
پروٹوکول اور سرکاری گاڑیوں کا بے دریغ استعمال
تحریر آصف محمود چوہدری
چھوٹے عہدے سے بڑے عہدے تک پہنچنا اللہ پاک کی عنایت ہوتا ہے اور اس شخص کی محنت اس کو بڑے عہدے پر لے جاتی ہے یہ بھی حقیقت ہے مسلسل جدوجہد کرنے والا شخص ایک دن اعلی رتبہ پاتا ہے ترقی کی منزلیں طے کرتا ہوا اعلی عہدے پر پہنچتا ہے اور کچھ لوگوں کی قسمت اور نصیب اچھا ہوتا ہے جس کی وجہ سے اس کے لیے ترقی کے دروازے کھلتے چلے جاتے ہیں ایسے لوگ اپنی ترقی اور منصب کا اللہ پاک کا شکر ادا کرتے ہیں عوام کی خدمت کرنا جن لوگوں کا مقصد ہو ملک و قوم کی خدمت کرنا ایسے لوگوں کو پروٹوکول کی ضرورت نہیں ہوتی وہ کسی کو دکھانے کے لیے پروٹوکول نہیں لیتے صرف اپنی سکیورٹی کے لیے ضروری سمجھی جانے والے اقدامات کرتے ہیں جیسے ٹریفک کے سنگین مسائل یا دیگر کسی خدشے کے پیش نظر جو ضروری اقدامات ہوں ان کے لیے وہ کیے جاتے ہیں لیکن کچھ سیاسی لوگ اور کچھ سرکاری لوگ سرکاری اور پرائیویٹ پروٹوکول لینا اپنا حق سمجھتے ہیں اور سرکاری وسائل کا بے دریغ استعمال پروٹوکول کی شکل میں کرتے ہیں لمبی لمبی گاڑیوں کے قافلے کے ساتھ نقل و حرکت کرنا ان لوگوں کا شوق بن جاتا ہے منصب پر قائم ہوتے ہی ان کے دعوے ہوتے ہیں کہ ہم غیر ضروری پروٹوکول نہیں لیں گے اور اپنے اخراجات جو سرکاری سطح پر ہوتے ہیں کم سے کم کریں گے لیکن جب کرسی پر پہنچ کر اپنے اختیارات کا استعمال کرتے ہیں تو ان کو سب کچھ جائز نظر انے لگتا ہے انتظامیہ کی ساری توانائیاں ان کے پروٹوکول پر صرف ہونے لگتی ہیں جبکہ ایک سادہ طبیعت کا مالک جس کی کسی سے کوئی دشمنی نہ ہو اور وہ اپنے عہدے کا غلط استعمال نہ کرے انصاف کے تقاضے پورے کرے سچ اور حق کا ساتھ دے ایسے شخص کو تو بڑے سے بڑے منصب پر پہنچ کر بھی کوئی خطرہ نہیں ہوتا کہ کوئی شخص مجھے مار دے گا کیوں نہ کہ اس کا ضمیر مطمئن ہوتا ہے ایسی کئی مثالیں موجود ہیں جو لوگ محنت کر کے اپنے کردار کی وجہ سے اعلی منصب تک پہنچے اور ان لوگوں نے اعلی منصب حاصل کر کر بھی کسی قسم کے نمود و نمائش کا سہارا نہیں لیا اپنی خدمات ملک اور قوم کے لیے کر کے اپنا نام مر کر بھی تاریخ میں لکھوا گئے جن کو لوگ ہمیشہ یاد کرتے ہیں جیسے سابق وزیراعظم نہایت سادہ طبیعت کے مالک نہایت نفیس انسان محنتی انسان مرحوم محترم ملک معراج خالد مرحوم نے ساری زندگی محنت کی دودھ بیچتے رہے طالب علمی کے زمانے میں سخت محنت کی ان کی محنت رنگ لائی رکشے میں سفر کرتے رہے اور ایک دن وزارت عظمی کے منصب پر فائز ہوئے ان کے دور حکومت کو لوگ یاد کرتے ہیں ان کا نام احترام سے ادب سے لیتے ہیں اچھی تربیت اچھا کردار اچھی محنت انسان کو کبھی نقصان نہیں دیتی اسی وجہ سے ایسے لوگوں کو اللہ پاک بڑے بڑے عہدوں پر فائض کرتا ہے اور کچھ لوگ بد قسمتی سے عوام پر مسلط کیے جاتے ہیں جس میں کچھ قصور عوام کا بھی ہوتا ہے ناجائز چیزوں کو پروان چڑھاتے ہیں جس کی وجہ سے پروٹوکول سسٹم پروان چڑھتا ہے سرکاری گاڑیوں کا بے دریغ استعمال ہوتا ہے دوسری جانب سرکاری اداروں میں بھی یہ کہا جاتا ہے سرکاری گاڑیوں کا استعمال عہدے کے مطابق سرکاری گاڑی اپنے پاس رکھنے والوں کو گاڑی استعمال کرنے کی اجازت ہوگی اور جن کو صرف سرکاری ٹائم میں گاڑی سرکاری کام کے لیے چاہیے وہ استعمال کرے گا اور چھٹی پر وہ سرکاری گاڑی پول میں کھڑی کی جائے گی صرف دفتری ا وقت میں اس کا ستعمال ہوگا بدقسمتی سے سرکاری گاڑیوں کا بے دریغ استعمال عروج پر پہنچ چکا ہے سرکاری ملازمین اپنے نجی کام سرکاری گاڑیوں پر دن رات کرتے ہیں اور سرکاری خزانے پر لاکھوں روپے کا بوجھ ڈالتے ہیں ڈیزل پٹرول کی مد میں اس سسٹم کو بھی بڑے بڑے دعووں کے باوجود ختم نہیں کیا جا سکا ساری بات کا نچوڑ یہ ہے کہ پروٹوکول اور سرکاری گاڑیوں کا بے دریغ استعمال فوری طور پر ختم ہونا چاہیے تمام محکموں سے یہ بات بھی سامنے ائی ہے کچھ لوگوں نے اپنی زندگی میں رہنے کا انداز اس قدر اپ کر دیا ہے کہ چھوٹی گاڑی رکھنے پر شرم محسوس کی جاتی ہے یہ پرائیویٹ لوگ بڑی گاڑیوں کا استعمال کرتے ہیں اور ڈیزل پٹرول یہ بڑی گاڑیاں بہت زیادہ ڈیزل پٹرول خرچ کرتی ہیں ان کا خرچہ سب لوگ برداشت نہیں کر سکتے اپنی جھوٹی انا کو قائم رکھنے کے لیے کبھی کبھار یہ لوگ گاڑی کسی بڑی دعوت میں لے جاتے ہیں اور اکثر رینٹ اے کار والوں سے کہا جاتا ہے شادی کی بکنگ پر گاڑی مل سکتی ہے پر شرط یہ ہے کہ گاڑی ہمارے گھر ہی کھڑی ہوگی ادھر سے ہی لے کر جانی ہے اور واپس بھی ادھر ہی کرنی ہے تاکہ ہمارا بھرم قائم رہے اور رینٹ پر جانے کا کرایہ بھی گھر پر ہی دیا جائے معاشرے میں عزت بڑی رہے کہ فلاں کے پاس بہت قیمتی گاڑی ہے اور بڑی گاڑی کے لو ازمات بھی بڑے ہوتے ہیں اور پروٹوکول ایسے ہی خرچ کر کے بنتا ہے جو سرکاری اور پرائیویٹ پروٹوکول کو پسند کرتے ہیں جو صرف اور صرف فضدول خرچی ہے اس کے علاوہ کچھ نہیں لہذا سرکاری اور پرائیویٹ پروٹوکول فوری طور پر ختم ہونا چاہیے جو فضول خرچی اور پیسے کا ضیاع ہے



















