چیف ایڈیٹر:طارق محمود چودھری  ایڈیٹر: مظہر اقبال چودھری  مینیجنگ ایڈیٹر: ادریس چودھری

ستمبر 7, 2026 5:30 شام
تازہ ترین خبریں

7ستمبر 1974ء – 7ستمبر 2026ء**یومِ تحفظ ختم نبوت*(اس موقع پر ہم ختم نبوت کے شہیدوں، مجاہدوں، غازیوں، اور سپہ سالاروں سمیت تمام پاکستانی مسلمانوں کو خراج تحسین پیش کرتے)*بقلم:*ڈاکٹر فیض احمد بھٹی

*7ستمبر 1974ء – 7ستمبر 2026ء**یومِ تحفظ ختم نبوت*(اس موقع پر ہم ختم نبوت کے شہیدوں، مجاہدوں، غازیوں، اور سپہ سالاروں سمیت تمام پاکستانی مسلمانوں کو خراج تحسین پیش کرتے)*بقلم:*ڈاکٹر فیض احمد بھٹی

عقیدہ ختم نبوت "کلمہ طیبہ” کی قبولیت میں شرط اول ہے۔ اگر ختم نبوت پر ایمان نہیں تو خالی کلمے کے اقرار کی کوئی حیثیت نہیں۔ ختم نبوت کے حوالے سے اگر عہد رسالت اور عہد صحابہ، مطلب قرون اولی کا تاریخی مطالعہ کیا جائے تو یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ ختم نبوت کا منکر تب بھی کافر تھا، آج بھی کافر ہے اور تا قیامت کافر ہی کہلائے گا۔جہاں تک تعلق ہے قادیانیوں کا تو یہ نہ صرف کافر ہیں، بلکہ یہ بدترین مرتد ہیں؛ کیونکہ یہ کلمہ گوئی کا بھی اظہار کرتے ہیں اور ختم نبوت کا بھی انکار کرتے ہیں۔ اسی طرح پاکستانی ہونے کا بھی دعوی کرتے ہیں اور آئین پاکستان کے بھی منکر ہیں۔ان کا پس منظر کچھ یوں ہے کہ برصغیر پاک و ہند میں "مرزا غلام قادیانی” نے کذب بیانی کے مختلف مراحل سے گزرتے ہوے آخرہ مرحلے میں نبوت کا دعوی کر دیا۔ دھیرے دھیرے کچھ لوگ اس کے پیروکار بھی بن گئے۔ بین الاقوامی کفریہ طاقتوں بالخصوص برطانوی سامراج کی پشت پناہی کی وجہ سے یہ لوگ مالی طور پر مضبوط در مضبوط ہونے لگے اور لوگوں کو لالچ، دھونس، دھمکی اور ورغلا کر اپنی ارتدادی مہم کو آگے بڑھانے کی کوشش میں مصروف ہو گئے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ان کی شرارتیں اور خباثتیں مزید ظاہر ہونا شروع ہوئیں اور ایک وقت ایسا بھی آیا کہ جب یہ کھلم کھلا دندناتے ہوئے اپنی بد عقیدگی پھیلانے لگ گئے۔ تقسیم ہند کے بعد اس بات کی شدت سے ضرورت محسوس ہوئی کہ اب اس فتنے کو کم از کم پاکستانی سطح پر قانونی طور پہ غیر مسلم قرار دے کر ہمیشہ ہمیشہ کےلیے دفن کر دیا جائے۔چنانچہ اس سلسلے میں کئی تحریکیں اٹھیں اور اپنی طاقت سے بڑھ کر ختم نبوت کی حمایت اور منکرین کے خلاف کام کیا۔ لیکن بعض تحریکیں بعض تاریخوں کو ’”سنہری تاریخ” بنا دیتی ہیں۔ جیسا کہ 1953ء کی تحریک ختم نبوت نے چلتے چلتے 7 ستمبر 1974ء کو ایک "سنہری اور یادگار تاریخ” بنا دیا۔ کیونکہ 7 ستمبر 1974ء کو آئین میں بالاتفاق حتمی طور پہ درج ہو گیا کہ رسالت مآب (صلی اللہ علیہ وسلم) کو کسی بھی پہلو سے آخری نبی نہ ماننے والا دائرہ اسلام سے مکمل طور پہ خارج ہوگا۔اس آئینی فیصلے سے قبل اگرچہ پوری امتِ مسلمہ قادیانیوں کے کافر ہونے کی قائل و فاعل تو تھی، مگر ریاستی سطح پر آئین اس معاملے میں خاموش تھا کہ قادیانی کافر ہیں یا نہیں؟ یہ کریڈٹ اس وقت کے مخلص علماء، مشائخ، وکلاء، سیاتدانوں اور ان تمام احباب گرامی کو جاتا ہے کہ جنہوں نے قادیانی مُربیوں اور انکے حامی وکیلوں کے ساتھ ایک لمبے، آزادانہ اور مُنصفانہ مناظرے کے بعد تمام اَرکان اسمبلی کی اتفاق رائے سے ان کے خارج از اسلام ہونے کا بِل پاس کروایا۔ اور انہیں ریاستی سطح پر ہمیشہ کےلیے کافر ڈکلیئر کیا۔قارئین! یہ تو آئین پاکستان میں درج ہوگیا کہ قادیانی کافر ہیں، مگر یہ تشویش ابھی باقی ہے کہ ان مرزائیت پرستوں نے آج تک اپنی مذکورہ آئینی حیثیت کو تسلیم ہی نہیں کیا۔ لہذا قادیانیوں کی یہ بھیانک ترین روش سیدھی سیدھی آئین پاکستان سے بغاوت اور ملک غداری کے زمرے میں آتی ہے۔ اوپر سے یہ لوگ اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کر کے سادہ لوح مسلمانوں کے ایمان پر حملہ آور رہتے ہیں۔قارئین! پورے پاکستان کا یہ دو ٹوک موقف ہے کہ: یا تو یہ آئین کی رو سے خود کو غیر مسلم قرار دے کر بطور قادیانی اپنی مذہبی شناخت قبول کریں، اور اقلیتی دائرے میں آ کر عیسایوں، یہودیوں، ہندوؤں اور سکھوں کی طرح تمام اقلیتی حقوق حاصل کریں۔ اور یا پھر اپنی سابقہ ڈگر پہ ہی لگے رہیں۔ مگر چور دروازوں سے اسلامی تشخص یا ملکی دھارے میں شامل ہونے کا خیال ہمیشہ ہمیشہ کےلیے دل سے نکال دیں۔ امتِ مسلمہ خصوصاً مسلمانانِ پاکستان ایسا کبھی نہیں ہونے دیں گے (ان شاء اللہ)۔حکومت وقت کو بھی اور آنے والی اگلی حکومتوں کو بھی اس معاملے میں ہوش کے ناخن لینے چاہییں؛ کیونکہ یہ کوئی عام مسئلہ نہیں بلکہ یہ دو جہانوں کے سردار محبوب خدا امام الأنبیا، حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی حرمت و ناموس کا مسئلہ ہے۔ویسے اللّٰہ کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ پوری امت مسلمہ: کیا شیعہ، کیا بریلوی، کیا دیوبندی، کیا اہلحدیث، سب کے سب اس بات پر سو فیصد متفق ہیں کہ ختم نبوت کا منکر پکا کافر ہے۔بلکہ پیر مہر علی شاہ، سید کبیر علی شاہ، مولانا خادم حسین رضوی، مولانا ثناء اللہ امرتسری، مولانا ابرہیم میر سیالکوٹی مولانا حافظ عبد القادر روپڑی، مولانا اللہ وسایا وغیرھم نے تو یہاں تک فتوی دیا کہ جو ختم نبوت کے منکر کو کافر نہ مانے وہ بھی کافر ہے۔جبکہ پروفیسر ساجد میر نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو "نبی اللہ” اور "رسول اللہ” ماننا اگرچہ واجب ہے، مگر خاتم الانبیاء و المرسلین ماننا اوجب الواجبات ہے۔مفتی زر ولی خان مرحرم، مولانا فضل الرحمن، مفتی منیب الرحمن، مفتی منظور مینگل وغیرھم نے کہا کہ قرآن و حدیث کی نصوص صریحہ اور اجماع امت سے قادیانی نہ صرف کافر ہیں بلکہ بد ترین مرتد ہیں۔بہرحال اس فتنے کو آئینی طور پہ دفن کرنے میں علماء، مشائخ، وکلاء، سیاستدان، حکمران بالخصوص سید شاہ احمد نورانی، مفتی محمود، مولانا عبدالستار نیازی، حافظ عبدالقادر روپڑی، علامہ احسان الہی ظہیر اور نوابزادہ نصر اللہ خان کی خدمات نا قابل فراموش ہیں۔ جبکہ اس وقت کے وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو مرحوم اس عظیم کارنامے کے سرخیل ہیں کہ جنہوں نے بلا تأمل بل پر دستخط فرمائے۔ اور جنرل ضیاء الحق مرحوم نے بھی آئینی طور پر ان کی تمام سرگرمیوں کو ممنوع قرار دے کر بڑا اعلی اقدام اٹھایا۔یاد رہے! اس قانون کے پاس ہوتے ہی قادیانیوں نے ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ میں اس "قانونی ترمیم” کو چیلنج کر دیا تھا۔ مسلمانوں کی طرف سے ڈاکٹر سید ریاض الحسن گیلانی اور احمدیوں کی طرف سے فخرالدین جی ابراہیم نے اس کیس کی مکمل و مسلسل پیروی کی، لیکن مرزا غلام قادیانی کی تصانیف میں لکھی ہوئی اسلام مخالف باتیں اور کھلی گستاخیاں قادیانیوں کے خلاف دلائل قاطعہ ثابت ہوئیں۔ اور وہاں کورٹس میں بھی یہ خود کو کسی طرح بھی مسلمان ثابت نہ کر سکے۔اس لیے اس تاریخی فیصلے کے 52 سال پورے ہونے پر ہم ختم نبوت کے شہیدوں، مجاہدوں، غازیوں، اور سپہ سالاروں سمیت تمام پاکستانی مسلمانوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں کہ جنہوں نے اس فتنہ قادنیت کو آئینی طور پہ نیست و نابود کیا۔ اور عقیدہ ختم نبوت کی پہرے داری کا حق ادا کر دیا۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Pinterest
Pocket
WhatsApp

متعلقہ خبریں

میر پور(آصف محمود چوہدری) میر پور اور ارد گرد کے علاقوں میں پیزا شوارما سینٹروں اور دیگر پکوان سینٹروں میں فروزن چکن ناقص چٹنیاں ٹومیٹو کیچپ اور دیگر چیزیں اکثر جگہ پر استعمال کی جانے لگی- عوام کی صحت سے کھیل کر اعلیٰ پکوان کے نام پر چند لوگ اپنی جیبیں بھرنے میں مصروف جب کہ ناقص تیل گھی بھی استعمال کیے جانے لگا محکمہ فوڈز کے ذمہ داران نوٹس لیں عوامی مطالبہ

دینہ (نثار احمد مغل سے )فارابی فاؤنڈیشن ھائی سکول دینہ نے اپنی سابقہ روایات کو بر قرار رکھتے ھوئے راولپنڈی تعلیمی بورڈ کے نویں کلاس کی طالبہ طیبہ نور اورطلبہ میں محمد عبداللہ نے ضلع جہلم میں نمایاں پوزیشن حاصل کر کے تحصیل دینہ بھر میں دوسری پوزیشن اور سکول میں پہلی پوزیشن حاصل کر کے سکول کے معیار کو بر قرار رکھا

نبوت رسالت کی عظیم الشان عمارت میں آپ ﷺ کی بعثت مبارکہ اُس اینٹ کی مانند ہے جس نے اس عمارت کی تکمیل فرمائی اور ختم نبوت پر اپنی مہر ثبت فرمائی۔اب قیامت تک کوئی نبی نہیں آئے گا۔اس ماہ مبارک ربیع الاول میں آپ ﷺ کی ولادت با سعات پر اکثریت 9 ربیع الاول پر متفق ہے اور 12 ربیع الاول کو آپ ﷺ داردنیا سے پردہ فرما گئے اس پر سب کا اتفاق ہے۔ امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان کا مرکز دارالعرفان منارہ میں بعثت رحمت عالم ﷺ کانفرنس میں خواتین وحضرات کی بڑی تعداد سے خطاب۔

آج کے مسائل کا حل اسلامی نظام معیشت میں ہے۔غیر اسلامی نظام معیشت میں دولت ایک جگہ اکٹھی ہونا شروع ہو جاتی ہے باقی جگہ پر مفلسی اور غربت آجاتی ہے۔اسلامی نظام معیشت دولت کو ایک جگہ رکنے نہیں دیتا۔کیونکہ جو سال بھر پیسہ استعمال نہیں ہوا اس پر زکوۃ لاگو ہو جاتی ہے۔جس میں مستحق کا حصہ اس کو ملتا ہے۔اسی طرح عشر ہے،صدقہ و خیرات،قربانی کی کھالیں وغیرہ شامل ہیں جس سے مستحق لوگوں تک ان کا حصہ پہنچتا رہتا ہے۔ان امور کو اگر معاشرے پر نافذ کیا جائے تو پیسہ ایک جگہ نہیں رکتا۔حقدار تک اس کا حق پہنچ جاتا ہے۔جب بندہ پیسہ جمع نہیں کرے گا تو کاروبار کرے گا جس سے لوگوں کو روزگار ملے گا اور معاشرے میں خوشحالی آئے گی۔ امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان کا جمعتہ المبارک کے روز خطاب۔

بعثتِ رحمتِ عالم ﷺ کانفرنس زیرِ صدارت و خصوصی خطاب:حضرت امیر عبدالقدیر اعوان دامت برکاتہم العالیہ شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان الحمدللہ! سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ کے تحت ہر سال کی طرح امسال بھی ملک بھر میں بعثتِ رحمتِ عالم ﷺ کانفرنسز کا سلسلہ جاری ہے۔ فیصل أباد ۔ بہاولپور ۔ وہاڑی ۔ ڈیرہ نور ربانی کھر اور گوجرانوالہ میں کامیاب اجتماعات کے بعد ابان شاء اللہ 6 ستمبر بروز اتوار دن 11 بجےدارالعرفان منارہ تحصیل کلر کہار ضلع چکوال میں عظیم الشان بعثت رحمت عالم ﷺ کانفرنس منعقد کی جا رہی ہے

میرپورمنگلا(آصف محمود چوہدری) منگلا ہیملٹ کا سرکاری بنیادی مرکز صحت علاقہ کے مریضوں کو کم وسائل میں بہترین سہولتیں مہیا کرنے لگا میڈیا میں نشاندہی کے بعد مخیر حضرات کے تعاون سے اور حکومتی فنڈ سے مرکز کی حالت بہتر سے بہتر ہونے لگی سٹاف بہترین طریقے سے مریضوں کو طبی سہولیات دینے میں مصروف

حضرت محمد ﷺ کی ذات بے مثل و مثال ہیں۔آپ ﷺ رحمۃ اللعالمین ہیں۔ماہ ربیع الاول وہ مبارک ماہ ہے جس میں آپ ﷺ اس دنیا میں جلوہ افروز ہوئے او ر آپ ﷺ کی ذات سے تمام مخلوقات مستفید ہوئیں۔اظہار محبت اور ولادت باسعادت کی خوشی منانے میں بھی حدودو قیود کا خیال رکھا جائے۔ امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان کا بعثت رحمت عالم ﷺ کانفرنس گوجرانوالا میں خواتین و حضرات کی بڑی تعداد سے خطاب

معاشرے میں حق کی تشکیل بندہ مومن کی ذمہ داری ہے۔مسلمان نے ظلم کو روکا لیکن یہ غلط فہمی ہے کہ مسلمانوں نے تلوار سے اسلام کو پھیلایا بلکہ دین اسلام نے جہاں بھی جس خطے کو بھی فتح کیا وہاں ایسی معاشرتی مساوات قائم کی کہ وہاں کے لوگوں نے ناصرف خود اسلام قبول کیا بلکہ اور لوگوں تک بھی پہنچایا۔نبی کریم ﷺ سے اہل مکہ نے کہا کہ آپ جو بھی دین اپنانا چاہیں اسے اختیار کریں اس پر عمل کریں لیکن ہمارے مذاہب کے بارے میں بات مت کریں۔عبادات اپنی مرضی سے کریں لیکن معاشرتی زندگی پر بات نہ کریں جیسے ہمارا معاشرہ چل رہا ہے اسے ایسے ہی چلنے دیں۔معاشرہ اگر دینی اصولوں پر کاربند ہو اس کا کہنا اور سننا قرآن وسنت کے مطابق ہوتا ہے۔اور اگر معاشرے کو مخلوق اپنے مزاج کے مطابق ڈھال لے پھر خواہشات نفس کا اظہار ہوتا ہے۔ امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان کا جمعتہ المبارک کے روز خطاب۔

تازہ ترین خبریں

میر پور(آصف محمود چوہدری) میر پور اور ارد گرد کے علاقوں میں پیزا شوارما سینٹروں اور دیگر پکوان سینٹروں میں فروزن چکن ناقص چٹنیاں ٹومیٹو کیچپ اور دیگر چیزیں اکثر جگہ پر استعمال کی جانے لگی- عوام کی صحت سے کھیل کر اعلیٰ پکوان کے نام پر چند لوگ اپنی جیبیں بھرنے میں مصروف جب کہ ناقص تیل گھی بھی استعمال کیے جانے لگا محکمہ فوڈز کے ذمہ داران نوٹس لیں عوامی مطالبہ

دینہ (نثار احمد مغل سے )فارابی فاؤنڈیشن ھائی سکول دینہ نے اپنی سابقہ روایات کو بر قرار رکھتے ھوئے راولپنڈی تعلیمی بورڈ کے نویں کلاس کی طالبہ طیبہ نور اورطلبہ میں محمد عبداللہ نے ضلع جہلم میں نمایاں پوزیشن حاصل کر کے تحصیل دینہ بھر میں دوسری پوزیشن اور سکول میں پہلی پوزیشن حاصل کر کے سکول کے معیار کو بر قرار رکھا

نبوت رسالت کی عظیم الشان عمارت میں آپ ﷺ کی بعثت مبارکہ اُس اینٹ کی مانند ہے جس نے اس عمارت کی تکمیل فرمائی اور ختم نبوت پر اپنی مہر ثبت فرمائی۔اب قیامت تک کوئی نبی نہیں آئے گا۔اس ماہ مبارک ربیع الاول میں آپ ﷺ کی ولادت با سعات پر اکثریت 9 ربیع الاول پر متفق ہے اور 12 ربیع الاول کو آپ ﷺ داردنیا سے پردہ فرما گئے اس پر سب کا اتفاق ہے۔ امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان کا مرکز دارالعرفان منارہ میں بعثت رحمت عالم ﷺ کانفرنس میں خواتین وحضرات کی بڑی تعداد سے خطاب۔

آج کے مسائل کا حل اسلامی نظام معیشت میں ہے۔غیر اسلامی نظام معیشت میں دولت ایک جگہ اکٹھی ہونا شروع ہو جاتی ہے باقی جگہ پر مفلسی اور غربت آجاتی ہے۔اسلامی نظام معیشت دولت کو ایک جگہ رکنے نہیں دیتا۔کیونکہ جو سال بھر پیسہ استعمال نہیں ہوا اس پر زکوۃ لاگو ہو جاتی ہے۔جس میں مستحق کا حصہ اس کو ملتا ہے۔اسی طرح عشر ہے،صدقہ و خیرات،قربانی کی کھالیں وغیرہ شامل ہیں جس سے مستحق لوگوں تک ان کا حصہ پہنچتا رہتا ہے۔ان امور کو اگر معاشرے پر نافذ کیا جائے تو پیسہ ایک جگہ نہیں رکتا۔حقدار تک اس کا حق پہنچ جاتا ہے۔جب بندہ پیسہ جمع نہیں کرے گا تو کاروبار کرے گا جس سے لوگوں کو روزگار ملے گا اور معاشرے میں خوشحالی آئے گی۔ امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان کا جمعتہ المبارک کے روز خطاب۔

بعثتِ رحمتِ عالم ﷺ کانفرنس زیرِ صدارت و خصوصی خطاب:حضرت امیر عبدالقدیر اعوان دامت برکاتہم العالیہ شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان الحمدللہ! سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ کے تحت ہر سال کی طرح امسال بھی ملک بھر میں بعثتِ رحمتِ عالم ﷺ کانفرنسز کا سلسلہ جاری ہے۔ فیصل أباد ۔ بہاولپور ۔ وہاڑی ۔ ڈیرہ نور ربانی کھر اور گوجرانوالہ میں کامیاب اجتماعات کے بعد ابان شاء اللہ 6 ستمبر بروز اتوار دن 11 بجےدارالعرفان منارہ تحصیل کلر کہار ضلع چکوال میں عظیم الشان بعثت رحمت عالم ﷺ کانفرنس منعقد کی جا رہی ہے