
تحریر
ڈاکٹر فیض احمد بھٹی
(فاضل مدینہ یونیورسٹی)
قارئین! انتقالِ خُون کے جواز بارے یہ کالم کی تیسری اور آخری قسط ہے۔ جس میں ہم ایک اور زاویے سے زیرِ بحث موضوع پر گفتگو کرنا چاہتے ہیں۔ وہ یہ کہ بعض امراض سے شفایابی کےلیے جسم سے خون نکالا جاتا ہے، جسے "حجامہ کروانا یا سینگی لگوانا” کہتے ہیں۔
صحيح بخاری شریف کی ایک حدیث، جسے امام بخاری نے متعدد مقامات پر اس سے مختلف مسائل اخذ کرتے ہوئے نقل کیا ہے۔ یہ روايت مسلم شریف سمیت دیگر تمام کتب حدیث میں بھی اِجمالاً اور تفصیلاً موجود ہے۔ ترجمہ: (رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حجامہ کروایا اور حجامہ کرنے والے آدمی کو اس کام کی اُجرت بھی دی)۔ محدثین نے اس حدیث پاک سے کئی اہم مسائل اخذ کیے ہیں۔ طوالت کے پیش نظر ہم ان مسائل کی طرف نہیں جانا چاہتے۔ تاہم مضمون ہذا کے متعلقہ بات کا تذکرہ ضرور کرنا چاہیں گے: وہ یہ کہ بعض علماء نے ان احادیث سے یہ اخذ کیا ہے کہ حجامہ کروانا محض سنت نبوی اور باعث ثواب ہے، بعض نے کہا یہ کئی امراض سے شفایابی کےلیے بہت مؤثر طریقہ علاج ہے، کئیوں نے کہا یہ روحانی امراض میں بھی مفید ہے، بعض نے یہ بھی اخذ کیا کہ حجامہ کروانا یعنی خون نکلوانا ایسا مسنون طریقہ علاج ہے جس پر اجرت لی اور دی جا سکتی ہے۔ سنن ابو داود کی ایک حدیث کے مطابق جلیل القدر صحابی حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے اپنے غلام نافع سے کہا: بھئی! مجھے اپنے خون میں کچھ محسوس ہو رہا ہے؛ لہذا حجامہ کرنے والے کسی تجربہ کار آدمی کو ڈھونڈو! جو سینیئر ہو اور اس کام میں سنجیدہ ہو۔
قارئین! شفایابی کےلیے انسانی جسم سے خون نکلوانے یا لگوانے کے حوالے سے اس قبیل کی تمام احادیث امت کےلیے بہت بڑی دلیل و رہنمائی ہیں۔
یاد رہے! حجامہ میں خون قصداً نکالا جاتا ہے۔ جس کے کئی طریقے ہیں: 1کبھی تو جسم کے مخلتف حصوں سے پچھنوں یا کٹ کپنگ وغیرہ سے نکالا جاتا ہے۔ 2کبھی جسم کے کسی ایک حصے سے خاص رگ کاٹ کر نکالا جاتا ہے، جسے طبی زبان میں فصد کرنا کہتے ہیں۔ 3کبھی جونک لگا کر خون کھینچا جاتا ہے۔ یہاں یہ بھی بتاتا چلوں کہ ہمارے استاد گرامی حکیم خوشی محمد مرحوم، اور ہمارے استاد گرامی حکیم رحمت اللہ ارشد کے والد حکیم محمد صدیق مرحوم، اور ہمارے علاقہ کنگن پور کے دیگر حکما و معالجین فصد کرنے اور جونک لگانے کے ماہر تھے۔ جن سے ہم نے اس بارے میں بہت کچھ سیکھا۔
آپ غور کریں! مذکورہ احادیث کتنی وضاحت و صراحت کے ساتھ اس بات کا ثبوت پیش کر رہی ہیں کہ "بوقت ضرورت، بقدر ضرورت” انسانی جسم سے خون نکالا جا سکتا ہے، اس پر اجرت دی لی جاسکتی ہے اور اس کےلیے تجربہ کار حجام ہونا چاہیے۔ پس ثابت ہوا کہ جب جسم سے خُون نکالا جا سکتا ہے، تو اسی طرح جسم کے اندر "بوقت ضرورت اور بقدر ضرورت” خون ڈالا بھی جا سکتا ہے۔ مطلب انسانی بیماری دُور کرنے کےلیے خون نکالا بھی جا سکتا ہے اور اس کی بیماری ختم کرنے یعنی جان بچانے کےلیے خون ڈالا بھی جا سکتا ہے۔ لہذا سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم اور تعاملِ صحابہ سے حجامے کی شکل میں اتنی واضح عملی دلیل موجود ہونے کے باوجود علاج کےلیے خون نکلوانے یا خون لگوانے پر اعتراض کیا جائے، تو یہ انتہائی احمقانہ حرکت ہے۔
لُطف کی بات یہ ہے کہ متقدمین، متأخرین اور معاصرین ہر دور کے تمام محدثین و فقہاء نے اس طریقہ علاج (حجامہ) کو بالاتفاق جائز قرار دیا ہے۔ جو آج تک جاری و ساری ہے۔ ہاں اس حوالے سے بعض مسائل میں کچھ اختلاف بھی ہے کہ آیا روزے کی حالت میں بلڈ ٹرانسفر کیا جا سکتا ہے یا نہیں؟ کیا حجامہ کروانے یعنی خون نکلوانے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے یا نہیں؟ چنانچہ جمہور علما و فقہا کے نزدیک روزے کی حالت میں حجامہ کروانا جائز ہے اور اس سے وضو بھی نہیں ٹوٹتا۔ لہذا راجح قول کے مطابق روزے یا وضو کی حالت میں خون دینا جائز ہے اور اس سے روزہ وضو نہیں ٹوٹتا۔
اسی طرح بعض روایات میں یہ تفصیلات بھی موجود ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ اگر کوئی شخص جسمانی نقاہت محسوس کرے، تو ایسی صورت حال میں حجامہ نہ کروائے۔ تو ان روایات سے ہمیں یہ سبق بھی ملتا ہے کہ جب بلڈ ڈونر بیمار ہو یا نقاہت میں مبتلا ہو، تو تب اس سے خون نہیں لینا چاہیے۔ اسی لیے تو خون لینے سے پہلے ڈونر کے اہم ٹیسٹ کیے جاتے ہیں۔ اور بعض احادیث میں جیسا کہ سنن ابو داود شریف میں آیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مؤثر حجامہ کروانے کےلیے موزوں وقت بھی بتایا ہے کہ ہر اسلامی مہینے کی فلاں فلاں تاریخوں میں حجامہ کروانا بہتر ہے۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ مریض کی کنڈیشن کو پیش نظر رکھتے ہوئے خون نکالنا چاہیے۔ بعینہ آج کل ڈاکٹرز بتاتے ہیں کہ فلاں مریض کو خون لگانے کی اشد ضرورت ہے، فلاں وقت کے اندر اندر خون لگانا ضروی ہے وغیرہ وغیرہ۔ اور پھر اس سلسلے میں کئی اہم باتوں کو لازمی طور پہ ملحوظ خاطر رکھا جاتا ہے۔ جس سے خون لیا جاتا ہے اس کے حوالے سے بھی کئی ایک چیزوں کو مد نظر رکھا جاتا ہے۔ اس ڈونر کے اہم ٹیسٹ کیے جاتے ہیں، بالخصوص گروپ میچنگ دیکھی جاتی ہے، بلڈ کو کراسنگ پراسس سے گزارا جاتا ہے وغیرہ۔
سو ہمارے سامنے حجامہ کروانے کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا واضح عمل اور فرامین موجود ہیں۔ جو ہماری یہ رہنمائی کرتے ہیں کہ بغرض علاج جسم سے خون نکالا جا سکتا ہے۔ اور یہ عمل بقدر ضرورت ہونا چاہیے۔ اور یہ اس بات کا بھی بیّن ثبوت ہے کہ علاج کی غرض سے انسان کو "بوقت ضرورت اور بقدر ضرورت” خون لگایا جا سکتا ہے۔
الغرض: تمام نصوصِ شرعیہ یعنی قرآنی آیات، نبوی روایات، آثارِ صحابہ اور اصولِ علاج پر مبنی فقہی و طبی بحث کے بعد یہ حقیقت پوری طرح عیاں ہو جاتی ہے کہ جس شریعتِ مطہرہ نے انسانی جان بچانے کےلیے جسم سے خون نکالنے کی اجازت دی؛ بلکہ اسے مجرب طریقہ علاج قرار دیا، وہی شریعت بوقتِ ضرورت انسانی جان کے تحفظ کےلیے خون لگانے کی بھی اجازت دیتی ہے۔ کیونکہ شریعت کا بنیادی مقصد انسانی جان کا تحفظ ہے، نہ کہ اسے خطرے میں ڈالنا۔ لہٰذا خون کا عطیہ دینا ہو یا خون لگوانا ہو۔ جب یہ عمل ضرورت، احتیاط اور طبی اصولوں کے مطابق ہو، تو نہ صرف جائز ہے؛ بلکہ واجب ہو جاتا ہے اور ڈونر کےلیے باعثِ اجر و ثواب ہوتا ہے۔ یُوں انتقالِ خون کے جواز پر شرعی، عقلی اور طبی ہر پہلو سے دلائل مکمل ہو جاتے ہیں اور بعد ازاں کسی بھی قسم کے شبہے یا اعتراض کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہتی ہے۔



















