
*پاکستان، سعودی عرب اور ترکی: اسلامی طاقت کی نئی مثلث* (امت مسلمہ کے زوال سے عروج کی جانب ایک پُرعزم سفر کا آغاز)*بقلم: ڈاکٹر فیض احمد بھٹی*
جب کبھی اہل کفر نے اہل اسلام پہ غلبہ پایا، تو اس کی بڑی وجہ مسلمانوں کا آپس میں اختلاف تھا۔ آج اگر دنیا کے مختلف خطوں کے مسلمان کمزور ہیں تو اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کا آپس میں اتفاق یا اتحاد نہیں ہے۔ بدقسمتی سے یہ سلسلہ صدیوں سے چلا آ رہا ہے۔ اور ہمارے اس باہمی انتشار کا فائدہ یورپ (یہود و نصاری) نے یوں اٹھایا کہ انہوں نے ہمارے عام سے اختلافات کو جنہیں باہمی افہام وتفہیم سے حل کیا جا سکتا تھا، بڑی شاطرانہ چال سے دشمنی میں بدلا اور پھر ہمیں ایک دوسرے سے ڈرا کر، الجھا کر خوب اپنا اسلحہ بیچا۔ پھر جانے انجانے میں اس اسلحے کو ہم نے اپنوں کے خلاف آزمایا، اپنے ہی مسلم بھائیوں کے خلاف استعمال کیا۔ یوں اغیار کی سازش سے مسلمان ہی مسلمان کے لہو کا پیاسا بن گیا۔اب حال ہی میں پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے درمیان ہونے والا معاہدہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ ہم راہ راست پہ آ گئے ہیں، ہم زوال سے عروج کی جانب گامزن ہو گئے ہیں،،،،پاک ترکیہ سعودیہ معاہدہ کوئی معمولی چیز نہیں۔ یہ مسلم امہ کی تاریخ میں ایک انتہائی اہم پیش رفت ہے۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد سے مسلمانوں پر جو ذلت مسلط ہوئی ہے، وہ اگر ختم ہوئی تو اس معاہدے کا شمار اس ذلت کے خاتمے کے اولین نقوش میں ہو گا.چونکہ یہ سب کچھ معرکہ حق (بنیان مرصوص آپریشن) کے بعد ممکن ہو رہا ہے، تو آپ معرکہ حق کو اس معاہدے کا سب سے پہلا نقش قرار دے سکتے ہیں۔باوثوق ذرائع اور تفصیلات کے مطابق 7 اگست 2026ء کو مکہ مکرمہ میں پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان ہونے والا مشترکہ دفاعی معاہدہ محض تین ممالک کے درمیان ایک دفاعی دستاویز نہیں، بلکہ اس کے پیچھے تین مختلف نوعیت کی طاقتوں کا حسین و تقویم امتزاج نظر آتا ہے۔اس شراکت داری کو سمجھنے کےلیے یہ دیکھنا ضروری ہے کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کی مختلف طاقتوں کے باہمی اشتراک سے ایک ناقابلِ شکست اور فاتح فوج کا تصور ابھرتا ہے۔ پاکستان اس اعتبار سے اپنی اعلیٰ ٰعسکری صلاحیت رکھتا ہے کہ یہ ایٹمی طاقت بھی ہے اور اپنی تجربہ کار فوجی افرادی قوت بھی رکھتا ہے۔ پاکستان کی بری اور فضائی افواج کے پاس سابقہ قبائلی علاقوں میں شدت پسندی کے خلاف مسلسل کارروائیوں سے خاطر خواہ عملی تجربہ حاصل ہوا ہے۔ خطے کی پیچیدہ سکیورٹی صورتحال، طویل دفاعی تجربہ اور بھارت کے خلاف مختلف نوعیت کی کئی جنگی کارروائیوں کا تجربہ پاکستان کو خطے میں ایک اہم عسکری کردار قرار دیتا ہے۔ پاکستان کی ایک اور بڑی طاقت اس کا جغرافیائی محلِ وقوع ہے۔ پاکستان جنوبی ایشیا، چین، افغانستان، ایران اور بحیرہ عرب کے سنگم پر واقع ہے۔ گویا یہ ملک ایک ایسے جغرافیائی پل کی حیثیت رکھتا ہے، جو جنوبی ایشیا کو خلیج اور مشرقِ وسطیٰ کے قریب لاتا ہے۔رہا سعودی عرب تو اس کی طاقت سرمایہ، توانائی اور حرمین شریفین کی روحانی اہمیت ہے۔ سعودی قیادت کے محافظ حرمین شریفین کے عظیم منصب کے تناظر میں یہ ملک تمام عالم اسلام میں ممتاز حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کی طاقت کا بنیادی میدان پاکستان سے مختلف ہے۔ سعودی عرب اپنی پٹرولیم مصنوعات کی وجہ سے دنیا کی اہم ترین توانائی معیشتوں میں شمار ہونے والی ایک بڑی معاشی طاقت ہے، جبکہ اس کے پاس بڑے مالی وسائل اور سرمایہ کاری کی غیر معمولی صلاحیت بھی موجود ہے۔ لیکن سعودی عرب کی اہمیت صرف تیل اور پیسے تک محدود نہیں؛ بلکہ مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کی وجہ سے سعودی عرب کو دنیا بھر کے مسلمانوں میں ایک منفرد روحانی اور اعلیٰ مذہبی مقام حاصل ہے۔ سعودی عرب کے پاس سرمایہ ہے، توانائی ہے، خلیج میں اہم جغرافیائی حیثیت ہے اور مسلم دنیا میں غیر معمولی مذہبی اثر و رسوخ ہے۔جبکہ ترکی کی طاقت پاکستان اور سعودی عرب سے مختلف اور بڑی دلچسپ ہے۔ ترکی گذشتہ برسوں میں اپنی دفاعی صنعت کو نمایاں طور پر ترقی دے چکا ہے۔ ڈرونز، دفاعی ٹیکنالوجی، بحری نظام اور دیگر فوجی سازوسامان کی تیاری اور برآمدات نے ترکی کو ایک اہم دفاعی صنعتی ملک بنا دیا ہے۔ ترکی کی دوسری بڑی طاقت اس کا جغرافیہ ہے۔ وہ یورپ اور ایشیا کے درمیان واقع ہے۔ یہ بحیرہ اسود، بحیرہ روم اور مشرقِ وسطیٰ کے قریب اس کی پوزیشن اسے ایک غیر معمولی اسٹریٹجک اہمیت دیتی ہے۔ اس کے علاوہ یہ نیٹو کا رکن بھی ہے، جس کی وجہ سے اس کے عالمی دفاعی اور سفارتی روابط کا دائرہ بہت وسیع ہے۔ ویسے بھی ترکی تاریخی طور پر خلافت عثمانی کا مرکز اور امت مسلمہ کی ایک شاندار طاقت پا پس منظر رکھتا ہے۔یوں تینوں ممالک کی طاقتیں ایک دوسرے کی تکمیل کرتی ہیں۔پاکستان دفاعی طاقت دیتا ہے،سعودی عرب معاشی اور توانائی کی طاقت دیتا ہے اور ترکی ٹیکنالوجی و دفاعی صنعت کی طاقت دیتا ہے۔اگر یہ تینوں طاقتیں طویل المدت منصوبہ بندی، دفاعی صنعت، مشترکہ تربیت، ٹیکنالوجی اور معاشی تعاون میں ایک دوسرے کے ساتھ مربوط رہتی ہیں، تو مکہ معاہدہ محض ایک سفارتی اعلان نہیں رہے گا، بلکہ خطے میں ایک نئے اسٹریٹجک تعاون کی بنیاد بن سکتا ہے۔کویت اور مصر بھی اس معاہدے میں تقریباً شامل ہو چکے ہیں۔ جبکہ شام و قطر سمیت دیگر کئی مسلم ممالک بھی شمولیت کےلیے کمر باندھ رہے ہیں۔سچ پوچھیے! عالم اسلام کے مضبوط ترین اتحاد اور دفاع کے باب میں یہ بہت بڑا اقدام ہونے جا رہا ہے۔ جس کے نتائج بھی بہت دوررس ہوں گے۔ ان شاء اللہویسے بھی یہ وقت اب ایک دوسرے کو کمزور کرنے کا نہیں، بلکہ ایک دوسرے کا ہاتھ تھامنے کا ہے۔ مسلمان اگر اپنے اختلافات کو پسِ پشت ڈال کر اتحاد و اخوت کا راستہ اختیار کر لیں تو دنیا کی کوئی طاقت انہیں شکست نہیں دے سکتی۔لہذا اس معاہدے کی مضبوطی اور اسے عملی جامہ پہنانے کےلیے اخلاص کے ساتھ ساتھ مزید کاوش اور پختہ حکمتِ عملی کی اشد ضرورت ہے۔



















