
جہلم ( پروفیسر خورشید علی ڈار).ریلوے اسٹیشن دینہ ایک وقت لاہور ریلوے اسٹیشن کے بعد بہتر مقام رکھتا تھا وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ زبوں حالی کا شکار ہو گیا ایک عرصہ دراز کے بعد وفاقی وزیر ڈاکٹر غلام حسین نے پیپلز پارٹی کے دور میں ریلوے اسٹیشن دینہ پر اپنی توجہ مبذول کی تمام اقسام کی ٹرینوں نے یہاں پر سٹاپ کرنا شروع کر دیا بہت کم لوگوں کو علم ہے کہ ریلوے اسٹیشن دینہ کو 150 دیہات لگتے ہیں اور دیگر کا تعلق بھی اسی ریلوے اسٹیشن سے ہے تمام مسافر پشاور جانے کے لیے یا کراچی جانے والے ریلوے اسٹیشن دینہ کی خدمات حاصل کیا کرتے تھے لوگوں کو بڑی سہولت میسر تھی اس عرصہ میں تمام اقسام کا گڑز بھی ریلوے کے ذریعے اتا تھا اب ریلوے اسٹیشن دینہ کھنڈرات کا منظر پیش کرتا ہے مسافروں کے بیٹھنے کے لیے مناسب بینچ میسر نہیں ہے غالبا صرف ایک گاڑی پاکستان ایکسپریس یہاں رکتی ہے لوگوں کو مجبورا راولپنڈی یا جہلم جانا پڑتا ہے مقامی سیاستدان ریلوے اسٹیشن دینہ کی طرف کیوں توجہ دیں ان کے پاس پراڈو و دیگر اعلیٰ قسم کی گاڑیاں موجود ہیں یہ مسئلہ تو صرف ایک عام ادمی کا ہے وفاقی وزیر ریلوے کا تعلق جہلم سے ہے مگر سرکاری مصروفیات انگنت ہیں مزید براں وزیر خزانہ بھی ہیں لہذا ان کی مصروفیت قابل فہم ہیں عوام اپنے نوجوان وفاقی وزیر ریلوے اسٹیشن سے توقع کرتی ہے کہ وہ بھی ڈاکٹر غلام حسین سابق وزیر کی طرح اس طرف توجہ دینگے ریلوے اسٹیشن دینہ کو معیاری بنانے کی کوشش کریں گے ہر گاڑی کا یہاں رکنا مفاد عوام ہیں اس سے محکمہ ریلوے کو ریوننیو بھی حاصل ہوگا۔


















