
جہلم ( پروفیسر خورشید علی ڈار).حکومت پاکستان کا فرض ہے کہ وہ اپنے شہریوں کی مشکلات کو سمجھنے کی کوشش کریں 95 فیصد پاکستانی پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کی وجہ سے اجیرن زندگی گزارنے پر مجبور ہو چکے ہیں ۔تسلیم کرتے ہیں کہ بین القوامی سطح پر ان کی قیمتوں میں اضافہ ہو رہا ہے حکومت کے پاس اس کا بھی حل بھی ہے ۔حکومت اپنے 90 فیصد اخراجات میں کمی کرے۔لیوی ٹیکس 80 فیصد ختم کیا جائے پٹرول سے چلے والی کار رکشہ موٹرسائیکل کے لیے 100 روپے فی لیٹر کمی کا اعلان کیا ہے جس کی حد بھی مقرر کر دی گئی۔پاکستان کی ابادی میں ان کا شمار پانچ فیصد ہے جبکہ 95 فیصد شہریوں کا تعلق ڈیزل سے ہے تمام لوگ جو کاروبار کرتے ہیں اس کا سامان ٹرک کے ذریعے اتا ہے اس میں ڈیزل استعمال ہوتا ہے۔جملہ سبزیاں اور پھل منڈیوں میں ٹرک کے ذریعے لائی جاتی ہیں ۔ایک شہری ایک جگہ سے دوسری جگہ کا سفر ویگن یا بس کے ذریعے کرتا ہے اس میں ڈیزل استعمال ہوتا ہے کسان کھیتی باڑی میں ڈیزل کا استعمال کرتا ہے کھیتی باڑی کے لیے جن چیزوں کی ضرورت ہوتی ہے ان کو ٹرک کے ذریعے منگوایا جاتا ہے ۔کاش سفید بال رکھنے والے حکومت کو صحیح مشورہ دیتے !!!! پاکستان واحد ملک ہے جہاں سب سے زیادہ مہنگائی ہے اللہ معاف کرے بعض لوگوں نے مجبور ہو کر اپنے بچوں کی زندگی ختم کرنا شروع کر دی ہے کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ ہم اخراجات برداشت نہیں کر سکتے موجودہ صورتحال لمحہ فکریہ ہے حکومت کو یکسر عوام کے مفاد میں پالیسی تبدیل کرنا ہوگی



















