


جہلم// پروفیسر خورشید علی ڈار کی رپورٹ کے مطابق ۔ ڈسٹرکٹ ہیڈ کواٹر ہسپتال جہلم کی گائنی وارڈ مخصوص حالات کے پیش نظر مشکلات کا سامنا کر رہی ہے ارباب اختیار معاملات سے باخبر ہیں مگر سر دست کچھ کرنے سے قاصر ہیں۔درج بالا تلخ حقائق کے باوجود گائنی وارڈ کی بابت ماہ جولائی کارگزاری تسلی بخش ہے جملہ گائنی کالجسٹ ڈاکٹرز سول ہسپتال جہلم نے انتہائی پروفیشنل صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا ہے۔مصدقہ ذرائع کے مطابق بابت ماہ جولائی او پی ڈی کی تعداد 1015 ہے جبکہ درج زیل گائنی کالوجسٹ ڈاکٹرز نے بابت ماہ جولائی نارمل ڈلیوری اور اپریشن کیے ہیں ۔ڈاکٹر سویرا بخاری ۔نارمل ڈلیوری کی تعداد 72 ہے اپریشن کی تعداد 47 ہے۔ڈاکٹر شگفتہ امیننارمل ڈلیوری کی تعداد 37اپریشن کی تعداد 43 ہے۔ڈاکٹر طیبہ اسلم۔۔نارمل ڈلیوری کی تعداد 69 ہے اپریشن کی تعداد 66 ہے۔ڈاکٹر امنہ پروین ۔نارمل ڈلیوری کی تعداد 66 ہے اپریشن کی تعداد 50ہے ذرائع کے مطابق ٹوٹل نارمل ڈلیوری کی تعداد 244 ہے جبکہ اپریشن کی تعداد 206ہے اللہ کا فضل ہے کہ تمام اپریشنز انتہائی کامیاب رہے ہیں اس حوالے سے ایم ایس سول ہسپتال جہلم کا مرکزی کردار ہے جبکہ سی ای او ہیلتھ ڈاکٹر میاں مظہر حیات حتی المقدور کوشش کرتے ہیں کہ گائنی وارڈ کی ضرورت کو پورا کیا جائے بلا شبہ اگر ڈسٹرکٹ ہیڈ کواٹر ہسپتال جہلم کی دیگر وارڈز اسی طرح کام کریں تو مریض زیادہ سے زیادہ استفادہ حاصل کر سکتے ہیں درج بالا حقائق کے پیش نظر گائنی وارڈ میں جملہ نرسز فی میل ڈاکٹرز گائنی کالوجسٹ مبارکباد کی مستحق ہیں کہ انہوں نے جان فشانی سے کام کیا اور ادارے کی نیک نامی میں اضافہ کیا۔



















