چیف ایڈیٹر:طارق محمود چودھری  ایڈیٹر: مظہر اقبال چودھری  مینیجنگ ایڈیٹر: ادریس چودھری

اگست 20, 2026 6:41 شام
تازہ ترین خبریں

جہلم میں علم و فکر کا روشن مینار: ڈاکٹر فیض احمد بھٹی حفظہ اللہ(دینی، ملی اور علمی خدمات۔۔۔۔تحریر: حافظ محمد ارشد محمود

جہلم میں علم و فکر کا روشن مینار: ڈاکٹر فیض احمد بھٹی حفظہ اللہ
(دینی، ملی اور علمی خدمات)

تحریر: حافظ محمد ارشد محمود

دنیا میں بعض شخصیات ایسی ہوتی ہیں، جن کی زندگی کا مقصد محض اپنی ذات کی ترقی نہیں ہوتا؛ بلکہ وہ اپنے علم، صلاحیت، وقت، فکر، قلم اور کردار کو دین، ملت اور انسانیت کی خدمت کےلیے وقف کر دیتی ہیں۔ ایسی شخصیات درحقیقت معاشرے کا قیمتی سرمایہ ہوتی ہیں۔ ان کی خدمات کسی ایک میدان تک محدود نہیں رہتیں؛ بلکہ علم و تحقیق، دعوت و اصلاح، تعلیم و تربیت، رفاہِ عامہ، قومی و ملی شعور اور صحافت و ابلاغ جیسے مختلف میدانوں میں اپنے وسیع اثرات چھوڑتی ہیں۔
فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر فیض احمد بھٹی حفظہ اللہ (فاضل مدینہ یونیورسٹی و چیئرمین ابن عباس اسلامک ریسرچ سینٹر جہلم) کی شخصیت بھی علم، دعوت، تحقیق، اصلاح اور خدمت کے اسی حسین امتزاج کی نمائندگی کرتی ہے۔ ان کی علمی نسبت، دینی وابستگی، تحقیقی ذوق، قلمی کاوشیں اور معاشرے کی اصلاح و فلاح کےلیے جدوجہد قابلِ قدر اور لائقِ تحسین ہے۔
یہ مضمون ان کی شخصیت کی محض رسمی تعریف نہیں، بلکہ علم و دین اور معاشرے کے مختلف شعبوں میں انجام دی جانے والی خدمات کی قدر شناسی کا ایک اظہار و اعتراف ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ایسے اہلِ علم حضرات کی خدمات کا مکمل احاطہ چند صفحات میں ممکن نہیں ہوتا، تاہم ان کی جدوجہد کے نمایاں پہلوؤں کو سامنے لانا نئی نسل کےلیے حوصلہ افزا اور اہلِ خیر کےلیے باعثِ ترغیب ضرور ہے۔
علم شخصیت کا بنیادی حوالہ:
اسلام نے علم کو غیر معمولی مقام عطا کیا ہے۔ قرآن مجید کی پہلی وحی ہی "اقرأ” یعنی پڑھنے کے حکم سے شروع ہوئی۔ یہ اس حقیقت کی طرف واضح اشارہ ہے کہ اسلامی معاشرے کی تعمیر علم، شعور اور معرفت کے بغیر ممکن نہیں۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿قُلْ هَلْ يَسْتَوِي الَّذِينَ يَعْلَمُونَ وَالَّذِينَ لَا يَعْلَمُونَ﴾
"کہہ دیجیے: کیا اہل علم اور غیر اہل علم برابر ہوسکتے ہیں؟” (سورۃ الزمر: 9)
مطلب یہ کہ ہرگز برابر نہیں ہو سکتے، کیونکہ علم صرف معلومات کا نام نہیں، بلکہ صحیح علم وہ ہے، جو انسان کے اندر اللہ تعالیٰ کی معرفت، حق کی پہچان، عمل کی رغبت اور مخلوقِ خدا کی خدمت کا جذبہ پیدا کرے۔
فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر فیض احمد بھٹی حفظہ اللہ کی شخصیت میں علمی ذوق اور دینی خدمت کا یہی امتزاج نمایاں نظر آتا ہے۔ مدینہ یونیورسٹی سے علمی نسبت ان کےلیے ایک عظیم علمی سرمایہ ہے، جبکہ اس علمی سرمائے کو معاشرے تک منتقل کرنا ان کی عملی خدمت کا اہم ترین پہلو ہے۔
مدینہ منورہ کی طرف علمی نسبت:
مدینہ منورہ وہ مقدس شہر ہے جہاں رسول اکرم ﷺ نے اسلامی معاشرے کی بنیاد رکھی، وہاں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے قرآن و سنت کا علم حاصل کیا اور وہاں سے ہی علم و ہدایت کی روشنی دنیا کے تمام اطراف میں پھیلی۔
مدینہ یونیورسٹی سے علمی فیض حاصل کرنا محض ایک تعلیمی نسبت نہیں، بلکہ ایک عظیم علمی و دینی روایت سے وابستگی بھی ہے۔ وہاں کے علمی ماحول نے دنیا بھر سے آنے والے طلبہ کو قرآن و حدیث، عقیدہ، فقہ، سیرت اور دیگر اسلامی علوم و فنون سے روشناس کرایا ہے۔
ایسی نسبت رکھنے والی شخصیات سے بجا طور پر یہ توقع کی جاتی ہے کہ وہ اپنے حاصل کردہ علم کو معاشرے کی اصلاح، تعلیم و تربیت اور دعوتِ دین کےلیے استعمال کریں۔ ڈاکٹر فیض احمد بھٹی حفظہ اللہ کی علمی و دینی سرگرمیوں کو اسی پس منظر میں دیکھا جائے تو ان کی خدمات کی اہمیت مزید واضح ہوجاتی ہے۔
ابن عباس اسلامک ریسرچ سینٹر جہلم علمی و تحقیقی خدمت کا مرکز:
آج کے دور میں صرف معلومات کافی نہیں؛ بلکہ تحقیق، حوالہ، استدلال اور علمی دیانت پہلے سے کہیں زیادہ ضروری ہو گئی ہے۔ سوشل میڈیا کے پھیلاؤ نے اگرچہ معلومات تک رسائی آسان بنا دی ہے، لیکن غیر مستند معلومات اور فکری مغالطوں کے پھیلاؤ میں بھی کافی اضافہ ہوا ہے۔ ایسے ماحول میں تحقیقی اداروں کا قیام اور ان کی سرپرستی ایک نہایت اہم دینی و علمی خدمت ہے۔
لہذا ڈاکٹر صاحب کی ابن عباس اسلامک ریسرچ سینٹر جہلم سے گہری وابستگی اسی علمی ضرورت کی تکمیل کی ایک کوشش کے طور پر قابلِ قدر ہے۔ کیونکہ تحقیق کے مراکز نئی نسل کو مطالعہ، تحقیق، علمی مکالمہ اور مستند مصادر سے استفادے کی طرف راغب کرتے ہیں۔
یہ امر بھی ضروری ہے کہ علم و تحقیق کو محض کتابوں تک محدود رکھنے کی بجائے اسے معاشرے کی فکری ضروریات سے جوڑنے کی کوشش کی جائے۔ لہذا آج ایسے علمی مراکز کی ضرورت ہے، جو قرآن و سنت کی روشنی میں عصرِ حاضر کے مسائل کا علمی اور مدلل حل پیش کریں اور نوجوان نسل کو مستند اسلامی فکر سے وابستہ کریں۔
دعوتِ دین انبیائے کرام کی سنت:
دعوت و تبلیغ انبیائے کرام علیہم السلام کی بنیادی ذمہ داری رہی ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿وَمَنْ أَحْسَنُ قَوْلًا مِّمَّن دَعَا إِلَى اللَّهِ وَعَمِلَ صَالِحًا وَقَالَ إِنَّنِي مِنَ الْمُسْلِمِينَ﴾
"اور اس شخص سے بہتر بات کس کی ہو گی، جو اللہ کی طرف دعوت دے، نیک عمل کرے اور کہے کہ بے شک میں مسلمانوں میں سے ہوں۔” (سورۃ فصلت: 33)
دین کی دعوت محض الفاظ کی تبلیغ نہیں، بلکہ انسان کو اللہ تعالیٰ سے جوڑنے، قرآن و سنت سے وابستہ کرنے، اخلاق سنوارنے اور زندگی کو اسلامی تعلیمات کے مطابق ڈھالنے کا عملی نام ہے۔
فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر فیض احمد بھٹی حفظہ اللہ کی دینی خدمات کا یہ پہلو خصوصی اہمیت رکھتا ہے کہ علم کو دعوت اور دعوت کو اصلاح کے ساتھ مربوط کیا جائے۔ ایک عالم جب کتاب، منبر، درس، خطاب اور قلم کے ذریعے لوگوں تک دین کا پیغام پہنچاتا ہے، تو وہ معاشرے کی فکری بنیادوں کو مضبوط کرنے میں اپنا اہم ترین کردار ادا کرتا ہے۔
اصلاحِ معاشرہ کی جدوجہد:
آج ہمارا معاشرہ مختلف فکری، اخلاقی اور تہذیبی چیلنجز سے سخت دوچار ہے۔ خاندانی نظام کی کمزوری، اخلاقی اقدار میں کمی، مادیت پرستی، بے مقصدیت اور نوجوان نسل میں فکری انتشار ایسے مسائل ہیں، جن پر اہلِ علم کو سنجیدگی سے کام کرنا ہو گا۔
اصلاح کا عمل صرف تنقید سے نہیں، بلکہ حکمت، محبت، تعلیم و تربیت اور مسلسل دعوت سے آگے بڑھتا ہے۔ قرآن مجید نے دعوت کےلیے حکمت اور بہترین اندازِ گفتگو کا حکم دیا ہے۔
اس تناظر میں اصلاحی فکر رکھنے والے اہلِ علم کی ذمہ داری بہت اہم ہے کہ وہ معاشرے کی بیماریوں کی نشاندہی و تشخیص کے ساتھ ان کا مثبت اور شرعی حل اور علاج بھی پیش کریں۔ ڈاکٹر فیض احمد بھٹی نے اپنی تقریروں اور تحریروں سے اس پہلو میں کافی اہم کردار ادا کیا ہے۔
ملکی اور ملی شعور:
اسلام انسان کو اپنی ذات تک محدود نہیں کرتا۔ مسلمان اپنے خاندان، معاشرے، ملت اور وطن کے بارے میں بھی ذمہ داری کا احساس رکھتا ہے۔
پاکستان ہمارا وطن ہے اور اس کی سلامتی، استحکام، ترقی اور خوش حالی ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ اہلِ علم کا کردار اس حوالے سے اس لیے بھی اہم ہے کہ وہ عوام اور خصوصاً نوجوانوں میں قانون پسندی، اتحاد، دیانت، محنت، حب الوطنی، اخوت اور ذمہ داری کا شعور پیدا کر سکتے ہیں۔
ڈاکٹر فیض احمد بھٹی حفظہ اللہ کی ملکی و ملی خدمات کو اسی وسیع تناظر میں دیکھا جانا چاہیے کہ دین اور وطن کو باہمی خیر، امن اور خدمت کے جذبے کے ساتھ آگے بڑھایا جائے۔ قوموں کی ترقی صرف معاشی وسائل سے نہیں ہوتی، بلکہ علم، کردار، اتحاد اور ذمہ داری بھی اس کے بنیادی عناصر ہیں۔
رفاہی اور انسانی خدمت:
اسلامی تعلیمات میں خدمتِ خلق کو عظیم مقام حاصل ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"خیر الناس أنفعهم للناس”
"لوگوں میں بہترین وہ ہے جو لوگوں کےلیے زیادہ نفع بخش ہو۔”
رفاہی خدمت دراصل معاشرے کے کمزور طبقات کا سہارا بننے کا نام ہے۔ کسی بھوکے کو کھانا کھلانا، ضرورت مند کی مدد کرنا، کسی پریشان حال کی دلجوئی کرنا اور کسی مشکل میں گھرے انسان کے کام آنا اسلامی معاشرت کے بنیادی تقاضوں میں شامل ہے۔
علمی و دینی خدمت کے ساتھ رفاہی جذبہ کسی بھی شخصیت کے کردار کو مزید جامع بناتا ہے۔ ڈاکٹر فیض احمد بھٹی حفظہ اللہ کی رفاہی خدمات اسی احساسِ ذمہ داری اور خدمتِ انسانیت کے جذبے کی عکاسی کرتی ہیں۔
صحافت اور قلم ایک عظیم ذمہ داری:
موجودہ دور میں صحافت معاشرے کی فکری سمت متعین کرنے میں بڑا اہم کردار ادا کرتی ہے۔ اخبارات، رسائل، ٹی وی کے بعد ڈیجیٹل میڈیا نے ابلاغ کے ذرائع کو وسیع تر کر دیا ہے۔
سو ایسے ماحول میں قلم کی ذمہ داری پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔ قلم اگر حق، صداقت، تحقیق اور اصلاح کےلیے استعمال ہو تو یہ معاشرے میں انقلاب پیدا کرسکتا ہے، لیکن اگر اسے تعصب، افواہ اور سنسنی کےلیے استعمال کیا جائے تو یہ معاشرتی انتشار کا سبب بھی بن سکتا ہے۔
اسلام نے خبر کے معاملے میں تحقیق اور احتیاط کی تعلیم دی ہے: ﴿فَتَبَيَّنُوا﴾
"خوب تحقیق کرلیا کرو۔”
(سورۃ الحجرات: 6)
دینی و ملی صحافت کے میدان میں علمی دیانت، تحقیق، توازن اور مثبت فکر بنیادی ضرورت ہے۔ ڈاکٹر فیض احمد بھٹی حفظہ اللہ کی صحافتی خدمات کو اسی تناظر میں قابلِ قدر سمجھا جا سکتا ہے کہ قلم کو اصلاح، آگہی اور خیر کےلیے استعمال کیا جائے۔
نوجوان نسل کی فکری تربیت:
آج کا نوجوان معلومات کے ایک ایسے سمندر میں کھڑا ہے، جہاں صحیح اور غلط، حق اور باطل، حقیقت اور افسانہ ایک دوسرے میں گڈمڈ دکھائی دیتے ہیں۔ سوشل میڈیا نے نوجوان کو دنیا بھر کے افکار تک رسائی تو دے دی ہے، لیکن ہر دستیاب بات قابلِ قبول نہیں ہوتی۔ اس لیے نئی نسل کو قرآن و سنت، مطالعہ، تحقیق، مثبت فکر اور صالح کردار سے جوڑنا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔
اہلِ علم کا فرض ہے کہ نوجوانوں سے محض شکایت نہ کریں، بلکہ ان کے سوالات سنیں، ان کی فکری الجھنوں کو سمجھیں اور انہیں حکمت و محبت کے ساتھ دین کی طرف رہنمائی فراہم کریں۔
اس میدان میں علمی مراکز، دینی مجالس، تحقیقی سرگرمیاں اور صحافتی پلیٹ فارمز مؤثر کردار ادا کرسکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ڈاکٹر فیض احمد بھٹی حفظہ اللہ کی صحافت سمیت مختلف شعبوں سے وابستہ خدمات کو ایک دوسرے سے جدا کر کے نہیں، بلکہ ایک جامع خدمتِ دین اور خدمتِ ملت کے تسلسل کے طور پر دیکھنا چاہیے۔
اسلامی تاریخ میں وہی علماء زیادہ مؤثر ثابت ہوئے، جنہوں نے علم کو عمل اور عمل کو دعوت کے ساتھ جوڑا۔ محض علم انسان کو مکمل نہیں بناتا، جب تک اس علم کا اثر کردار میں ظاہر نہ ہو۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لِمَ تَقُولُونَ مَا لَا تَفْعَلُونَ. كَبُرَ مَقْتًا عِندَ اللَّهِ أَن تَقُولُوا مَا لَا تَفْعَلُونَ﴾
"اے ایمان والو! تم وہ بات کیوں کہتے ہو جو کرتے نہیں؟ اللہ کے نزدیک یہ بات سخت ناپسندیدہ ہے کہ تم وہ کہو جو کرتے نہیں۔” (سورۃ الصف: 2-3)
اسی لیے کسی عالم کی اصل کامیابی یہ ہے کہ اس کا علم اس کے کردار، دعوت، خدمت اور معاشرتی اثرات میں نظر آئے۔
خدمت کا یہ سفر جاری رہنا چاہیے:
قوموں کی تاریخ میں شخصیات کا اصل سرمایہ ان کی عمارتیں یا عہدے نہیں، بلکہ وہ علم، فکر، کردار اور خدمت ہوتی ہے، جو وہ اپنے پیچھے چھوڑ جاتی ہیں۔
علمی مراکز کا فروغ، تحقیق کی حوصلہ افزائی، دینی شعور کی بیداری، صحافت کے ذریعے مثبت فکر کی ترویج، رفاہی سرگرمیوں کا فروغ اور نئی نسل کی تربیت ایسے کام ہیں، جن کے اثرات ایک نسل سے دوسری نسل تک منتقل ہوتے ہیں۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ ڈاکٹر فیض احمد بھٹی حفظہ اللہ جیسے اہلِ علم کی خدمات کو نئی نسل کے سامنے ایک مثال کے طور پر پیش کیا جائے، تاکہ نوجوان یہ سمجھ سکیں کہ کامیاب زندگی صرف ذاتی ترقی کا نام نہیں، بلکہ علم حاصل کرنا، علم پھیلانا، انسانوں کی خدمت کرنا اور معاشرے کی اصلاح میں حصہ لینا ہے۔
خراجِ تحسین:
فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر فیض احمد بھٹی حفظہ اللہ کی علمی، دینی، ملکی، ملی، رفاہی، اصلاحی اور صحافتی خدمات یقیناً قابلِ قدر ہیں۔ ان کی شخصیت علم و تحقیق سے وابستگی، دینی دعوت سے تعلق، معاشرتی اصلاح کی فکر، رفاہی خدمت اور قلمی جدوجہد کا ایک خوب صورت امتزاج پیش کرتی ہے۔
ایسی شخصیات معاشرے کےلیے اللہ کی نعمت ہوتی ہیں۔ ان کی خدمات کا اعتراف اور ان پر انہیں خراجِ تحسین پیش کرنا دراصل علم کی عظمت، دعوت کی اہمیت، تحقیق کی ضرورت، خدمتِ خلق کی قدر اور مثبت صحافت کی افادیت کو خراجِ تحسین پیش کرنا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے جن لوگوں کو علم اور صلاحیت عطا فرمائی ہے، ان سے معاشرے کو بہت سی توقعات وابستہ ہوتی ہیں۔ دعا ہے کہ فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر فیض احمد بھٹی حفظہ اللہ کو اللہ تعالیٰ مزید اخلاص، صحت، عافیت، استقامت اور توفیق عطا فرمائے، ان کے علم و عمل میں برکت عطا فرمائے، ان کی تحقیقی و علمی کاوشوں کو قبول فرمائے۔ ابن عباس اسلامک ریسرچ سینٹر جہلم کو علم و تحقیق اور دعوت و اصلاح کا مؤثر مرکز بنائے اور ان کی تمام دینی، علمی، ملی، رفاہی، اصلاحی اور صحافتی خدمات کو ان کےلیے صدقۂ جاریہ بنائے۔
اللہ تعالیٰ انہیں دین و ملت کی مزید خدمت کی توفیق دے، ان کے قلم کو حق کی ترجمانی کےلیے، ان کے علم کو اصلاحِ امت کےلیے اور ان کی صلاحیتوں کو انسانیت کی بھلائی کےلیے قبول فرمائے آمین۔

حافظ ارشد محمود حیات
جامعہ اسلامیہ اہل حدیث پنڈی گھیب

Facebook
Twitter
LinkedIn
Pinterest
Pocket
WhatsApp

متعلقہ خبریں

دوسری ملک گیر کانفرنس سے پہلے ورکشاپ کا انعقادپروفیسر ساجد مقبول آڈیٹوریم یونیورسٹی آف چائلڈ ہیلتھ سائنسز لاہور میں الفلاح فاؤنڈیشن پاکستان کے زیر انتظام یو سی ایچ ایس اور مائنڈ أرگنائزیشن کے تعاون سے سینیئر اور جونیئر ڈاکٹرز کے مابین ہم أہنگی کے فقدان کے عنوان سے پری کانفرنس ورکشاپ کا کامیاب انعقاد 19 اگست 2026 صبح 9 بجے سے 11 بجے تک کیا گیا

دینہ کی تاریخ میں ریکارڈ ساز کیمپ۔معروف چائلڈ سپیشلسٹ ڈاکٹر ملک عدیل افتخار اعوان کی زیر نگرانی عدیل کلینک نزد مرکزی جامع مسجد و میزان بینک جی ٹی روڈ دینہ پر بچوں کی گروتھ اسسمینٹ کیمپ کا انعقاد کیا گیاجس میں دینہ شہر اور اس کے مضافات سے سیکڑوں والدین اپنے نوزائدہ بچوں سے لے کر 14 سال تک کے بچوں کے ساتھ تشریف لائے اور ان کی گروتھ اسسمینٹ کروائی

آج بھی حضرت محمد ﷺ روضہ اطہر میں اُسی طرح جلوہ افروز ہیں جیسے اس دار دنیا میں جلوہ افروز تھے۔اگر کوئی وہاں صدق دل سے حاضر ہو کر اپنے گناہوں کی بخشش طلب کی جائے تو اللہ کریم آپ ﷺ کے صدقے معاف فرمائیں گے۔دیکھنا یہ ہے کہ ہم نہاں خانہ دل سے یہ تڑپ لے کر جارہے ہیں؟اگر ہماری اکثریت صدق سے جاتی تو ہمارے معاشرے میں حجاج اور عمرہ کرنے والے سب سے زیادہ ہیں پھر بھی معاشرے میں انحطاط ہے۔امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ وسربراہ تنظیم الاخوان پاکستان کا فیصل آباد کیولیم مارکی میں بعثت رحمت عالم ﷺ کانفرنس میں خواتین و حضرات کی بڑی تعداد سے خطاب

جہلم (نعیم احمد بھٹی) جہلم میں گیس کا بحران شدت اختیار کر گیا جبکہ وزیر اعظم مختلف ممالک کے دوروں پر سوئی گیس کا سسٹم بھی کولیپس کر گیا شہر کے کئی علاقوں میں کئی کئی گھنٹوں تک گیس غائب خواتین کو کھانا پکانا مشکل ہوگیا دن رات کئی کئی گھنٹوں تک گیس آتی ہی نہیں حکومت گیس کے بحران کو حل نہ کر سکی

تازہ ترین خبریں

دوسری ملک گیر کانفرنس سے پہلے ورکشاپ کا انعقادپروفیسر ساجد مقبول آڈیٹوریم یونیورسٹی آف چائلڈ ہیلتھ سائنسز لاہور میں الفلاح فاؤنڈیشن پاکستان کے زیر انتظام یو سی ایچ ایس اور مائنڈ أرگنائزیشن کے تعاون سے سینیئر اور جونیئر ڈاکٹرز کے مابین ہم أہنگی کے فقدان کے عنوان سے پری کانفرنس ورکشاپ کا کامیاب انعقاد 19 اگست 2026 صبح 9 بجے سے 11 بجے تک کیا گیا

دینہ کی تاریخ میں ریکارڈ ساز کیمپ۔معروف چائلڈ سپیشلسٹ ڈاکٹر ملک عدیل افتخار اعوان کی زیر نگرانی عدیل کلینک نزد مرکزی جامع مسجد و میزان بینک جی ٹی روڈ دینہ پر بچوں کی گروتھ اسسمینٹ کیمپ کا انعقاد کیا گیاجس میں دینہ شہر اور اس کے مضافات سے سیکڑوں والدین اپنے نوزائدہ بچوں سے لے کر 14 سال تک کے بچوں کے ساتھ تشریف لائے اور ان کی گروتھ اسسمینٹ کروائی

آج بھی حضرت محمد ﷺ روضہ اطہر میں اُسی طرح جلوہ افروز ہیں جیسے اس دار دنیا میں جلوہ افروز تھے۔اگر کوئی وہاں صدق دل سے حاضر ہو کر اپنے گناہوں کی بخشش طلب کی جائے تو اللہ کریم آپ ﷺ کے صدقے معاف فرمائیں گے۔دیکھنا یہ ہے کہ ہم نہاں خانہ دل سے یہ تڑپ لے کر جارہے ہیں؟اگر ہماری اکثریت صدق سے جاتی تو ہمارے معاشرے میں حجاج اور عمرہ کرنے والے سب سے زیادہ ہیں پھر بھی معاشرے میں انحطاط ہے۔امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ وسربراہ تنظیم الاخوان پاکستان کا فیصل آباد کیولیم مارکی میں بعثت رحمت عالم ﷺ کانفرنس میں خواتین و حضرات کی بڑی تعداد سے خطاب