
جہلم// حکومت پنجاب کی تعلیم دشمنی ، سرکاری سکولوں کے ساتھ پرائیویٹ سکولوں کو بھی 31 اگست تک سکول کھولنے پر پابندی لگا دی۔ جہلم( پروفیسر خورشید علی ڈار)علم دوستی کے بجائے علم دشمنی کا رویہ حکومت پنجاب نے اختیار کر رکھا ہےکس قدر نا انصافی ہے پرائیویٹ سکولوں کو بھی 31 اگست تک بند رکھنے کا حکم دے رکھا ہے پڑھانے والے پڑھانے کے لیے تیار ہیں پڑھنے والے پڑھنے کے لیے تیار ہیں متعلقہ والدین بھی پڑھائی کے لیے رضامند ہیں مگر محکمہ تعلیم کو اعتراض ہے کہ پرائیویٹ سکول 31 اگست تک نہیں پڑھا سکتے اگر کوئی ادارہ بچوں کو پڑھانے کے لیے سکول کھولتا ہے تو اس کو سیل کر دیا جاتا ہے ۔یہ علم دشمنی نہیں تو اور کیا ہے پاکستان دنیا کا واحد ملک ہے جہاں ہر روز چھٹی ہوگی قومی تہوار ہوگا تو حکم نامہ ہوگا کہ اپ کے تمام بچے اس میں شرکت کریں گے اس وقت گرمی کا احساس کیوں نہیں کیا جاتا حکومت نے ایک خوبصورت لفظ استعمال کر کے عوام کو بیوقوف بنا رکھا ہے ہم صرف اؤٹ سورس کر رہے ہیں صاف الفاظ میں کہوں تو ہم پرائیویٹ کر رہے ہیں اگر پرائیویٹ کرنا ملک کے مفاد میں ہے تو پی ائی اے ۔۔۔ سٹیل ملز……. ریلوے کو اؤٹ سورس کیوں نہیں کیا جاتا ہر جگہ اپ کو دو عملی نظام نظر ائیں گی تمام اے پی ایس کے ادارے بچوں کو ان ایام میں تعلیم دے رہے ہیں محکمہ تعلیم کی کیوں اس طرف توجہ نہیں ہے محکمہ تعلیم کا زور سے پرائیویٹ سکولوں پر چلتا ہے زمینی حقائق کے مطابق پرائیویٹ سکولوں میں پڑھانے والے اساتذہ کم تعلیم یافتہ ہوں گے ان کی ماہانہ تنخواہ سرکاری سکولوں کی نسبت بہت کم ہوگی مگر اس کے باوجود ان کا معیار تعلیم مثالی ہوگا جس ملک میں 365 ایام میں صرف 100 ایام بچوں کو پڑھایا جائے گا وہ طالب علم کیا بنیں گے وہ ملک کی کس طرح خدمت کریں گے خدارا علم دشمنی کے بجائے علم دوستی اختیار کی جائے



















