چیف ایڈیٹر:طارق محمود چودھری  ایڈیٹر: مظہر اقبال چودھری  مینیجنگ ایڈیٹر: ادریس چودھری

اگست 22, 2026 5:02 شام

پاکستان، سعودی عرب اور ترکی: اسلامی طاقت کی نئی مثلث* (امت مسلمہ کے زوال سے عروج کی جانب ایک پُرعزم سفر کا آغاز)*بقلم: ڈاکٹر فیض احمد بھٹی

*پاکستان، سعودی عرب اور ترکی: اسلامی طاقت کی نئی مثلث* (امت مسلمہ کے زوال سے عروج کی جانب ایک پُرعزم سفر کا آغاز)*بقلم: ڈاکٹر فیض احمد بھٹی*

جب کبھی اہل کفر نے اہل اسلام پہ غلبہ پایا، تو اس کی بڑی وجہ مسلمانوں کا آپس میں اختلاف تھا۔ آج اگر دنیا کے مختلف خطوں کے مسلمان کمزور ہیں تو اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کا آپس میں اتفاق یا اتحاد نہیں ہے۔ بدقسمتی سے یہ سلسلہ صدیوں سے چلا آ رہا ہے۔ اور ہمارے اس باہمی انتشار کا فائدہ یورپ (یہود و نصاری) نے یوں اٹھایا کہ انہوں نے ہمارے عام سے اختلافات کو جنہیں باہمی افہام وتفہیم سے حل کیا جا سکتا تھا، بڑی شاطرانہ چال سے دشمنی میں بدلا اور پھر ہمیں ایک دوسرے سے ڈرا کر، الجھا کر خوب اپنا اسلحہ بیچا۔ پھر جانے انجانے میں اس اسلحے کو ہم نے اپنوں کے خلاف آزمایا، اپنے ہی مسلم بھائیوں کے خلاف استعمال کیا۔ یوں اغیار کی سازش سے مسلمان ہی مسلمان کے لہو کا پیاسا بن گیا۔اب حال ہی میں پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے درمیان ہونے والا معاہدہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ ہم راہ راست پہ آ گئے ہیں، ہم زوال سے عروج کی جانب گامزن ہو گئے ہیں،،،،پاک ترکیہ سعودیہ معاہدہ کوئی معمولی چیز نہیں۔ یہ مسلم امہ کی تاریخ میں ایک انتہائی اہم پیش رفت ہے۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد سے مسلمانوں پر جو ذلت مسلط ہوئی ہے، وہ اگر ختم ہوئی تو اس معاہدے کا شمار اس ذلت کے خاتمے کے اولین نقوش میں ہو گا.چونکہ یہ سب کچھ معرکہ حق (بنیان مرصوص آپریشن) کے بعد ممکن ہو رہا ہے، تو آپ معرکہ حق کو اس معاہدے کا سب سے پہلا نقش قرار دے سکتے ہیں۔باوثوق ذرائع اور تفصیلات کے مطابق 7 اگست 2026ء کو مکہ مکرمہ میں پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان ہونے والا مشترکہ دفاعی معاہدہ محض تین ممالک کے درمیان ایک دفاعی دستاویز نہیں، بلکہ اس کے پیچھے تین مختلف نوعیت کی طاقتوں کا حسین و تقویم امتزاج نظر آتا ہے۔اس شراکت داری کو سمجھنے کےلیے یہ دیکھنا ضروری ہے کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کی مختلف طاقتوں کے باہمی اشتراک سے ایک ناقابلِ شکست اور فاتح فوج کا تصور ابھرتا ہے۔ پاکستان اس اعتبار سے اپنی اعلیٰ ٰعسکری صلاحیت رکھتا ہے کہ یہ ایٹمی طاقت بھی ہے اور اپنی تجربہ کار فوجی افرادی قوت بھی رکھتا ہے۔ پاکستان کی بری اور فضائی افواج کے پاس سابقہ قبائلی علاقوں میں شدت پسندی کے خلاف مسلسل کارروائیوں سے خاطر خواہ عملی تجربہ حاصل ہوا ہے۔ خطے کی پیچیدہ سکیورٹی صورتحال، طویل دفاعی تجربہ اور بھارت کے خلاف مختلف نوعیت کی کئی جنگی کارروائیوں کا تجربہ پاکستان کو خطے میں ایک اہم عسکری کردار قرار دیتا ہے۔ پاکستان کی ایک اور بڑی طاقت اس کا جغرافیائی محلِ وقوع ہے۔ پاکستان جنوبی ایشیا، چین، افغانستان، ایران اور بحیرہ عرب کے سنگم پر واقع ہے۔ گویا یہ ملک ایک ایسے جغرافیائی پل کی حیثیت رکھتا ہے، جو جنوبی ایشیا کو خلیج اور مشرقِ وسطیٰ کے قریب لاتا ہے۔رہا سعودی عرب تو اس کی طاقت سرمایہ، توانائی اور حرمین شریفین کی روحانی اہمیت ہے۔ سعودی قیادت کے محافظ حرمین شریفین کے عظیم منصب کے تناظر میں یہ ملک تمام عالم اسلام میں ممتاز حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کی طاقت کا بنیادی میدان پاکستان سے مختلف ہے۔ سعودی عرب اپنی پٹرولیم مصنوعات کی وجہ سے دنیا کی اہم ترین توانائی معیشتوں میں شمار ہونے والی ایک بڑی معاشی طاقت ہے، جبکہ اس کے پاس بڑے مالی وسائل اور سرمایہ کاری کی غیر معمولی صلاحیت بھی موجود ہے۔ لیکن سعودی عرب کی اہمیت صرف تیل اور پیسے تک محدود نہیں؛ بلکہ مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کی وجہ سے سعودی عرب کو دنیا بھر کے مسلمانوں میں ایک منفرد روحانی اور اعلیٰ مذہبی مقام حاصل ہے۔ سعودی عرب کے پاس سرمایہ ہے، توانائی ہے، خلیج میں اہم جغرافیائی حیثیت ہے اور مسلم دنیا میں غیر معمولی مذہبی اثر و رسوخ ہے۔جبکہ ترکی کی طاقت پاکستان اور سعودی عرب سے مختلف اور بڑی دلچسپ ہے۔ ترکی گذشتہ برسوں میں اپنی دفاعی صنعت کو نمایاں طور پر ترقی دے چکا ہے۔ ڈرونز، دفاعی ٹیکنالوجی، بحری نظام اور دیگر فوجی سازوسامان کی تیاری اور برآمدات نے ترکی کو ایک اہم دفاعی صنعتی ملک بنا دیا ہے۔ ترکی کی دوسری بڑی طاقت اس کا جغرافیہ ہے۔ وہ یورپ اور ایشیا کے درمیان واقع ہے۔ یہ بحیرہ اسود، بحیرہ روم اور مشرقِ وسطیٰ کے قریب اس کی پوزیشن اسے ایک غیر معمولی اسٹریٹجک اہمیت دیتی ہے۔ اس کے علاوہ یہ نیٹو کا رکن بھی ہے، جس کی وجہ سے اس کے عالمی دفاعی اور سفارتی روابط کا دائرہ بہت وسیع ہے۔ ویسے بھی ترکی تاریخی طور پر خلافت عثمانی کا مرکز اور امت مسلمہ کی ایک شاندار طاقت پا پس منظر رکھتا ہے۔یوں تینوں ممالک کی طاقتیں ایک دوسرے کی تکمیل کرتی ہیں۔پاکستان دفاعی طاقت دیتا ہے،سعودی عرب معاشی اور توانائی کی طاقت دیتا ہے اور ترکی ٹیکنالوجی و دفاعی صنعت کی طاقت دیتا ہے۔اگر یہ تینوں طاقتیں طویل المدت منصوبہ بندی، دفاعی صنعت، مشترکہ تربیت، ٹیکنالوجی اور معاشی تعاون میں ایک دوسرے کے ساتھ مربوط رہتی ہیں، تو مکہ معاہدہ محض ایک سفارتی اعلان نہیں رہے گا، بلکہ خطے میں ایک نئے اسٹریٹجک تعاون کی بنیاد بن سکتا ہے۔کویت اور مصر بھی اس معاہدے میں تقریباً شامل ہو چکے ہیں۔ جبکہ شام و قطر سمیت دیگر کئی مسلم ممالک بھی شمولیت کےلیے کمر باندھ رہے ہیں۔سچ پوچھیے! عالم اسلام کے مضبوط ترین اتحاد اور دفاع کے باب میں یہ بہت بڑا اقدام ہونے جا رہا ہے۔ جس کے نتائج بھی بہت دوررس ہوں گے۔ ان شاء اللہویسے بھی یہ وقت اب ایک دوسرے کو کمزور کرنے کا نہیں، بلکہ ایک دوسرے کا ہاتھ تھامنے کا ہے۔ مسلمان اگر اپنے اختلافات کو پسِ پشت ڈال کر اتحاد و اخوت کا راستہ اختیار کر لیں تو دنیا کی کوئی طاقت انہیں شکست نہیں دے سکتی۔لہذا اس معاہدے کی مضبوطی اور اسے عملی جامہ پہنانے کےلیے اخلاص کے ساتھ ساتھ مزید کاوش اور پختہ حکمتِ عملی کی اشد ضرورت ہے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Pinterest
Pocket
WhatsApp

متعلقہ خبریں

نبی کریم ﷺ کو رحمۃ اللعالمین بنا کر بھیجا گیا۔جسے جو نصیب ہو رہا ہے آپ ﷺ کی رحمت سے نصیب ہو رہا ہے۔ہمارے پاس ایسے الفاظ نہیں کہ نبی کریم ﷺ کی شان بیان کر سکیں۔اللہ کریم جانتے ہیں کہ اپنے حبیب ﷺ کو کیا بلندیاں عطا فرمائیں۔ربیع الاول میں کوشش کریں کہ آپ ﷺ کی سیرت پاک کا مطالعہ کیا جائے آپ ﷺ کی ولادت سے لے کر زندگی کا ایک ایک پل جو آپ ﷺ نے بسر فرمایا اس سے ہماری نسلوں کوراہنمائی ملے گی اور بھلائی نصیب ہو گی۔ امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان جمعتہ المبارک کے روز خطاب

دوسری ملک گیر کانفرنس سے پہلے ورکشاپ کا انعقادپروفیسر ساجد مقبول آڈیٹوریم یونیورسٹی آف چائلڈ ہیلتھ سائنسز لاہور میں الفلاح فاؤنڈیشن پاکستان کے زیر انتظام یو سی ایچ ایس اور مائنڈ أرگنائزیشن کے تعاون سے سینیئر اور جونیئر ڈاکٹرز کے مابین ہم أہنگی کے فقدان کے عنوان سے پری کانفرنس ورکشاپ کا کامیاب انعقاد 19 اگست 2026 صبح 9 بجے سے 11 بجے تک کیا گیا

دینہ کی تاریخ میں ریکارڈ ساز کیمپ۔معروف چائلڈ سپیشلسٹ ڈاکٹر ملک عدیل افتخار اعوان کی زیر نگرانی عدیل کلینک نزد مرکزی جامع مسجد و میزان بینک جی ٹی روڈ دینہ پر بچوں کی گروتھ اسسمینٹ کیمپ کا انعقاد کیا گیاجس میں دینہ شہر اور اس کے مضافات سے سیکڑوں والدین اپنے نوزائدہ بچوں سے لے کر 14 سال تک کے بچوں کے ساتھ تشریف لائے اور ان کی گروتھ اسسمینٹ کروائی

آج بھی حضرت محمد ﷺ روضہ اطہر میں اُسی طرح جلوہ افروز ہیں جیسے اس دار دنیا میں جلوہ افروز تھے۔اگر کوئی وہاں صدق دل سے حاضر ہو کر اپنے گناہوں کی بخشش طلب کی جائے تو اللہ کریم آپ ﷺ کے صدقے معاف فرمائیں گے۔دیکھنا یہ ہے کہ ہم نہاں خانہ دل سے یہ تڑپ لے کر جارہے ہیں؟اگر ہماری اکثریت صدق سے جاتی تو ہمارے معاشرے میں حجاج اور عمرہ کرنے والے سب سے زیادہ ہیں پھر بھی معاشرے میں انحطاط ہے۔امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ وسربراہ تنظیم الاخوان پاکستان کا فیصل آباد کیولیم مارکی میں بعثت رحمت عالم ﷺ کانفرنس میں خواتین و حضرات کی بڑی تعداد سے خطاب

تازہ ترین خبریں

نبی کریم ﷺ کو رحمۃ اللعالمین بنا کر بھیجا گیا۔جسے جو نصیب ہو رہا ہے آپ ﷺ کی رحمت سے نصیب ہو رہا ہے۔ہمارے پاس ایسے الفاظ نہیں کہ نبی کریم ﷺ کی شان بیان کر سکیں۔اللہ کریم جانتے ہیں کہ اپنے حبیب ﷺ کو کیا بلندیاں عطا فرمائیں۔ربیع الاول میں کوشش کریں کہ آپ ﷺ کی سیرت پاک کا مطالعہ کیا جائے آپ ﷺ کی ولادت سے لے کر زندگی کا ایک ایک پل جو آپ ﷺ نے بسر فرمایا اس سے ہماری نسلوں کوراہنمائی ملے گی اور بھلائی نصیب ہو گی۔ امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان جمعتہ المبارک کے روز خطاب

دوسری ملک گیر کانفرنس سے پہلے ورکشاپ کا انعقادپروفیسر ساجد مقبول آڈیٹوریم یونیورسٹی آف چائلڈ ہیلتھ سائنسز لاہور میں الفلاح فاؤنڈیشن پاکستان کے زیر انتظام یو سی ایچ ایس اور مائنڈ أرگنائزیشن کے تعاون سے سینیئر اور جونیئر ڈاکٹرز کے مابین ہم أہنگی کے فقدان کے عنوان سے پری کانفرنس ورکشاپ کا کامیاب انعقاد 19 اگست 2026 صبح 9 بجے سے 11 بجے تک کیا گیا

دینہ کی تاریخ میں ریکارڈ ساز کیمپ۔معروف چائلڈ سپیشلسٹ ڈاکٹر ملک عدیل افتخار اعوان کی زیر نگرانی عدیل کلینک نزد مرکزی جامع مسجد و میزان بینک جی ٹی روڈ دینہ پر بچوں کی گروتھ اسسمینٹ کیمپ کا انعقاد کیا گیاجس میں دینہ شہر اور اس کے مضافات سے سیکڑوں والدین اپنے نوزائدہ بچوں سے لے کر 14 سال تک کے بچوں کے ساتھ تشریف لائے اور ان کی گروتھ اسسمینٹ کروائی