
*ایک طرف جنگ کے شعلے، دوسری طرف سوشل میڈیا پر نفرت کے شعلے*بقلم:*ڈاکٹر فیض احمد بھٹی*
جب پوری دنیا جنگ، بے یقینی، خوف اور معاشی دباؤ کی لپیٹ میں ہو، تو سمجھدار قومیں اپنے اختلافات کم کرتی ہیں، اپنے اندر اتحاد پیدا کرتی ہیں اور آنے والے خطرات کا سامنا کرنے کےلیے خود کو تیار کرتی ہیں۔ لیکن بدقسمتی سے ہم ایک ایسے نہج پر کھڑے ہیں، جہاں عالمی حالات بھی خراب ہیں اور ہمارے اجتماعی رویے بھی۔آج مشرقِ وسطیٰ میں ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے پورے خطے کو ایک ایسے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے، جہاں کسی لمحہ بھی کوئی مزید بڑا سانحہ جنم لے سکتا ہے۔ کیونکہ ایران پر کم درجے کے ایٹمی حملوں کی باتیں بھی ہو رہی ہیں۔یاد رکھیں! کسی ملک کی جنگ کے شعلے بظاہر سرحدوں تک محدود دکھائی دیتے ہیں، مگر در حقیقت ان کے اثرات میدانِ جنگ تک محدود نہیں؛ بلکہ اس کے مکروہ سائے پوری دنیا بالخصوص آس پاس کے ممالک کی معیشت، تجارت، تیل، اشیائے خورونوش، ذرائع نقل و حمل، روزگار اور عام آدمی کی زندگی تک پھیل جاتے ہیں۔اس وقت پوری دنیا غیر یقینی کی کیفیت میں مبتلا ہے کہ اگلے دن کا سورج معلوم نہیں کیا کیا بری خبر لائے گا۔ لیکن اس سے بھی زیادہ افسوسناک بات یہ ہے کہ ایسے نازک اور حساس ترین حالات میں بھی ہم پاکستانی لوگ غیر ضروری بحثوں، سیاسی و مذہبی نفرتوں اور سوشل میڈیا کی زہریلی گفتگو میں الجھے ہوئے ہیں۔ ایک طرف دنیا میں جنگ کے شعلے بلند ہو رہے ہیں، تو دوسری طرف ہمارے معاشرے میں نفرت کے شعلے بھڑک رہے ہیں۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ہم نے اپنی مثبت ترجیحات ہی کھو دی ہیں۔آج سوشل میڈیا، خاص طور پر ایکس (سابقہ ٹوئٹر)، واٹس ایپ گروپس، یوٹیوب چینلز اور ٹیلی ویژن ٹاک شوز، سنجیدہ قومی مکالمے کی بجائے ذاتی دشمنیوں، گروہی تعصبات، سیاسی انتقام اور فرقہ واریت کے اکھاڑے بن چکے ہیں۔ جیسے دو پہلوان ایک دوسرے کو چاروں شانے چِت کرنے کےلیے آپس میں گتھم گتھا ہوتے ہیں، ایسے ہی سیاست اور مذہب کے نمائندے اور پیروکار فتح و شکست کی نفسیات میں ڈبکیاں لگا رہے ہیں۔ہر کوئی چیزوں کو بلیک اینڈ وائٹ کے تناظر میں دیکھ رہا ہے۔ یعنی ایک ایک انتہا پر کھڑا ہے اور دوسرا دوسری انتہا پر۔ لوگ گھنٹوں ایک دوسرے کو نیچا دکھانے، گالیاں دینے، کردار کشی کرنے اور نفرت پھیلانے میں لگے رہتے ہیں، مگر کسی کے پاس اتنا وقت نہیں کہ وہ ایک لمحہ رک کر یہ سوچے کہ ان ہولناک حالات کے باعث ملک کہاں جا رہا ہے؟! قوم کس بحران سے گزر رہی ہے؟! اور آنے والا وقت کیا رخ اختیار کر سکتا ہے؟!ہمیں یہ حقیقت تسلیم کرنی ہوگی کہ جنگوں کے بھیانک اثرات صرف جنگ میں مبتلا ملکوں پر ہی نہیں پڑتے، بلکہ ان کے اثرات ہمسایہ ممالک میں بھی مہنگائی، اشیا کی قلت، بے روزگاری، بے چینی اور سماجی ٹوٹ پھوٹ کی صورت میں عوام کے گھروں تک پہنچ جاتے ہیں۔ جب عالمی سطح پر تیل مہنگا ہوتا ہے، تو اس کا اثر صرف پٹرول پمپ تک محدود نہیں رہتا، بلکہ سبزی، آٹا، چینی، دودھ، دوائی، کرایہ، بجلی، ٹرانسپورٹ اور روزمرہ زندگی کے ہر شعبے پر پڑتا ہے۔سو حالیہ جنگ کے پیش نظر پاکستان میں متوسط طبقہ بھی اس دباؤ کے نیچے آ چکا ہے، جسے کبھی نسبتاً محفوظ سمجھا جاتا تھا۔ غریب تو خیر پہلے ہی پس رہا تھا، مگر اب تو سفید پوش طبقے کی چیخیں بھی سنائی دینے لگی ہیں۔جبکہ پاکستان جیسے ملک کےلیے تو یہ صورتِ حال اور بھی زیادہ تشویشناک ہے، کیونکہ ہم پہلے ہی معاشی کمزوری، سیاسی عدم استحکام، داخلی انتشار، دہشتگردی اور سکیورٹی چیلنجز کا سامنا کر رہے ہیں۔ایک طرف مشرقی سرحد پر بھارت کی مستقل جارحانہ سوچ اور خفیہ مداخلت ہے، جس کے نتیجے میں بلوچ دہشت گرد تنظیمیں بدامنی پھیلا رہی ہیں۔ اور دوسری طرف مغربی سرحد پر خوارج سے جنگ جاری ہے۔ اور ہمسایہ ملک ایران میں جنگی صورت حال انتہائی خطرناک موڑ اختیار کیے ہوئے ہے۔ایسے میں اگر قوم کا ذہن باہمی نفرت، فضول مباحث، داخلی انتشار اور ناشکرے پن میں الجھا رہے، تو یہ اجتماعی خودکشی کے مترادف ہے۔ بحث اگر تعمیری ہو تو مفید ہوتی ہے، اور اگر مقصد تخریب و تشنیع ہو تو سماج ٹوٹ پھوٹ جاتا ہے۔ اور معاشرے کی رگوں میں زہر گھل جاتا ہے۔لکھاری حضرات اور پوسٹوں کے نیچے تبصرے کرنے والے قارئین، دل میں جو آتا ہے بغیر سوچے سمجھے لکھ ڈالتے ہیں، لعن طعن کی بوچھاڑ کر دیتے ہیں اور یہ نہیں سوچتے کہ معاشرے پر اس کے کس قدر برے اثرات پڑیں گے۔ لہذا ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ قومیں ٹوئٹر ٹرینڈز یا کھوکھلی شہرت سے نہیں، بلکہ اجتماعی شعور اور احساسِ ذمہ داری سے بچتی ہیں۔وطن عزیز کو اس وقت شور نہیں شعور چاہیے، طنز نہیں تدبر چاہیے، نفرت نہیں محبت چاہیے، تفرقہ نہیں اتفاق چاہیے۔ تنقیدی مباحث نہیں تعمیری آراء چاہییں۔اگر اس وقت بھی ہم نے اپنے رویے نہ بدلے، فضول بحثیں نہ چھوڑیں، اپنی زبان اور لہجے کو لگام نہ دی اور اپنی ترجیحات درست نہ کیں، تو آنے والے حالات ہمارے لیے مزید سخت اور خطرناک ہو سکتے ہیں۔لہذا یہ وقت ایک دوسرے کو کافر، غدار، جاہل، پٹواری، لفافی، یوتھیا یا کسی اور لیبل سے نوازنے کا نہیں ہے؛ بلکہ یہ وقت یہ سوچنے کا ہے کہ اگر خدانخواستہ حالات مزید بگڑتے ہیں، تو کیا ہم ایک قوم کی طرح کھڑے ہوں گے یا پھر حسبِ معمول ایک دوسرے کی ٹانگیں ہی کھینچتے رہیں گے؟؟!!ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ باہر کی جنگ سے پہلے اندر کی جنگ قوموں کو تباہ کرتی ہے۔ اگر ہمارے دل یوں ہی نفرتوں سے بھرتے گئے، اگر ہماری زبانیں زہر اگلتی رہیں، اگر ہمارے گھروں، مسجدوں، سکرینوں اور محفلوں میں صرف تقسیم ہی تقسیم چلتی رہی، تو دشمن کو ہمیں نقصان پہنچانے کےلیے کوئی زیادہ محنت نہیں کرنی پڑے گی۔ اسے ضرورت نہیں ہو گی کہ وہ ہمیں تباہ کرنے کےلیے اسلحہ و بارود استعمال کرے؛ بلکہ اپنی بربادی کےلیے ہم ہی کافی ہیں۔ ہم اپنے گھروں کو اپنے ہی چراغوں سے جلانے کی "صلاحیت” رکھتے ہیں۔ اور اس میں ہم برسوں کی "محنت” کے بعد اب خودکفیل ہو چکے ہیں!!!بھلے مانسو! آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنے اختلافات کو مکمل طور پر ختم نہ بھی کر سکیں، تو کم از کم ان کے اظہار میں خاموشی یا پھر شائستگی اور برداشت ضرور پیدا کریں۔ مسلکی رجحان اپنی جگہ، سیاسی نظریہ اپنی جگہ، مگر اس وقت ملکی مفادات اور قومی یگانگت سب سے اوپر ہونے چاہییں۔ جنگی اور بحرانی حالات میں قومیں اپنے اندر امن و سلامتی اور ٹھہراؤ پیدا کرتی ہیں، تاکہ باہر کے خطرات کا ڈٹ کر مقابلہ کر سکیں۔اس لیے خدارا! ہوش کے ناخن لیجیے۔ یہ وقت تقسیم ہونے کا نہیں، متحد ہونے کا ہے۔ کیونکہ جب کوئی گھر جل رہا ہو، تو عقلمند قومیں جلتی پر تیل نہیں ڈالتیں، اسے بجھاتی ہیں اور ایک دوسرے کو بچاتی ہیں!



















