

جہلم ( پروفیسر خورشید علی ڈار).ان ایام میں سوشل میڈیا پر بجلی کے متعلق یہ اطلاع ا رہی ہے کہ بجلی کے بل پر کیو ار ہوگا اس کو ٹچ کریں یہ کریں وہ کریں یہ اتنا پیچیدہ سا مسئلہ حکومت نے اور محکموں نے بنا دیا ہے کہ ایک عام ادمی کی دسترس میں نہیں ہے کہ وہ یہ سمجھ سکے کہ اس کا حل کیا ہے ۔۔اب یہ جو موجودہ کوڈ ہے اگر کوئی شہری اس کا استعمال کرتا ہے تو جب وہ ایک اپنا نام دے گا تو اس کے نام پر مزید ایک اور میٹر لگا ہو خود بخود وہ بھی ظاہر ہو جائے گا مقصد صرف یہ ہے کہ ایک میٹر ریڈر ہر ماہ کی ایک مخصوص تاریخ پر ریڈنگ لینے کے لیے جاتا ہے کیا میٹر ریڈر کے ذریعے یہ کلیکشن حاصل نہیں کی جا سکتی کہ ان کے گھر کتنے میٹر ہیں کن کے نام ہیں کتنے جینون ہے کتنے انجینون ہیں اب یہاں پر ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیو ار کے حوالے سے جو مشکلات شہریوں کو ہو سکتی ہیں کیو ار میں نہ یہ انفارمیشن دی جا سکتی ہے نہ لی جا سکتی ہے ایک مالک مکان نے کرائے دار کے نام پر میٹر لگا رکھا ہے اور دو سال کے بعد وہ کرایہ دار مکان چھوڑ کر چلا گیا ہے اس کی جگہ کوئی نیا کرایہ دار آگیا ہے اب اس کا حل کیا ہوگا؟؟کیو ار میں یہ چیز منشن نہیں ہے اسی طرح ایک شہری ہے اس کے گھر دو میٹر ہیں پہلا میٹر گھر کے سربراہ کے نام پر ہے یعنی والد کے نام پر اور والد صاحب دنیا سے چلے گئے ہیں اب اس کے بیٹے زندہ ہیں اور اس نے بھی اپنے نام پر میٹر لگوا رکھا ہے اب کیو ا کے حوالے سے جب وہ مر گیا ہے تو اس کا شناختی کارڈ نہیں ہے تو وہ اس کو کیسے کرے گا ایک پیچیدگی دانستہ طور پر پھیلی جا رہی ہے مسئلے کی حل کی طرف نہیں جایا جا رہا خدارا کوئی ایسا سسٹم کریں جس سے کسی شہری کو کوئی نقصان نہ ہو اور ہر چیز قانون کے مطابق ہونی چاہیے موجودہ طریقہ کار اتنا ناقابل فہم ہے۔ کہ ابھی تک کسی کمپنی کے چیف ایگزیکٹو کی طرف سے کوئی حکم نامہ جاری نہیں ہوا کہ کنزیومر ایسا کریں ایسا نہ کریں یعنی سوشل میڈیا فیس بک پر منسٹر کی سٹیٹمنٹ ہے لیکن منسٹر کچھ کہتا ہے ڈیپارٹمنٹ کا ہیڈ چیف ایگزیکٹو کچھ کہتا ہے ایک صارف اس کدھر جائے گا خدارا عوام پر رحم کریں عوام کو ایک صحیح تصویر دیں جو چیز اپ کرنا چاہتے ہیں جو اپ کی خواہش ہے وہ قانون کے مطابق ہونی چاہیے شہریوں کو اذیت دے کر آپ ترقی نہیں کر سکے شہریوں کو ریلیف دے کر ہی مجموعی طور پر ہم ترقی کر سکتے ہیں



















