چیف ایڈیٹر:طارق محمود چودھری  ایڈیٹر: مظہر اقبال چودھری  مینیجنگ ایڈیٹر: ادریس چودھری

اکتوبر 16, 2026 10:30 شام

بچے کا پیدائش کے بعد رونا۔۔۔ تحریر ۔ڈاکٹر ملک عدیل افتخار اعوان چائلڈ سپیشلسٹ

بچے کا پیدائش کے بعد روناڈاکٹر ملک عدیل افتخار اعوان چائلڈ سپیشلسٹ

بچے کی پیدائش کے بعد سب سے پہلا لمحہ بہت اہم ہوتا ہے۔ عموماً جیسے ہی بچہ پیدا ہوتا ہے اور پہلی مرتبہ سانس لیتا ہے تو اس کا رونا اس بات کی ایک اچھی علامت سمجھا جاتا ہے کہ وہ سانس لینے کے عمل میں منتقل ہو رہا ہے۔لیکن اگر بچہ پیدائش کے فوراً بعد نہ روئے تو ہر مرتبہ اس کا مطلب یہ نہیں کہ بچہ زندگی بھر کے لیے معذور ہو جائے گا۔ بعض بچے ابتدائی مدد کے بعد جلد سانس لینے لگتے ہیں اور بالکل ٹھیک رہتے ہیں۔ اصل تشویش اس وقت ہوتی ہے جب بچے کو مناسب سانس نہ مل رہی ہو اور دماغ سمیت جسم کے اہم اعضاء کو آکسیجن کی کمی طویل وقت تک رہے۔حمل کے دوران بچہ ماں کے ذریعے آکسیجن حاصل کرتا ہے، لیکن پیدائش کے بعد اسے خود سانس لینا شروع کرنا ہوتا ہے۔ اگر کسی وجہ سے یہ تبدیلی صحیح طریقے سے نہ ہو اور بچہ سانس نہ لے رہا ہو یا بہت کمزور سانس لے رہا ہو تو جسم میں آکسیجن کی کمی پیدا ہو سکتی ہے۔اگر آکسیجن کی شدید کمی بروقت دور نہ کی جائے تو دماغ سب سے زیادہ متاثر ہونے والے اعضاء میں شامل ہے۔ ایسی صورت میں بعض بچوں میں آکسیجن اور خون کی کمی سے دماغ کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ شدید صورتوں میں اس کے اثرات بعد کی زندگی میں نشوونما میں تاخیر، دورے، حرکت کے مسائل، سننے یا دیکھنے کی مشکلات کی شکل میں سامنے آ سکتے ہیں۔لیکن یہاں سب سے اہم بات یہ ہے کہ پیدائش کے فوراً بعد بچے کا نہ رونا خود بیماری نہیں، بلکہ بچے کی سانس اور مجموعی حالت کو فوری طور پر جانچنے کا اشارہ ہے۔اگر بچہ پیدا ہونے کے بعد نہیں رو رہا، سانس نہیں لے رہا یا سانس بہت کمزور ہے تو فوراً تربیت یافتہ طبی عملہ بچے کی حالت کا جائزہ لیتا ہے اور ضرورت کے مطابق اسے گرم رکھنے، سانس کی مدد دینے اور نوزائیدہ کی بحالی کے اقدامات شروع کرتا ہے۔بعض والدین سمجھتے ہیں کہ بچے کو الٹا لٹکانا، زور سے ہلانا یا مارنا ضروری ہے تاکہ وہ روئے۔ یہ طریقے درست نہیں اور نقصان دہ بھی ہو سکتے ہیں۔ بچے کو مناسب طبی طریقے سے سانس لینے میں مدد دینا ضروری ہوتا ہے۔بچے کی حالت کا اندازہ صرف رونے سے نہیں بلکہ سانس، دل کی دھڑکن، جسمانی رنگت، حرکت اور مجموعی ردِعمل سے کیا جاتا ہے۔ بعض بچے فوراً زور سے نہیں روتے لیکن سانس مناسب لے رہے ہوتے ہیں، جبکہ بعض بچوں کو فوری طبی مدد کی ضرورت ہوتی ہے۔اگر بچے کو پیدائش کے وقت سانس لینے میں دشواری ہوئی ہو، اسے بحالی کی ضرورت پڑی ہو یا پیدائش کے بعد کچھ وقت تک آکسیجن کی کمی رہی ہو تو ایسے بچے کی قریبی نگرانی ضروری ہوتی ہے۔ شدید آکسیجن کی کمی کی بعض صورتوں میں بروقت خصوصی علاج اور نگہداشت دماغی نقصان کے خطرے کو کم کرنے میں مدد دے سکتی ہے۔اس لیے اصل پیغام خوف پیدا کرنا نہیں بلکہ بروقت اور صحیح مدد کی اہمیت سمجھانا ہے۔اسی لیے ہر بچے کی پیدائش ایسی جگہ ہونا زیادہ محفوظ ہے جہاں تربیت یافتہ عملہ موجود ہو اور ضرورت پڑنے پر نوزائیدہ بچے کو فوری سانس اور بحالی کی مدد دی جا سکے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Pinterest
Pocket
WhatsApp

متعلقہ خبریں

جہلم:اِبنِ عباس اسلامک سینٹر جہلم کے زیرِ اہتمام فقید المثال تقریبِ حمد و نعت کا انعقاد ہواتقریب میں طلبائے مرکز کے مابین ہونے والے مقابلۂ حُسنِ تلاوت کے نتیجہ میں طلبہ کی حوصلہ افزائی کےلیے انعامات کی بارش کی گئی: طلبہ کو نقد انعامات اور اعزازی اسناد سے نوازا گیا

جہلم:اِبنِ عباس اسلامک سینٹر جہلم کے زیرِ اہتمام فقید المثال تقریبِ حمد و نعت کا انعقاد ہواتقریب میں طلبائے مرکز کے مابین ہونے والے مقابلۂ حُسنِ تلاوت کے نتیجہ میں طلبہ کی حوصلہ افزائی کےلیے انعامات کی بارش کی گئی: طلبہ کو نقد انعامات اور اعزازی اسناد سے نوازا گیا ۔

صاحب خرد اور عقل مند لوگ وہ ہیں جو کھڑے،بیٹھے اور لیٹے ہر حال میں اللہ کا ذکر کرتے ہیں۔اس سے مراد ذکر خفی ہے جو قلب سے کیا جاتا ہے۔باطنی ذکر کا پہلو ہو گا تو ذکر کثیر ہوگا۔صوفیا ذکر کی تلقین پر فرماتے ہیں کہ تہجد کے وقت کا ذکر اور شام کے ذکر کی پابندی کریں۔یہ دو وقت کا ذکر دائمی ذکر تک لے جاتا ہے. امیر عبد القدیر اعوان

تازہ ترین خبریں