

ہجہلم (رپورٹ !پروفیسر خورشید علی ڈار)۔سیکرٹری صحت پنجاب کو زمینی حقائق کے پیش نظر ڈسٹرکٹ ہیڈ کواٹر ہسپتال جہلم کے وجود کو تسلیم کرنا ہوگا …سیاسی سماجی زعماء اف ضلع جہلم۔۔۔ ریکارڈ کی روشنی میں یہ بات وثوق سے کہی جا سکتی ہے کہ راولپنڈی ڈویژن میں ڈسٹرکٹ ہیڈ کواٹر سول ہسپتال جہلم پر سب سے زیادہ بوجھ ہے ذرائع کے مطابق 258 بستروں کی بجٹ میں منظوری ہے جبکہ اس وقت سول ہسپتال میں 400 بستر موجود ہیں اور ضلع جہلم کے مریض ان سے استفادہ حاصل کر رہے ہیں بلاشبہ ڈسٹرکٹ ہیڈ کواٹر کے تمام کنسلٹنٹ۔۔۔۔۔تمام ڈاکٹرز بالخصوص ایم ایس سول ہسپتال جہلم ( ڈاکٹر سہیل اعجاز ) سول ہسپتال کی بہتری کے لیے شب و روز محنت کر رہے ہیں لیکن اس حقیقت کو تسلیم کرنا ہوگا کہ اگر ڈسٹرکٹ ہیڈ کواٹر ہسپتال کو ضرورت کے مطابق بجٹ مہیا نہ کیا گیا تو ان کی کارگزاری سے کیا نتیجہ نکل سکتا ہےاس وقت سول ہسپتال میں سب سے زیادہ اخراجات ایمرجنسی وارڈ …..گائنی وارڈ ……جملہ ٹیسٹ کے لیے لیب کے ہیں سول ہسپتال کی او پی ڈی میں چار گنا زیادہ اضافہ ہو چکا ہے ذرائع کے مطابق سول ہسپتال کے ایم ایس نے ہسپتال کی جملہ ضروریات کے پیش نظر مشیر صحت پنجاب …..سیکرٹری صحت ..نیز مجاز اتھارٹی کو متعدد بار زبانی و تحریری خطوط لکھے ہیں تاکہ فنڈز کی دستیابی پر سول ہسپتال جہلم کو بہتر سے بہتر بنایا جا سکے بلا شبہ فلاحی حکومتیں صحت اور تعلیم کو ترجیح دیتی ہیں اس حوالے سے ڈسٹرکٹ ہیڈ کواٹر ہسپتال کی جملہ ضروریات کو پورا کرنا حکومت پنجاب کا فرض بنتا ہے.غریب اور متوسط طبقہ بسلسلہ علاج صرف سرکاری ہسپتال کا رخ کرتا ہے ان کے لیے ممکن نہیں کہ وہ پرائیویٹ ہسپتالوں میں جا کر بھاری اخراجات برداشت کر سکیں ریکارڈ کی روشنی میں یہ بات کہی جا سکتی ہے کہ گزشتہ دو ماہ میں ایکسیڈنٹل کیس کی تعداد میں دو گنا زیادہ اضافہ ہوا ہے جبکہ گائنی وارڈ میں سی سیکشن کیس کی تعداد میں چار گنا زیادہ اضافہ ہوا ہے درج بالا حقائق کے پیش نظر عوام اپنے ہر دل عزیز لیڈر مشیر صحت پنجاب سے اپیل کرتی ہے کہ وہ اپنے حاصل شدہ اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے سول ہسپتال کی جملہ ضروریات کو پورا کرنے کا حکم صادر فرماہیں ۔۔۔



















