چیف ایڈیٹر:طارق محمود چودھری  ایڈیٹر: مظہر اقبال چودھری  مینیجنگ ایڈیٹر: ادریس چودھری

اپریل 25, 2026 8:33 شام

ایران، خلیج، عالمی طاقتوں کا ٹکراؤ،،، آگ ٹھنڈی کرنے میں پاکستان کا کردار* بقلم: ڈاکٹر فیض احمد بھٹی

*ایران، خلیج، عالمی طاقتوں کا ٹکراؤ،،، آگ ٹھنڈی کرنے میں پاکستان کا کردار* بقلم: ڈاکٹر فیض احمد بھٹی

ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کو کم کرنے میں پاکستان نے ایک نہایت مؤثر سفارتی کردار ادا کیا۔ خاص طور پر اس مرحلے پر جب ایران کی جانب سے سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور دیگر خلیجی ریاستوں کو میزائلوں کی زد میں لایا گیا۔ خطہ ایک بڑی جنگ کے دہانے پر کھڑا نظر آ رہا تھا۔خدشہ یہ تھا کہ اگر خلیجی ممالک نے جوابی کارروائی کر دی تو یہ تنازع مسلم دنیا کے اندر ایک تباہ کن جنگ کی شکل اختیار کر جائے گا، جبکہ امریکہ اور اسرائیل اس صورتحال سے خوب فائدہ اٹھاتے۔ایسے حساس وقت میں پاکستانی قیادت نے دانشمندی کا مظاہرہ کیا۔ شہباز شریف نے سعودی قیادت، خصوصاً محمد بن سلمان کو تحمل کا مشورہ دیا اور باور کروایا کہ فوری جوابی اقدام خطے کو ایک بہت بڑی تباہی کی طرف دھکیل سکتا ہے۔ انہیں یہ نکتہ سمجھایا گیا کہ بعض عالمی طاقتیں یہی چاہتی ہیں کہ مسلم ممالک آپس میں الجھ جائیں۔اسی دوران فیلڈ مارشل عاصم منیر نے سفارتی سطح پر سرگرم کردار ادا کرتے ہوئے ایران کا دورہ کیا اور وہاں کی سیاسی و عسکری قیادت کو صورتحال کی نزاکت سے آگاہ کیا۔ انہیں واضح پیغام دیا گیا کہ سعودی عرب پر حملوں کا تسلسل خطے کے امن کےلیے خطرناک ہو سکتا ہے، خصوصاً اس تناظر میں کہ پاکستان کے سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے موجود ہیں۔ یہ ایک اعتبار سے ملفوف دھمکی بھی تھی کہ اب کی بار اگر آپ کے میزائلوں کا رخ سعودی عرب کی طرف ہوا تو آپ ہمیں وہاں پائیں گے، سعودی عرب کا دفاع پھر ہم کریں گے۔ مزید برآں، اسحاق ڈار نے چین کا دورہ کیا تاکہ وہ ایران کو جنگ سے باز رکھنے میں اپنا کردار ادا کرے۔ کیونکہ ایران سے سب سے زیادہ تیل چین ہی خریدتا ہے۔یہ تمام کوششیں اس بات کی عکاسی کرتی ہیں کہ پاکستان نے نہ صرف ایک ذمےدار ریاست کا کردار ادا کیا، بلکہ خطے کو ایک ممکنہ بڑی جنگ سے بچانے میں بھی اہم کردار نبھایا۔ دو ہفتوں تک کی جنگ بندی اور اس میں توسیع پاکستان ہی کی کاوشوں کی مرہونِ منت ہے۔ جنگ کو رکوانے میں ہماری قیادت نے اس قدر بھاگ دوڑ کی کہ ایک زمانہ اس کا معترف ہے۔ آج پوری دنیا میں سبز پاسپورٹ کی عزت جو بڑھی ہے تو یہ اسی وجہ سے ہے کہ پاکستان ایک امن پسند ملک ہے۔اب یہ بھی المیہ ہے کہ ایران کی عسکری قیادت یعنی پاسداران انقلاب غیر سیاسی ہونے کی بنا پر لچک نہیں رکھتے۔ جبکہ سیاسی قیادت جانتی ہے کہ مزید کشیدگی ایرانی عوام کے حق میں نہیں۔ اس لیے ان کی بار بار کی کوششوں کو پاسداران بےاثر کر رہے ہیں۔ ایرانی قیادت بالخصوص پاسدارن کےلیے مناسب یہی ہے کہ وہ کسی حد تک لچک کا مظاہرہ کرے اور سفارتی سطح پر ایسا راستہ اختیار کرے، جس سے مکمل اور پائیدار جنگ بندی ممکن ہو۔ اس کے نتیجے میں منجمد فنڈز کی فوری بحالی ہو سکتی ہے، جو ایران کی کمزور معیشت اور تباہ شدہ انفراسٹرکچر کی تعمیر میں اہم کردار ادا کرے گی۔ یورینیم کے معاملے میں بھی کوئی درمیانی حل، مثلاً محدود مدت کے لیے معاہدہ، اختیار کیا جا سکتا ہے۔ جس پر امریکہ کو پاکستان نے کافی حد تک ایگری بھی کر لیا ہے۔ گزشتہ دو دہائیوں کے تجربے کو سامنے رکھتے ہوئے ایران کو اب ایک حقیقت پسندانہ حکمتِ عملی اپنانا وقت کی ضرورت ہے۔مزید برآں، ایران کے اندرونی حالات بھی خاصے پیچیدہ اور بغاوت کے خدشات کا شکار ہیں، جہاں مختلف فکری و سیاسی گروہ موجود ہیں: ایک جانب سیاسی قیادت اور اس کے حامی، دوسری جانب انقلابی حلقے، تیسری طرف پہلوی شاہ کا حامی گروپ، جبکہ ایک بڑی تعداد غیر جانبدار افراد پر بھی مشتمل ہے۔ ایسے میں داخلی استحکام کےلیے بھی مذاکراتی عمل کا جاری رہنا ناگزیر ہے، تاکہ کسی ممکنہ انتشار یا بغاوت سے ملک کو بچایا جا سکے۔یاد رہے! عمان، کویت اور سعودی عرب پر ہونے والے زیادہ تر میزائل حملے براہِ راست ایران کی جانب سے نہیں، بلکہ عراق میں موجود ایرانی حمایت یافتہ ملیشیاؤں کی طرف سے کیے گئے ہیں، اگرچہ کافی حد تک حملوں میں ایران کا کردار بھی شامل رہا ہے۔ حال ہی میں 24 اپریل کو کویت پر کیے جانے والے دو ڈرون حملے بھی عراقی سرزمین سے، غیر ریاستی عناصر یعنی ملیشیاؤں کی جانب سے کیے گئے۔ البتہ متحدہ عرب امارات، بحرین اور قطر پر ایران نے نسبتاً زیادہ شدت کے ساتھ حملے کیے ہیں۔بالآخر، دعا کے ساتھ ساتھ پاکستانی قیادت خاص کر ایرانی قیادت سے استدعا ہے کہ حالیہ جنگ بندی کو برقرار رکھنے اور مذاکراتی عمل کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کےلیے کوئی دقیقہ فروگذاشت نہیں کرنا چاہیے؛ کیونکہ خدانخواستہ اگر یہ سلسلہ ٹوٹ گیا، تو اس کے اثرات نہ صرف ایران بلکہ پورے خطے کےلیے نہایت تباہ کن ہوں گے۔ ایسی صورت میں نہ امریکہ و اسرائیل کو روکنا آسان ہوگا اور نہ ہی خلیجی ممالک کو اس آگ میں کودنے سے باز رکھا جا سکے گا۔ اور پوری دنیا سیدھی تیسری عالمی جنگ میں مبتلا ہو جائے گی!

Facebook
Twitter
LinkedIn
Pinterest
Pocket
WhatsApp

متعلقہ خبریں

تازہ ترین خبریں