
اللہ کریم قرآن کریم میں فرما رہے ہیں کہ تم میں ایک جماعت ایسی ہونی چاہیے جو نیکی کی دعوت دے اور برائی سے روکے اس کے لیے بھی خلوص اولین شرط اور دوسروں کی اصلاح مقصود ہو۔اپنی ذات کی بڑائی منوانا نہیں بلکہ اللہ کی رضا کے لیے اس حکم پر عمل کیا جائے۔ امیر عبد القدیر اعوان
جہلم(ادریس چودھری )
اللہ کریم قرآن کریم میں فرما رہے ہیں کہ تم میں ایک جماعت ایسی ہونی چاہیے جو نیکی کی دعوت دے اور برائی سے روکے اس کے لیے بھی خلوص اولین شرط اور دوسروں کی اصلاح مقصود ہو۔اپنی ذات کی بڑائی منوانا نہیں بلکہ اللہ کی رضا کے لیے اس حکم پر عمل کیا جائے۔ بندہ خود باعمل ہو اور جو وہ کہہ رہا ہے اس پر یقین ہو اس سے وہ قوت عطا ہوتی ہے کہ کسی کو جرات نہیں ہوتی کہ کوئی خواہ مخواہ اعتراض کرسکے۔دعوت حق کا مقصد صرف اللہ کی رضا ہو۔برائی کو ہاتھ سے روکنا ایمان کا اعلی درجہ ہے۔جس نے اسلام قبول کر لیا وہ پابندہے کہ حکم الٰہی کے مطابق زندگی بسر کرے۔دین پر عمل کرانے کے لیے قوت نافذہ کی بھی ضرورت ہوتی ہے اور یہ اسلامی ریاست کی ذمہ داری ہے کہ جیسے بے نمازی کے لیے حکم ہے کہ اسے سزا دی جائے اگر کوئی بے نمازی فوت ہو جائے تو اس کا نماز جنازہ بھی نہ پڑھا جائے ان قوانین پر عمل درآمد کرانا حکومت وقت کی ذمہ داری میں شامل ہے۔یاد رکھیں یہ حکومت کی ذمہ داری ہے کوئی فرد واحد یا جماعت اگر ایسا کرے گی تو انتشار پیدا ہوگا
امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان کا جمعتہ المبارک کے موقع پر خطاب۔
انہوں نے کہا کہ دعوت و تبلیغ میں اگر خلوص ہو اور مقصد حق ہو تو کوئی بھی آپ کی مخالفت نہیں کرے گا لیکن جب مقصد ذاتی خواہش بن جائے پھر فساد پیدا ہوگا۔دین میں سختی نہیں ہے اس سے مراد یہ ہے کہ آپ کسی کو زبردستی کلمہ نہیں پڑھا سکتے اس کی دین اجازت نہیں دیتا کہ کسی کو زوربازو دین میں داخل کیا جائے لیکن جب کوئی اسلام قبول کر لیتا ہے پھر لازم ہے کہ دین پر عمل بھی کرے اس کے لیے اس پر سختی کی جا سکتی ہے۔اللہ کریم دین کے نام پر ہونے والے فسادات سے ہماری حفاظت فرمائیں۔اللہ کریم نے جو جس کی ذمہ داری لگائی ہے اگر سب اپنی ذمہ داریوں سے روگردانی کریں گے پھر مصیبت اور پریشانیاں اور عذاب آئیں گے۔کامیابی وہ ہے جو دنیا و آخرت میں نصیب ہو اسے کلی کامیابی کہا جائے گا۔یہ دنیا چند روزہ ہے ایک دن آنے والا ہے جب رشتوں کی بھی پرواہ نہیں ہوگی ہر ایک کو اپنی پڑی ہوگی آج وقت ہے اس دن کی تیاری کی جائے اور اپنی زندگی کو اللہ کے حکم کے مطابق ڈھال لیا جائے۔
آخر میں انہوں نے ملکی سلامتی اور بقا کی اجتماعی دعا بھی فرمائی۔



















