

جہلم (نعیم احمد بھٹی) وزیر اعلیٰ کے پنجاب میں سرکار کے اسکولوں کا برا حال ماڈل بازار بنانا ضروری سرکاری اسکولوں کی خستہ حال بلڈنگ جائے بھاڑ میں 18 گھنٹے گزرنے کے بعد محکمہ میٹھی نیند سو رہا ہے ہنگامی بنیادوں پر کام شروع نہ ہوسکا محکمہ ایجوکیشن کا سسٹم بھی کولیپس محکمہ ایجوکیشن کی ناقص ترین کارکردگی اور نااہلی گزشتہ سال الطاف حسین ہائی اسکول کے بوسیدہ کمرے کی دیوار گری تھی اس کے باوجود محکمہ کو ہوش کیوں نہ آیا اور دیوار کو عارضی طور پر بنا دیا گیا تھا اور چھت پر صرف شیٹ ڈال دی گئی لیکن افسوس کہ اس خستہ حال اور بوسیدہ کمرے کو گرا کر نئی تعمیر نہیں کی گئی جہاں دیوار گری وہ بورڈنگ محلہ کا گنجان آباد علاقہ ہے اور گلی سے کئی لوگوں کا گزر ہوتا ہے خوش قسمتی سے اہل علاقہ بچ گئے اہل علاقہ کے لوگوں کا کہنا ہے کہ ہم کئی بار محکمہ ایجوکیشن کو کہہ چکے کہ خستہ حال بلڈنگ کی نئی تعمیر کی جائے لیکن محکمہ ایجوکیشن کے کانوں میں جوں تک نہ رینگی یہاں جب تک کوئی حادثہ رونما نہ ہو جائے اس وقت تک محکمے بھی سوئے رہتے ہیں ڈپٹی کمشنر میر رضا اوزگن اس کا نوٹس لیں اور اہل علاقہ کو بڑے حادثے سے بچائیں۔ تفصیلات کے مطابق وزیر اعلیٰ کے پنجاب میں سرکار کے اسکولوں کا برا حال کیا محکمہ ایجوکیشن کا سسٹم بھی کولیپس کر چکا محکمہ ایجوکیشن کی ناقص ترین کارکردگی اور نااہلی کے باعث الطاف حسین ہائی اسکول کی بوسیدہ اور خستہ حال چھت اور دیوار گر گئی کبھی محکمہ کے سی او نے اپنے اسکولوں کا دورہ کیا اگر یہی کام گزشتہ سال ہوجاتا تو آج یہ خستہ حال چھت اور دیوار نہ گرتی اگر محکمہ ایجوکیشن 14 اگست کو 25 لاکھ کا جھنڈا بنا سکتا ہے تو پھر یہ خستہ حال عمارت کی نئی تعمیر کیوں نہ کی گئی شہری تو پوچھیں گے وہ سوالات تو کریں گے کہ پنجاب حکومت ماڈل بازار بنانے پر بضد ہے جبکہ سرکار کے اسکولوں کی خستہ حال بلڈنگز کا برا حال ہے طلبا اور طالبات کی جانوں کو شدید خطرات لاحق ہیں آخر حکومت ان پر توجہ کیوں نہیں دیتی کیا ماڈل بازار بنانا اتنا ہی ضروری تھا ؟ اسکول کے سامنے رہنے والے کاشف اسلام ایڈووکیٹ نے کہا کہ محکمہ ایجوکیشن کے سی او کی کارکردگی پر بھی سوالیہ نشان اٹھنے لگا ہے کہ کیا کبھی انہوں نے ان بلڈنگز کا دورہ کیا سابق اور موجودہ ڈپٹی کمشنر بھی اکثر الطاف حسین ہائی اسکول کے دورے کرتے رہے پھر یہ خستہ حال بلڈنگ کی تعمیر کیوں نہ کی گئی سرکاری اسکولوں کے سروے کیوں نہ کروائے گئے گزشتہ سال اسکول کی دیوار گرنے کے بعد بھی محکمہ ایجوکیشن کو ہوش کیوں نہ آیا اس کے باوجود سی او ایجوکیشن اپنی کرسی پر ڈھٹائی سے برا جمان کیوں ہیں ؟ 18 گھنٹے گزرنے کے بعد بھی کام شروع نہ ہوسکا جس سے اہل علاقہ کے لوگوں کی جانوں کو بھی خطرہ لاحق ہے خوش قسمتی سے گزشتہ سال بھی دیوار گرنے سے گلی سے گزرتے ماں بیٹا بچ گئے تھے اور کل بھی دو افراد بچ گئے اہل علاقہ نے ڈپٹی کمشنر میر رضا اوزگن سے نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے اور ناقض کارکردگی پر سی او ایجوکیشن کے استعفے کا مطالبہ بھی کیا ہے



















