
*آئمہ کرام کےلیے 25 ہزار مشاہرہ*(ن لیگ کا وعدے سے وفا تک کا سفر)بقلم: ڈاکٹر فیض احمد بھٹی
پنجاب کی سی ایم مریم نواز کی جانب سے مساجد کے آئمہ کرام کےلیے 25 ہزار روپے ماہانہ اعزازیہ مقرر کرنا ایک ایسا اقدام ہے، جس کی جتنی تعریف کی جائے، کم ہے۔یہ ایک طویل عرصے کی حقیقت رہی ہے کہ گزشتہ 78 برسوں میں پاکستان کی مختلف حکومتیں اہلِ مذہب کے مسائل اور ضروریات کو وہ توجہ نہ دے سکیں، جس کی وہ بجا طور پر توقع رکھتے تھے۔ تاہم، "دیر آید درست آید” کے مصداق، موجودہ حکومت نے اس دیرینہ محرومی کا ادراک کرتے ہوئے اس کے ازالے کی جانب عملی پیش رفت کی ہے، جو ایک مثبت اور قابلِ ذکر اقدام ہے۔یہ فیصلہ اس امر کا اظہار ہے کہ محراب و منبر سے وابستہ شخصیات کو محض مذہبی پیشوا نہیں، بلکہ معاشرے کے فکری معمار سمجھا گیا۔ ان کی خدمات کو عملی طور پر سراہنا ایک مثبت روایت اور اہلِ منبر کی عظیم قدر شناسی ہے۔آئمہ کرام کا ایک بڑا طبقہ مالی طور پر کمزور رہا ہے۔ یہ اعزازیہ اس احساس کا ثبوت ہے کہ ریاست نے اُن افراد کو دیکھا اور پہچانا، جو برسوں سے خاموشی سے دینی و سماجی رہنمائی کرتے آئے ہیں۔ ایک طرح سے یہ اعزازیہ خاموش خدمت گار طبقے کی خدمات کا اعتراف اور ان کی مالی معاونت ہے۔باوقار انداز میں اے ٹی ایم کارڈ کے ذریعے بینک سے رقم کی فراہمی اس بات کی علامت ہے کہ آئمہ کرام کی مدد کو خیرات نہیں، بلکہ حق اور عزت کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔ اس طریقِ کار سے دفاتر کے چکر اور غیر ضروری تگ و دو سے بچاؤ ممکن ہوا۔جو اعلان کیا گیا، اسے عملی جامہ پہنانا مسلم لیگی قیادت کی سنجیدگی کو ظاہر کرتا ہے۔ الفاظ کو عمل میں ڈھالنا ہی اصل سیاسی ساکھ کا معیار ہوتا ہے۔ وعدے سے وفا تک کا یہ سفر تیسری بار بھی جاری ہے۔یہ اقدام اس سوچ کی عکاسی کرتا ہے کہ مذہبی قیادت اور حکومت ایک دوسرے کے معاون ثابت ہو سکتے ہیں، اور معاشرتی استحکام میں مشترکہ کردار ادا کر سکتے ہیں۔ اس سے دینی قیادت اور حکومتی اداروں میں ہم آہنگی کا پیغام بھی پایا جاتا ہے۔پاکستان میں ایک اہم مسئلہ یہ ہے کہ حکومت کی تبدیلی کے ساتھ ہی سابقہ حکومت کی مفید پالیسیاں بھی اکثر ختم کر دی جاتی ہیں۔ اس خدشے کے پیشِ نظر پنجاب حکومت کو چاہیے کہ آئمہ کے جاری اعزازیے کو مستقل بنیادوں پر برقرار رکھے اور اسمبلی سے ایسا قانون منظور کروائے جس کے تحت آئندہ آنے والی کوئی بھی حکومت اس تسلسل کو ختم نہ کر سکے۔آئمہ کے حق میں حکومت کا یہ مثبت اقدام بعض اہلِ مساجد کےلیے قابلِ قبول نہیں ہو سکا۔ انتظامیہ کے چند افراد 25 ہزار کے اس اعزازیے کو بڑی رقم سمجھ کر امام صاحب کو مختلف انداز میں ہراساں کرتے ہیں، کبھی تنخواہ میں کٹوتی کے ذریعے اور کبھی بےجا تنقید کے ذریعے۔ حالانکہ یہ رقم اتنی زیادہ نہیں کہ اس سے آسائش کی زندگی گزاری جا سکے؛ موجودہ مہنگائی کے دور میں تو یہ بمشکل بنیادی ضروریات پوری کرتی ہے۔ اس مسئلے پر قانونی حل شاید ممکن نہ ہو، مگر اہلِ علاقہ اور سول سوسائٹی اپنے اخلاقی دباؤ کے ذریعے اس رویے کی حوصلہ شکنی کر سکتی ہے۔ ان لوگوں کو سوچنا چاہیے کہ محض ایک محدود سرکاری وظیفے کی بنیاد پر امام کے ساتھ ناانصافی کسی طور پر درست نہیں۔کرو مہربانی تم اہلِ زمیں پرخدا مہرباں ہو گا عرشِ بريں پر



















