





جہلم ( پروفیسر خورشید علی ڈار )۔ڈی پی آئی سیکنڈری ایجوکیشن پنجاب قیصر رشید کا سی ای او ایجوکیشن نازیہ شہزادی کے ہمراہ جہلم کے مختلف سرکاری سکولوں کا دورہ، ترقیاتی منصوبوں کا جائزہ، معیار و رفتار یقینی بنانے کی ہدایت دورے کی تاریخ: 05-09-2026اسکول: گورنمنٹ نور مرصع البنات ایلیمنٹری اسکول، جہلم شہرمقصد: جاری تعمیراتی کاموں، اسکول کی سہولیات اور مجموعی تعلیمی ماحول کا معائنہمشاہداتگورنمنٹ نور مرصع البنات ایلیمنٹری اسکول، جہلم شہر کا دورہ 05 ستمبر 2026 کو کیا گیا۔ اس دورے کا مقصد اسکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کے اسکول مانیٹرنگ یونٹ (SMU) کے ذریعے جاری تعمیراتی کاموں کا معائنہ کرنا اور اسکول کے مجموعی ماحول اور ادارہ جاتی طریقہ کار کا جائزہ لینا تھا۔اس وقت بیت الخلاء کی تعمیر کا کام جاری ہے۔ باقی ماندہ تعمیراتی کاموں کو مقررہ معیار کو برقرار رکھتے ہوئے جلد مکمل کرنے کی ضرورت ہے۔یہ اسکول ایک بہترین تعلیمی ادارہ پایا گیا جہاں طلباء کی تعداد تقریباً 900 ہے۔ صفائی ستھرائی، دیکھ بھال اور اسکول کا مجموعی ماحول بہت اچھا پایا گیا، جو اسکول انتظامیہ کی مؤثر انتظامی صلاحیت اور ادارے کے ساتھ گہری وابستگی (اونرشپ) کا عکاس ہے۔اسکول میں شمسی توانائی (سولر سسٹم) کا انتظام ‘خود مدد’ کی بنیاد پر کیا گیا ہے، جو پائیداری اور بجلی کی بلا تعطل فراہمی کی جانب ایک قابلِ ستائش اقدام ہے۔اسکول میں ‘زندگی گزارنے کی مہارتوں’ (Life Skills) اور ‘شہری شعور’ (Civic Sense) پر بھی فعال انداز میں عمل کیا جا رہا ہے، جس میں طلباء میں ذمہ دارانہ رویے، صفائی، نظم و ضبط اور مثبت شہری اقدار کو فروغ دینے پر زور دیا جاتا ہے۔فلاحی تعاون اور کمیونٹی کی جانب سے ادارے کے ساتھ اپنائیت (اونرشپ) کی ایک خاص طور پر قابلِ ستائش مثال دیکھنے میں آئی۔ اسکول کے ایک سابقہ استاد نے طلباء کے لیے ہال کی تعمیر میں تقریباً 13 ملین روپے کا تعاون کیا ہے۔ یہ نمایاں تعاون ادارے کے ساتھ سابقہ اساتذہ کے مضبوط اور دیرپا تعلق کی عکاسی کرتا ہے اور سرکاری اسکولوں کے لیے کمیونٹی اور سابقہ طلباء (ایلومنائی) کا تعاون حاصل کرنے کے حوالے سے ایک بہترین نمونہ فراہم کرتا ہے۔ہدایات / سفارشاتمتعلقہ حکام/ٹھیکیدار کو ہدایت کی جائے کہ وہ باقی ماندہ تعمیراتی کاموں، خاص طور پر بیت الخلاء کی تعمیر میں تیزی لائیں اور معیار پر سمجھوتہ کیے بغیر ان کی بروقت تکمیل کو یقینی بنائیں۔اسکول انتظامیہ کو بھی ہدایت کی جائے کہ وہ صفائی ستھرائی، دیکھ بھال، اور زندگی گزارنے کی مہارتوں و شہری شعور کے حوالے سے موجودہ اعلیٰ معیارات کو برقرار رکھے۔خود مدد کی بنیاد پر شمسی توانائی کے نظام کی تنصیب اور اسکول کے بنیادی ڈھانچے کے لیے فلاحی تعاون جیسے اقدامات قابلِ تعریف ہیں؛ انہیں ‘بہترین طریقہ کار’ (good practices) کے طور پر دستاویزی شکل دی جانی چاہیے تاکہ دیگر اسکولوں میں بھی ان کا اطلاق ممکن ہو سکے۔



















