
*شہدائے پاکستان کی بے حرمتی کرنے والے احسان فراموشو! شاید کہ اتر جائے تمہارے دلوں میں میری بات**فوج کی نوکری و تنخواہ، صرف نوکری اور تنخواہ نہیں ہے جناب!!! یہ تو اللہ کی راہ میں کٹ مرنے، لختِ جگروں کو یتیم کرنے اور شریکِ حیات کو بیوہ کرنے کا نام و مقام ہے،،،،* *بقلم: ڈاکٹر فیض احمد بھٹی*
فوج کو محض ایک نوکری سمجھنا یا یہ جاننا کہ یہ دشمن سے لڑتے ہیں تو اس کے پیسے لیتے ہیں، شاید ان لوگوں کی سب سے بڑی غلط فہمی ہے، جو کبھی سرحد کی یخ بستہ راتوں میں جاگے نہیں، بارودی سرنگوں پہ چلے نہیں یا دہشت گردی کے خلاف محاذوں پہ برسر پیکار نہیں ہوئے۔یاد رہے، عام طور پہ نوکریوں کا آغاز اور اختتام دفتر کے اوقات سے ہوتا ہے، مگر ایک فوجی کی ذمےداری اسی وقت شروع ہو جاتی ہے جب وہ وردی پہن کر وطن سے وفاداری کا حلف اٹھاتا ہے۔ دشمن کے حملوں کے ساتھ ہی اس کی ملازمت کے اوقات کار بےمعنی ہو جاتے ہیں۔ اس وقت اس کے من میں ایک ہی جذبہ انگڑائی لیے ہوتا ہے کہ کسی طرح میں اپنے وطن پہ حملہ آوروں کو دندان شکن جواب دوں۔ ریٹائرمنٹ کے بعد بھی جب کبھی فوج کو ضرورت ہو، تو فوجی جی جان سے حاضر خدمت ہو جاتا ہے۔کیسا بودا ترین اور گھٹیا ترین اعتراض ہے کہ فوجی اگر شہید ہوتا ہے تو اس کی تنخواہ بھی لیتا ہے۔ ایک انسانی جان کی قیمت کیا پیسے ہو سکتے ہیں؟ جہل کی بھی کوئی انتہا ہوتی ہے! ارے مولوی صاحب! نوکری تو وہ ہوتی ہے جہاں تبادلے اپنی پسند کی جگہ کرانے کی کوشش کی جاتی ہے، جہاں اضافی گھنٹوں کے عوض اوور ٹائم طلب کیا جاتا ہے اور جہاں سہولتیں ملازمت کا لازمی جزو سمجھی جاتی ہیں۔ مگر فوجی زندگی کا پیمانہ عام نوکریوں سے کہیں زیادہ مختلف ہے۔ یہاں ایک سپاہی کی تعیناتی کا فیصلہ، خواہ وہ برف پوش چوٹیوں پہ ہو، تپتے صحراؤں میں ہو یا دہشت گردی سے متاثرہ دشوار گزار علاقوں میں، فوج کا ادارہ کرتا ہے۔فوجی کی زندگی میں معمولی سی تنخواہ ضرور ہوتی ہے، لیکن اس کا مقصد اور اس کی اصل کمائی وطن کےلیے قربانی کا احساس و جذبہ ہوتا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ اس کے حصے میں طویل جدائیاں، ادھوری عیدیں، بیوی بچوں کی محرومیاں اور والدین سے دوریاں آئیں گی۔ وہ یہ بھی جانتا ہے کہ ہر واپسی یقینی نہیں۔ اسی لیے اس کی قربانی کو چند ٹکے مالی معاوضے کے ترازو میں ہرگز نہیں تولا جا سکتا۔ایک فوجی ہی نہیں، اس کے ساتھ اس کا خاندان بھی خاموش قربانی دیتا ہے۔ مائیں ہر دستک پر چونک اٹھتی ہیں، ہر نامعلوم فون کال پر دل کی دھڑکن تیز ہو جاتی ہے، اور ہر بار وطن کی سلامتی کی دعا میں اپنے بیٹے کی حفاظت بھی مانگی جاتی ہے۔بیویاں برسوں تنہائی کا بوجھ اٹھاتی ہیں اور بچے اکثر اپنے باپ کی محبت کو چھٹیوں کے چند دنوں میں سمیٹنے پر مجبور ہوتے ہیں۔ یہ قربانیاں کسی سرکاری ضابطے میں درج نہیں ہوتیں، مگر قوم کی سلامتی میں، عوام کے تحفظ میں انہی کا حصہ ہوتا ہے۔یہ حقیقت بھی اپنی جگہ موجود ہے کہ ہر ادارے کی طرح فوج بھی انسانوں پر مشتمل ایک ادارہ ہے، اور جہاں انسان ہوں، وہاں غلطیوں یا کمزوریوں کا امکان بھی رہتا ہے۔ ادارہ جاتی معاملات پر تنقید ایک الگ موضوع ہے، لیکن ماضی کی قیادت کے چند غیر آئینی واقعات کی بنیاد پر ان لاکھوں سپاہیوں کی قربانیوں کو فراموش نہیں کیا جا سکتا، جو خاموشی سے وطن کی حفاظت کےلیے اپنی زندگیاں وقف کیے ہوئے ہیں۔فوج دراصل اپنی قوم سے کیا ایک عہد ہے؛ ایک ایسا عہد جس میں آسائش سے زیادہ مشقت اور اپنی زندگی سے زیادہ وطن کی زندگی اور اس کی حرمت مقدم ہوتی ہے۔ اسی لیے ایک فوجی کی پہچان صرف اس کی وردی نہیں، بلکہ قوم اور ملک کےلیے اس کا جذبۂ قربانی ہے۔جو قومیں اپنے محافظوں کی قربانیوں کی قدر کرتی ہیں، وہ اپنے مستقبل کو مضبوط بنیادوں پر استوار کرتی ہیں۔ اور جو قومیں شہدا کی توہین و بےحرمتی کرتی ہیں، شہادت کو چند سکوں کی میزان میں تول کر شہدا کے لواحقین کے زخموں پہ نمک چھڑکتی ہیں، وہ اپنا مستقبل تاریک کر بیٹھتی ہیں۔ یہ زہر ناک سوچ ایک اعتبار سے دشمن قوتوں کو کمک پہنچاتی ہے۔پس مولوی فضل الرحمان جیسے سیاست دان اس ملک پہ رحم کھائیں اور اپنا اقتدار کا حصہ وصول کرنے کےلیے ملک کے محافظوں کو اپنا ہدف مت بنائیں۔ گھر والوں سے شکایت ہو، تو پورا پنڈ اکٹھا نہیں کرتے، گھر کے بڑوں سے درخواست کرتے ہیں۔ ککڑ کی طرح کھے اڑا کر اپنے اور اوروں کے سر پہ نہیں ڈالا کرتے۔سوال یہ ہے کہ تنخواہ تو مولانا بھی لیتے ہیں۔ تو کیا کبھی ریاست نے اس سے کبھی ملک کےلیے جان مانگی ہے اور کبھی ایسا وقت آئے تو کیا حضرت صاحب ملک کی خاطر جان دیں گے؟ جان دینا تو چھوڑیں، کبھی انہوں نے وہ کام دیانتداری سے انجام دیے ہیں، جن کی یہ 50 سالوں سے تنخواہیں وصول کر رہے ہیں؟ ہر فوجی حکومت کا یہ بھرپور حصہ رہے ہیں۔ حالانکہ فوجی حکومت سراسر ناجائز ہوتی ہے۔ مگر انہیں اپنے مفادات کی خاطر وہ بھی قبول ہے۔ انہوں نے مشرف آمریت کا پورا پورا ساتھ دیا۔ وہ آمریت جس کے ہاتھ ہزاروں معصوم لوگوں کے خون سے رنگے ہوئے ہیں۔ 12 اکتوبر 1999ء پاکستان کی تاریخ کے ایک سیاہ ترین دن کے طور پہ ہمیشہ کے لیے ثبت ہے۔ اور یہی مولانا تھے جنہوں نے اس سیاہ دن کے خالق کو وردی سمیت صدر منتخب کروایا۔ یعنی جو بندہ اپنی تنخواہ بھی حلال نہ کر سکے، وہ ان لوگوں پہ طعنہ زن ہے، جو نہ صرف اپنی تنخواہ حلال کرتے ہیں بلکہ پوری ذمےداری اور ایمانداری سے کام کر کے اپنی جان تک اللّٰہ کے راستے میں دے دیتے ہیں۔ یہ جانتے ہوئے بھی کہ اس کی بیوی بیوہ، بچے یتیم اور بوڑھے والدین زندہ درگور ہو جائیں گے۔ دنیا کی ساری دولت کیا ایک انسانی جان کے ہم پلہ ہو سکتی ہے؟ ہر گز نہیں! مگر مولانا کی عجیب منطق ہے، جو یہ چند ہزار یا لاکھ دولاکھ روپے کو ایک جان کی قیمت بتا رہے ہیں۔یاد رہے! قومیں ان لوگوں کی قربانیوں سے زندہ رہتی ہیں جو اپنی جان کو اپنے ملک اور عوام کی خاطر قربان کر دیتے ہیں، نہ کہ ان لوگوں کی بےسروپا تقریروں سے جو دوسروں کی قربانیوں کو چند سکوں میں تولنے لگیں۔ مولانا! آپ تنقید کیجیے، ضرور کیجیے، مگر جن پہ بنتی ہے،ان پہ کیجیے اور انصاف کے ساتھ کیجیے۔ یہ بات یاد رکھیں! جس دن ہم اپنے محافظوں کی قربانیوں کی قدر کھو بیٹھے، اس دن ہمارا قومی وجود خطرے میں پڑ جائے گا۔ شرم آنی چاہیے اتنے بڑے مولانا اور اس جیسے دیگر نام نہاد رہنماؤں کو زہریلے بیانات داغتے ہوئے۔ یہ جانتے ہوئے بھی کہ ملک چہار اطراف سے دشمنوں سے گھرا ہوا ہے۔ بھارت دل کھول کر پیسہ اور اسلحہ دے رہا ہے افغان طالبان کو، ٹی ٹی پی کو اور بلوچ علیحدگی پسندوں کو۔ بلکہ ان حالات میں تو شہدا کی اور زیادہ قدر کرنی چاہیے، مگر افسوس صد افسوس، یہ لوگ شہدا کے لواحقین کے جذبات اور شہادت جیسے اعلیٰ ترین درجے کو روندنے پہ تلے ہوئے ہیں۔میں مولانا فضل الرحمان صاحب کو ایک جہاں دیدہ سیاست دان سمجھتا ہوں۔ کیونکہ ماضی میں انہوں نے تحریک طالبان پاکستان کے دہشت گردوں کے خلاف اسٹینڈ لیا اور محب وطن ہونے کا ثبوت دیا۔ اس کی پاداش میں ان پہ کئی حملے بھی ہوئے، مگر اب کی بار انہوں نے شہدا کی تذلیل کر کے ملک دشمن قوتوں کو خوش کیا اور جگ ہنسائی کا بھی باعث بنے۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ مولانا اپنے بیان سے رجوع کریں اور شہداء کے ورثاء سمیت پوری قوم سے سرِعام معافی مانگ کر ایک مہذب سیاستدان ہونے کا ثبوت دیں۔



















