
*پاکستان کی ایٹمی کامیابی میں سعودی عرب کا تاریخی کردار*بقلم: ڈاکٹر فیض احمد بھٹی
قوموں کی زندگی میں کچھ فیصلے ایسے ہوتے ہیں، جو صرف اُس وقت کی سیاست نہیں بدلتے، بلکہ آنے والی نسلوں کی یادداشت میں بھی ہمیشہ کےلیے ثبت ہو جاتے ہیں۔ 28 مئی 1998ء پاکستان کی تاریخ کا ایسا ہی دن تھا۔ چاغی کے پہاڑوں کے اندر کیے گئے ایٹمی تجربات نہ صرف دھماکے تھے، بلکہ یہ اُس قومی ارادے، خودداری اور دفاعی شعور کا اظہار تھا، جس نے پاکستان کو دنیا کے نقشے پر ایک نئی شناخت دی۔ *اس* دن پاکستان نے دنیا کو بتا دیا کہ وہ اپنے دفاع اور وقار کے معاملے میں کسی دباؤ کے سامنے جھکنے والا نہیں۔ *لیکن* ہر بڑے فیصلے کی ایک قیمت بھی ہوتی ہے۔ لہذا پاکستان نے جب ایٹمی دھماکے کیے، تو مغربی دنیا میں بےچینی پھیل گئی۔ مخالفتوں، پابندیوں اور معاشی دباؤ کے نتیجے میں پاکستان کو ایک ایسے وقت میں شدید اقتصادی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، جب پہلے ہی معیشت کافی کمزور تھی۔ *ایسے* حالات میں یہ سوال بہت اہم ہو جاتا ہے کہ مشکل گھڑی میں کون ساتھ کھڑا ہوا، کس نے صرف بیانات دیے اور کس نے عملاً ہاتھ تھاما؟! *تاریخ* گواہی دیتی ہے کہ اس موقع پر سعودی عرب نے پاکستان کےلیے صرف زبانی ہمدردی کا اظہار نہیں کیا، بلکہ برادرانہ تعلق کو عملی امداد میں بدل کر دکھایا۔*یاد رہے!* ایٹمی دھماکوں کے بعد جب پاکستانی قیادت نے مختلف ممالک کا رخ کیا، تو سب سے پہلے سعودی عرب جانا ہوا۔ وہاں جو رویہ سامنے آیا، جو پیار ملا وہ آج بھی اسلامی یکجہتی کے ایک روشن اور خوبصورت باب کے طور پر یاد کیا جاتا ہے۔ *اِس* موقع پر پوری سعودی قیادت نے پاکستان کو مبارکباد دیتے ہوئے یہ پیغام دیا کہ "آپ پہلی اسلامی ایٹمی طاقت بنے ہیں، جس سے ہمارا بھی قد کاٹھ اور مقام بلند ہوا ہے”۔*غور کیجیے!* یہ جملہ صرف رسمی تعریف نہیں تھا؛ بلکہ ایک گہرے احساس کا اظہار تھا کہ پاکستان کی یہ کامیابی صرف پاکستان کی نہیں، بلکہ پوری امتِ مسلمہ کی کامیابی ہے۔ اُس وقت شاہ فہد سعودی عرب کے سربراہ تھے اور شہزادہ عبداللہ کراؤن پرنس کی حیثیت سے ریاستی امور سنبھال رہے تھے۔ شہزادہ عبداللہ نے ملاقات کے دوران راجہ ظفر الحق کو یہ پیغام دیا کہ سعودی قیادت نے پاکستان کے بارے میں چند اہم فیصلے کیے ہیں۔ جن سے خود شاہ فہد آپ کو آگاہ کریں گے۔ *اس وقت شاہ فہد شدید علیل تھے، مگر اس کے باوجود انہوں نے پاکستانی قیادت سے ملاقات پر اصرار کیا۔ روایت کے مطابق جب راجہ صاحب نے کہا کہ کنگ فہد تو کافی بیمار ہیں۔ آپ انہیں ملاقات کی زحمت نہ دیں! تو شاہ عبداللہ کا کہنا تھا کہ وہ آپ کا بذاتِ خود انتظار کر رہے ہیں۔ راجہ صاحب جب وہاں پہنچے، تو شاہ فہد نے اٹھنے کی کوشش کی، مگر شدید بیماری کے باعث کھڑے نہ ہو سکے، اور معذرت کرتے ہوئے کہا کہ در اصل وہ اس عظیم خوشی کے موقع پر احتراماً اٹھنا چاہتے تھے، مگر صحت اجازت نہیں دے رہی۔* یہ منظر شاید سفارت کاری کی کتابوں میں نہ لکھا جائے، مگر دلوں کی تاریخ میں ایسے مناظر ہمیشہ محفوظ رہتے ہیں۔*اس ملاقات* میں سعودی عرب نے بڑے بھائی کا کردار ادا کیا اور پاکستان کےلیے وہ کچھ کیا، جو کوئی اور برادر اسلامی ملک نہیں کر سکا۔ سعودی قیادت نے سب سے پہلے یہ نکتہ واضح کیا کہ ہم جانتے ہیں کہ ایٹمی دھماکوں کے بعد پاکستان پر سب سے بڑا معاشی دباؤ تیل کی درآمدات کی وجہ سے پڑا ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ پاکستان کو سعودی عرب کی طرف سے تین ارب ڈالر مالیت کا پٹرول فری فراہم کیا جائے گا۔ آج کے نوجوان اس فیصلے کی اہمیت پوری طرح محسوس کر سکیں گے، جب آبنائے ہرمز جیسے عوامل کی وجہ سے تیل کی رسد متاثر ہو اور قیمتیں آسمان سے باتیں کرنے لگیں۔ سو اُس وقت پاکستان کےلیے یہ سہارا غیر معمولی مدد اور ناقابل فراموش خدمت تھی۔ جب زرمبادلہ کے ذخائر دباؤ میں تھے، پابندیاں لگی تھیں اور عالمی مالیاتی نظام میں راستے تنگ ہو رہے تھے، تب تیل جیسی بنیادی ضرورت میں انتہا درجے کا ریلیف ملنا دراصل ایک معاشی لائف لائن تھا۔*اس کے بعد* انہوں نے کہا کہ دوسرا بڑا مسئلہ پام آئل کا ہے، جو پاکستان کی روزمرہ ضرورت اور گھریلو معیشت سے براہِ راست جڑا ہوا ہے۔ یہاں بھی صرف خیرسگالی کے الفاظ پر اکتفا نہ کیا، بلکہ ملائشیا کے ساتھ مل کر ایک عملی راستہ نکالا۔ اور پاکستان کےلیے 500 ملین ڈالر کی کریڈٹ لائن پر پام آئل کی فراہمی کا بندوبست کیا گیا، تاکہ ضروری درآمدات کا سلسلہ جاری رہے اور پاکستان کو فوری ادائیگیوں کے بوجھ تلے مزید نہ دبنا پڑے۔ گویا سعودی عرب نے پاکستان کے اس وقت مالی بحران میں اس کی معاشی سانسیں بحال رکھنے کےلیے بہت بڑا قدم اٹھایا۔ *یہی وہ فرق ہوتا ہے، جو مشکل کے وقت ایک رسمی دوست اور ایک مخلص دوست میں امتیاز پیدا کرتا ہے۔* یہاں ایک اور نہایت اہم پہلو بھی سامنے آیا، اور وہ تھا پاکستانی محنت کشوں کا۔ سعودی قیادت نے اس حقیقت کو تسلیم کیا کہ لاکھوں پاکستانی سعودی عرب میں مختلف شعبوں میں کام کر رہے ہیں۔ ان کی موجودگی نہ صرف دونوں ممالک کے تعلقات کا حصہ ہے، بلکہ پاکستان کی معیشت کےلیے بھی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے۔ اسی لیے شاہ فہد نے راجہ صاحب کو یہ یقین دہانی بھی کرائی کہ جہاں تک ممکن ہوا، پاکستانیوں کے لیے روزگار کے مواقع میں اضافہ کیا جائے گا۔ اور انہیں بڑی تعداد میں مفت ویزوں کی سہولت فراہم کی جائے گی۔*یہ اعلان بظاہر ایک سادہ جملہ لگتا ہے، مگر درحقیقت اس کے اندر ہزاروں خاندانوں کی امیدیں، لاکھوں گھروں کے چولہے اور پاکستان کی معیشت میں آنے والے قیمتی ترسیلاتِ زر کی ایک پوری داستان پوشیدہ تھی۔* مشکلات میں گھرے پاکستانیوں کےلیے سعودی عرب کا کیا ہی خلوص، احساس اور احسان تھا!!!*یہ سب کچھ* اُس وقت ہوا جب دنیا کے کئی طاقتور ممالک پاکستان کو تنہا کرنے، دباؤ میں لانے اور جھکانے کی کوشش کر رہے تھے۔ ایسے ماحول میں سعودی عرب کا یہ تعاون پاکستان کےلیے صرف اقتصادی ریلیف نہ تھا، بلکہ ایک نفسیاتی اور سفارتی سہارا بھی تھا۔ جس سے پوری دنیا میں یہ پیغام گیا کہ پاکستان تنہا نہیں، بلکہ اسلامی دنیا میں ایسے ممالک بھی موجود ہیں، جو اس مشکل گھڑی میں پاکستان کے ساتھ شانہ بہ شانہ کھڑے ہیں۔ بین الاقوامی سیاست میں بعض اوقات ایک دوستانہ اشارہ بھی بڑی طاقت رکھتا ہے جبکہ ایک معاشی پیکیج دینا تو پورے قومی اعتماد کو بحال کر دیتا ہے۔ سو سعودی عرب نے سفارتی اور معاشی دونوں حوالوں سے پاکستان کا بھرپور ساتھ دیا۔*صرف اسی پہ بس نہیں،* بلکہ ایٹمی بم بنانے میں ابتدا سے انتہا تک سعودی عرب نے قدم بہ قدم پاکستان کے ساتھ مالی اور سفارتی تعاون کیا، ماضی کی تمام جنگوں اور بحرانوں میں بھی اور پھر اس کے بعد بھی جب کبھی پاکستان کسی بڑے بحران سے گزرا، سعودی عرب نے کسی نہ کسی انداز میں اس کی مدد ضرور کی۔*یوں تو پاکستان* کو ابتدائی دنوں ہی سے سعودی عرب کی بھرپور حمایت حاصل رہی۔ البتہ 1998ء کے ایٹمی دھماکوں کے بعد کا یہ مرحلہ اس لیے زیادہ اہم ہے کہ اُس وقت پاکستان عالمی سطح پر ایک انتہائی نازک موڑ پر کھڑا تھا، اور ایسے میں سعودی عرب نے پاکستان کا جس طرح ہاتھ تھاما اور اس کا بوجھ ہلکا کیا، وہ رہتی دنیا تک یاد رہے گا۔*آج جب ہم* ماضی کے ان ابواب کو پلٹتے ہیں تو ایک سوال خود بخود ذہن میں آتا ہے: کیا ہم نے بطور قوم اپنے ان تعلقات کی قدر کی؟ کیا ہم نے اُن دوستوں کو صحیح معنی میں پہچانا، جو آزمائش کے دنوں میں ہمارے ساتھ کھڑے رہے؟ کیا ہم سعودی عرب کی ان نیکیوں اور احسانات کو ذہن نشیں کیے ہوئے ہیں؟*یاد رہے!* بین الاقوامی تعلقات میں جذبات کی جگہ مفادات لیتے ہیں، مگر کچھ مفادات ایسے بھی ہوتے ہیں، جن کے پیچھے اعتماد، اخلاص اور باہمی احترام کی ایک تاریخ موجود ہوتی ہے۔ سعودی عرب اور پاکستان کے تعلقات بھی اسی زمرے میں آتے ہیں۔*پاکستان نے ایٹمی دھماکے کر کے اپنے دفاع کو ناقابلِ تسخیر بنایا، اور اس کے بعد سعودی عرب نے معاشی اور سفارتی سطح پر ساتھ دے کر ثابت کیا کہ قومیں صرف ہتھیاروں سے نہیں، بلکہ دوستوں کی سچائی سے بھی مضبوط ہوتی ہیں۔* لہذا تاریخ کے یہ سنہری لمحات ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ اصل دوستی تقریروں میں نہیں، بلکہ مشکل وقت میں کیے گئے عملی اقدامات میں نظر آتی ہے۔ سعودی عرب نے ہمیشہ پاکستان کے ساتھ اعلی دوستی نبھائی، جو تاحال شاندار انداز میں چلی آ رہی ہے۔ یہی وہ حقیقت ہے جسے تاریخ کبھی فراموش نہیں کرے گی۔ *اسی طرح* سعودی عرب کا یہ احسان بھی کبھی نہیں بھولا جا سکتا کہ جب ایک آمر نے نواز شریف سمیت ان کے خاندان کی زندگی ختم کرنے کا فیصلہ کیا، تو اس ملک نے نواز شریف کو اس آمر کے چنگل سے نکالا اور اپنے ہاں نہ صرف پناہ دی، بلکہ شاہی مہمان کے طور پر ان کی میزبانی بھی کی۔ اور پھر یہی خاندان پاکستان کےلیے اصلی معمار ثابت ہوا۔ *اسی طرح* پاکستان کو اپنے دفاعی معاہدے میں لا کر محافظ حرمین شریفین کا اعزاز بخشا۔ جس سے پاکستان کا نہ صرف وقار بلند ہوا، بلکہ پاکستان کے ناقابل تسخیر قوت ہونے پر ایک مہر بھی ثبت ہوئی۔*علاوہ ازیں* قدرتی آفات: سیلاب ہو کہ زلزلہ، یا پھر ماہِ رمضان آئے یا حج کا مہینہ، ہر موقع پر سعودی عرب نے پاکستان سے بےمثال تعاون کیا۔ پاکستان میں اپنے خرچے پر بڑے بڑے ہسپتال تعمیر کروائے، زلزلہ زدگان کےلیے فی سبیل اللہ رہائشی کالونیاں تعمیر کروائیں، جگہ جگہ فری طبی کیمپس لگوائے، انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد بنوائی، دارالحکومت میں دیدہ زیب فیصل مسجد بنوائی،،،، وغیرہ وغیرہ۔*قارئین! سعودی عرب کے اتنے اِحسانات کے باوجود، اگر کوئی حاسد یہ پراپیگنڈہ کرے کہ سعودی عرب تو پاکستان میں صرف ایک مخصوص طبقے کو چند مسجدیں اور مدارس ہی بنوا کر دیتا ہے اور کچھ نہیں! تو ایسے حاسدین اور شرپسند عناصر کے متعلق اِس کے سوا کیا کہا جا سکتا ہے، کہ یہ جس تھالی میں کھاتے ہیں، اُسی میں چھید کرتے ہیں!!!* ہاں اِن احسانات کے پیشِ نظر ہر احسان شناس اور محب وطن پاکستانی کا دل سعودی عرب کےلیے دائم دھڑکتا رہے گا۔ اللّٰہ تعالیٰ سعودی عرب پہ اپنا سایہ کرم ہمیشہ قائم رکھے اور پاکستان کے ساتھ یہ برادرانہ تعلقات تا قیامت دائم رہیں، آمین!



















