
جہلم (نعیم احمد بھٹی) شہر اور اس کے ارد گرد کے علاقوں میں عطائی ڈاکٹروں کی بھرمار کیا محکمہ ہیلتھ نے ان کو شہریوں کی زندگیوں سے کھیلنے کا لائسنس جاری کر رکھا ہے ڈپٹی ڈی ایچ او محکمہ ہیلتھ جہلم کی کارکردگی پر سوالیہ نشان اٹھتا جا رہا ہے ان کو نشاندہی کرنے کے باوجود بھی وہ کاروائی کرنے سے کیوں گریزاں ہیں جبکہ دوسری طرف ڈرگ انسپکٹر نے بھی میڈیکل اسٹورز کو کھلی چھوٹ دے دی شدید گرمی اور حبس کے موسم میں میڈیکل اسٹورز والے اے سی نہیں چلاتے ان کو چیک کون کرے گا ؟ محکمہ صحت کے افسران کی کارکردگی پر شہری کئی طرح کے سوالات اٹھانے لگے کہیں یہ تو نہیں کہ مینوں نوٹ وکھا میرا موڈ بنے ؟ تفصیلات کے مطابق محکمہ صحت کے افسران کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ؟ شہری یہ سوال کرتے نظر آتے ہیں کہ شہر اور اس کے ارد گرد کے علاقوں میں عطائی ڈاکٹروں کی بھرمار نے شہریوں کو مزید کئی امراض میں مبتلا کر دیا کیا محکمہ صحت کے افسران نے ان کو شہریوں کی زندگی سے کھیلنے کا لائسنس جاری کر دیا ہے محکمہ صحت کے افسران ان کو کیوں نہیں پوچھتے ان کی ڈگریاں کیوں نہیں چیک کرتے یہ عطائی ڈاکٹر اسٹیرائز میڈیسن کا بے دریغ استعمال کرتے ہیں ایک ہی سرنج سے کئی مریضوں کو انجیکشن بھی لگا دیتے ہیں جو کہ مریض کے لیے انتہائی خطرناک بھی ثابت ہوسکتا ہے ستم ظریفی یہ ہے کہ ان کے پیچھے کئی سیاسی اور بڑے لوگ بھی ہوتے ہیں ڈی ڈی ایچ او ان عطائی ڈاکٹروں کے خلاف نشاندہی کرنے کے باوجود کاروائی کرنے سے گریزاں نظر آتے ہیں جبکہ دوسری طرف ڈرگ انسپکٹر کی کارکردگی پر بھی سوالیہ نشان اٹھ رہا ہے کہ وہ اس شدید گرمی اور حبس کے موسم میں ان میڈیکل اسٹورز کے خلاف کاروائیاں کیوں نہیں کرتے جو اے سی نہیں چلاتے اور ٹمپریچر کو میڈیسن پر لکھے ٹمپریچر کے مطابق نہیں رکھتے جبکہ ذرائع کے کئی میڈیکل اسٹورز پر نشہ آور انجیکشن کی فروخت بھی غیر قانونی طور پر جاری ہے کیا محکمہ صحت کا نظام بھی کولیپس کر چکا شہریوں کا کہنا ہے کہ اس وقت کئی علاقوں میں عطائی ڈاکٹر دیدہ دلیری سے کام کرتے نظر آتے ہیں دانتوں کے کئی کلینکس میں عطائی ڈاکٹر موجود ہیں نیا بازار میں اس وقت یہ کام عروج پر ہے شہریوں نے محکمہ ہیلتھ کی کارکردگی پر سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ کہیں یہ تو نہیں کہ مینوں نوٹ وکھا میرا موڈ بنے ؟ شہریوں نے محکمہ صحت کے سی او ڈاکٹر میاں مظہر حیات سے نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے



















