چیف ایڈیٹر:طارق محمود چودھری  ایڈیٹر: مظہر اقبال چودھری  مینیجنگ ایڈیٹر: ادریس چودھری

اگست 7, 2026 2:43 صبح

جو چلا گیا اسے بھول جا، جو پاس ہے اسے یاد رکھ

گزشتہ منگل کی بات ہے ۔’’رپورٹ کارڈ‘‘ کا دوسرا دن تھا۔ ریکارڈنگ عموماً5بجے ہوتی ہے، سو میں 3بجے واک کیلئے نکل جاتا ہوں تاکہ چار سوا چار واپس آکر 5بجے تک تیار ہو سکوں۔3بجکر 8منٹ پر ابرار کا فون ابن صحرا کے فون پر آیا کیونکہ میں سیل فون نہیں رکھتا۔میں نے مختصر سی گفتگو کے بعد شام کا پروگرام پوچھا تو بولا ’’شام کو ہی بتائوں گا‘‘ ۔ مقررہ وقت پر واپسی اور ’’رپورٹ کارڈ‘‘ کی ریکارڈنگ شروع ہوئی تو پہلی بریک ہوتے ہی میں نے اپنے ملازم سے کہا ’’چپٹرم یار ! ابرار صاحب کو کال کرکے آنے نہ آنے کا پوچھو‘‘ ۔ دوسری بریک کے دوران چپٹرم نے بتایا’’ فون کیا تھا۔ملازمہ نے بتایا کہ ابرار صاحب گر گئے تھے ۔باجی، ڈرائیور انہیں ہسپتال لیکر گئے ہیں ‘‘۔ہلکا سا جھٹکا لگا بات ختم پروگرام شروع ہو گیا جس کے ختم ہونے پر اہلخانہ اور آصف عفان سمیت دیگر دوستوں نے مرحلہ وار مجھے بتایا کہ ’’ابرار بھائی جان لیوا ہارٹ اٹیک کے نتیجہ میں گرے تھے ۔نماز جنازہ آج ہی ہو گی‘‘۔

50سال کی دوستی ایک لمحہ میں خاک ہو گئی اور میں پتھرا سا گیا۔نہ کوئی آنسو نہ کوئی لفظ۔ ماڈل ٹائون پہنچے شانت چہرے کا آخری دیدار کیا اور سپرد خاک کرکے واپس آ گئے اور میں سوچتا رہا کہ آج رات یار غار ابرار قبر میں اور میں بستر میں کیسے گزاروں گا؟ سب کچھ ہو چکا تھا لیکن یقین نہیں آ رہا تھا۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Pinterest
Pocket
WhatsApp

متعلقہ خبریں

جہلم:DHQ ہسپتال جہلم ، چلڈرن وارڈ میں 35 بیڈز پر 70 بچے اور ساتھ 70 مائیں ، بیڈز کی تعداد بڑھائی جائے ، عوامی حلقے ، اس گرمی اور حبس میں ائیرکنڈیشنر 4 سے 5 گھنٹے چلایا جاتا ہے پھر 6گھنٹون کے لئے بند کر دیا جاتا ہے ، مائیں ، وارڈ میں پنکھوں کی ہوا نہ ہونے کے برابر ہے ستم یہ کہ میرے بیڈ پر پنکھا ہی نہیں ،میں ساری رات ہاتھ والے پنکھے سے اپنے بچے کو ہوا دیتی ہوں ، ایک ماں کی دہائی

تازہ ترین خبریں

جہلم:DHQ ہسپتال جہلم ، چلڈرن وارڈ میں 35 بیڈز پر 70 بچے اور ساتھ 70 مائیں ، بیڈز کی تعداد بڑھائی جائے ، عوامی حلقے ، اس گرمی اور حبس میں ائیرکنڈیشنر 4 سے 5 گھنٹے چلایا جاتا ہے پھر 6گھنٹون کے لئے بند کر دیا جاتا ہے ، مائیں ، وارڈ میں پنکھوں کی ہوا نہ ہونے کے برابر ہے ستم یہ کہ میرے بیڈ پر پنکھا ہی نہیں ،میں ساری رات ہاتھ والے پنکھے سے اپنے بچے کو ہوا دیتی ہوں ، ایک ماں کی دہائی