ بلکہ ہمارا معاشرہ بھی امن، محبت اور انصاف کا گہوارہ بن سکتا ہے۔ رمضان کا اصل پیغام یہی ہے کہ ہم بہتر انسان بنیں اور ایک بہتر معاشرے کی تشکیل میں اپنا کردار ادا کریں۔



















