چیف ایڈیٹر:طارق محمود چودھری  ایڈیٹر: مظہر اقبال چودھری  مینیجنگ ایڈیٹر: ادریس چودھری

اپریل 30, 2026 1:16 صبح

شعبان المعظّم کی اہمیت اور برکات.تحریر: امیر عبدالقدیر اعوان

شعبان المعظّم کی اہمیت اور برکات


تحریر: امیر عبدالقدیر اعوان
انتخاب۔ ادریس چودھری

معزز قارئین کرام! شعبان المعظم کا مبارک مہینہ شروع ہے اور رمضان المبارک کی آمد آمد ہے اس آیہ کریمہ میں اللہ جل شانہٗ نے ارشاد فرمایا:شَہْرُ رَمَضَانَ الَّذِيْٓ اُنْزِلَ فِيْہِ الْقُرْاٰنُ۔۔۔ کہ ایسا برکتوں والا مہینہ ہے کہ جس میں اللہ جل شانہٗ نے قرآنِ کریم نازل فرمایا۔ قرآنِ کریم کلامِ ذاتِ باری تعالیٰ ہے اور کلام متکلم کا اثر رکھتا ہے جیسے ہم کوئی کلام کرتے ہیں اور اُس کلام میں جو کیفیت ہوتی ہے اُس کا اثر اس تک پہنچتا ہے، جسے مخاطب کیا گیا ہوتا ہے۔ آپ احتراماً بات کرتے ہیں، پیار سے کرتے ہیں تو جسے آپ مخاطب کررہے ہیں اُس کا رویہ مثبت ہوتا ہے۔ جہاں آپ سخت کلام کرتے ہیں تو وہی سختی آپ کے کلام، انداز اور الفاظ کے چناو تک جاتی ہے آپ اُسے ہاتھ سے کہتے کچھ نہیں ہیں لیکن وہ الفاظ جب اُس کی سماعت سے ٹکراتے ہیں جسے آپ مخاطب کررہے ہیں تو وہ بھی غصہ کرتا ہے۔ کوئی بھی جو کلام ہوتا ہے اُس میں متکلم کا اثر ہوتا ہے۔ اللہ جل شانہٗ کا کلام اور اس کی کیفیات مخلوق کے لئے اس کا بہت بڑا احسان ہے۔ بیشک اللہ کریم کے غضب کو بھی لوگ اپنے اعمالِ بد سے آواز دیتے ہیں لیکن وہ ایسا غفور رحیم ہے کہ بِيَدِكَ الْخَيْرُ وہ ارشاد فرماتا ہے کہ اُس کی طرف سے خیر ہے۔ وہ فرماتا ہے کہ اُس نے تو اپنے اوپر رحمت کو لازم فرمایا ہے اُس کی رحمت مخلوق کی خطاؤں سے وسیع تر اور لامحدود ہے۔ اس لیے کہ جس طرح اُس کی ذات لامحدود ہے اسی طرح صفاتِ باری تعالیٰ بھی لامحدود ہیں تو اُس نے ایسا کرم اور احسان فرمایا چونکہ ماہ و سال سارے اُس کے ہیں، ہر شے اُس کی ہے تو اُس نے ماہِ مبارک رمضان کو کلامِ ذاتِ باری تعالیٰ کے لئے چنا اور اسے مہینوں کا سردار مہینہ منتخب فرمایا۔ اس کےعشروں کو بے شمار پہلوؤں سے نوازا۔ اس میں لیلۃ القدر عطا فرمائی جس کا اجر اور ثواب ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔ یہاں ہزار مہینوں سے بہتر کثرت کے پہلوئوں میں آتا ہے، اس سے مراد یہ نہیں ہے کہ صرف ایک ہزار یا ایک ہزار ایک کی بات ہے بلکہ اس کی بہتری کی کوئی حد نہیں، کتنی بہتر ہے، اس کا انحصار اللہ اور اُس کے بندے کے مابین تعلق پر ہے وہ کیا مانگتا ہے، کیسے مانگتا ہے؟ اللہ جل شانہٗ اُس کی دعا کو کیا شرفِ قبولیت عطا فرماتے ہیں اور اُسے کیا نوازتے ہیں؟ یہ وہ پہلو ہیں کہ ہم اس کا احاطہ نہیں کرسکتے۔ شعبان المعظّم میں رمضان المبارک کی تیاری :ماہِ مبارک رمضان المبارک اور اس آیہ کریمہ کی تلاوت سے متعلقہ گزارشات اس لئے پیش کررہا ہوں کہ ہم اپنی تیاری کا جائز لیں۔ کیا ہم رمضان المبارک کے لئے تیار ہیں اور عبادت کا شوق رکھتے ہیں؟ نبی کریمﷺ کا معمول تھا کہ آپ کثرت سے عبادت فرمایا کرتے تھے۔ لیکن امھات المومنین کی نسبت سے روایات ملتی ہیں کہ جب رمضان المبارک آتا تو آپﷺ کمر کس لیتے یعنی عبادت کے لئے اور زیادہ اہتمام فرماتے اور اس ماہ مبارک شعبان المعظّم میں آپﷺ نفلی روزوں کا اس قدر اہتمام فرماتے اور روزے اتنے زیادہ رکھتے تھے کہ اور کسی مہینے میں اتنا اہتمام نہیں فرمایا جاتا تھا اور رمضان المبارک کے اس قدر انتظار میں رہتے تھے کہ اس انتظار نے شعبان کو بھی معظّم کردیا۔ اُس کا بھی احترام رمضان المبارک کے انتظار کی نسبت سے ملا جس میں اللہ جل شانہٗ نے قرآن کو نازل فرمایا۔ اب اس مہینے میں قرآن نازل ہوا لیکن جب آپ نزولِ قرآن کو وحی کی صورت میں دیکھتے ہیں کہ احکامات اور اللہ کریم کا کلام نبی کریمﷺ پر جب نازل ہوا تو سال بھر کے مختلف ایام، مہینے اور واقعات ہیں۔ اس ضمن میں حضرت عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی روایت سے یہ بات ملتی ہے کہ اللہ جل شانہٗ نے لوحِ محفوظ، سے یک بارگی لیلۃ القدر میں قرآنِ کریم کو نازل فرمایا، پھر جب، جتنا چاہا اُسے اللہ کریم نے وحی کی صورت میں نبی کریمﷺ کے قلبِ مبارک پر نازل فرمایا۔ تلاوتِ قرآن؛ ایمان میں اضافہ اور روحانی سکون: جب آپ قرآنِ کریم کو دیکھتے ہیں تو اس کی بے شماربرکات ہیں۔ میں اکثر عرض کرتا ہوں کہ قرآنِ کریم کی زیارت نصیب ہونا،اس کا چھونا، پڑھنا اور سمجھنا نصیب ہو تو ہر پہلو سے قرآنِ کریم بابرکت ہے۔ اس لئے کہ یہ کلامِ ذاتِ باری تعالیٰ ہے۔ ہر شے کا کوئی مقصد ہوتا ہے کوئی شے بے مقصد نہیں ہوتی، تو جب ہم قرآنِ کریم کی اسی آیہ کریمہ کو مزید دیکھتے ہیں تو مزید تلاوت کرنی نصیب ہوتی ہےجس سے ایمان میں اضافہ ہوتا چلا جاتا ہے۔ دینِ اسلام کی حقیقت اور برکات: ھُدًى لِّلنَّاسِ وَبَيِّنٰتٍ مِّنَ الْہُدٰى۔۔۔ جو لوگوں کی راہنمائی کرتا ہے۔ نظریہ یا فکر کو دین کہتے ہیں۔ دینِ اسلام جو اللہ جلَّ شانہٗ نے راہِ ہدایت کے طور پر عطا فرمایا ہے۔ اس میں ایسے اصول اور ضابطے عطا فرمائے ہیں جو ایمانیات، عبادات اور معمولات سے متعلق ہیں۔ اس میں ساری انسانی زندگی کے لئے مکمل راہنمائی عطا فرمادی۔ اللہ کریم نے یہ جو سبب بنایا اس کی برکات دو پہلو سے ہیں۔ ایک وہ جو اجر وثواب کے پہلوئوں میں ہے۔ جو اس کی تلاوت سے، اس کو دیکھنے، چھونے اور کتنے ہی پہلوئوں سے نصیب ہوتی ہے۔ دوسرا وہ جو ہماری ضرورت ہے کہ ہمیں راہنمائی میسر آئے وہاں یہ ہماری راہنمائی فرماتا ہے اور ہم اپنی ضرورت پوری کرتے ہیں اور اُس ضرورت پر جب ہم پورا اُترتے ہیں تو اجر اور ثواب کے ساتھ اللہ کریم کی رضا بھی نصیب ہوتی ہے۔ مومن کی زندگی کے دو پہلو؛ شکر اور صبر: بندۂ مومن کے یہ دونوں پہلو اُس کے لئے بابرکت ہیں کامیابی نصیب ہو تو شکر کرتا ہے۔ کہیں دُکھ اور تکلیف ہوتو صبر کرتا ہے۔ نبی کریمﷺ کا فرمان ہے کہ بندۂ مومن کی دونوں صورتیں اُس کے لئے فائدہ مند ہیں۔ شکر اور صبر کرتا ہے تو اللہ راضی ہوتا ہے۔ دونوں پہلوئوں میں اُس کے لئے اجر اور ثواب ہے۔ جب ہم اپنے معمولات کو دیکھیں تو باریکی سے دیکھنا چاہئے کہ کہاں کہاں غلطی اور خرابی ہورہی ہے تو اُسے چھوڑ دیا جائے۔ کہاں اتنی گنجائش ہے کہ مزید عبادت کی جاسکے پھر ایک دوسرے کے لئے بھلائی کی جائے۔ حدیث شریف میں ایک لمبی روایت ہے جس میں بے شمار پہلو بیان فرمائے گئے ہیں جہاں رمضان المبارک کی فرضیت بیان فرمائی گئی ہے وہاں یہ بھی فرمایا گیا ہے کہ دن کا روزہ تم پر فرض ہے اور رات کے قیام اور عبادت میں برکات ہیں۔ روزہ دار کی افطاری سے متعلق نبی کریمﷺ نے فرمایا کہ جو کسی روزے دار کو افطاری کراتا ہے تو گویا اُس نے آگ سے اپنی گردن آزاد کرالی۔ حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس آپﷺ نے قیام فرمایا وہ ایسی ہستی ہیں کہ اُن کا مدفن قسطنطنیہ میں ملتا ہے۔ جہاں جو حکم آپﷺ نے فرمایا جتنا اختیار کیا جاسکتا تھا اپنی پوری کوشش فرمائی گئی۔ کہاں رہے، کہاں مہمان نوازی نصیب ہوئی کہاں نسلاً بعد نسل منتظر رہے اور کہاں جاکر قسطنطنیہ کی دیواروں کے ساتھ دفن ہوئے۔ اسی طرح جب آپ ایک ایک بات کو لیتے ہیں تو کس صداقت سے اُس بات پر عمل کر پائو گے! ایمان کی مضبوطی سے جومانا ہے وہ بھی مضبوط ہو اُس پر اعتماد اور یقین مضبوط ہوتو عمل کرپائو گے۔ عبادات جہاں اجر اور ثواب کا ذریعہ ہیں وہاں ایمان کی مضبوطی اور توانائی کا سبب بھی بنتی ہیں۔ رمضان میں اعمالِ صالح کا اجر: استقبالِ رمضان میں اپنا جائزہ لینا اس لئے بھی ضروری ہے کہ کیا میں اللہ کی عبادت کے لئے تیار ہوں۔ میرے سامنے وہ مہینہ ہے کہ جس کی برکات میں اللہ نے بے پناہ اضافہ فرما دیا ہے۔ حدیث شریف میں آتا ہے کہ نفل کو فرض کے برابر اجر دیا جائے گا اور ایک فرض کا ثواب ستر فرائض کے برابر ہے۔ وہ غفور رحیم بہانوں سے مخلوق کو عطا فرماتا ہے۔ بندۂ مومن اگر کوئی صالح عمل کرتا ہے تو اُس کا اجر دس گنا ہے اور اگر غلطی کرتا ہے تو جتنی غلطی ہے اُتنی سزا ہے۔ اُس دس گنا اجر کے حوالے سے احادیث میں یہ بھی ملتا ہے کہ اگر ستر گنا، ستر سے سات سو گنا تک بڑھا دیا جاتا ہے کہ اور اُس پہلو کو آپ رمضان المبارک میں دیکھیں جہاں ایک فرض کا ثواب ستر فرائض کے برابر ہے۔ اب آپ سوچیں کتنا بڑا اجر ہے۔ یہ سمجھ ایمان سے آئے گی، اپنی ذات سے نکل کر اپنے آپ کو اللہ کے حوالے کرنے سے سمجھ آئے گی۔ وگرنہ ہم اپنی بُنت میں لگے رہیں گے کہ میں یہ کہوں کا تو یہ ہوگا، فلاں عمل ایسے کروں گا تو اُس کے نتائج معاشرے میں یہ مرتب ہوں گے۔ ہم سے پہلے لوگ بھی اسی سوچ میں لگے رہے، آج قبروں میں ہیں۔ آنے والی مخلوق کا نہیں پتہ کہ اُن کا خمیر کس مٹی سے ہے اور کس بطن سے اُنہوں نے پیدا ہونا ہے۔ ہم اپنا وقت بسر کررہے ہیں تو اگر ہم بھی بُنت پر انحصار کریں گے کہ میرے بُننے سے ہی دنیا چلنی ہے تو دیکھ لو آج تک دنیا کیسے چل رہی ہے جہاں جہاں جو غلطی کی ہے اُس کا خمیازہ تو بھگتنا ہے۔ وہ ایسا غفور رحیم ہے کہ ان چلتی سانسوں میں معافی کا دروازہ بند نہیں فرماتا جتنی بڑ ی بھی کوئی غلطی ہوجائے رحمتِ باری تعالیٰ وسیع ہے۔ مگر جو بنیاد یہاں ہے۔ کیا چاہتے ہو؟ کیا فیصلہ کرتے ہو اورکس شے کو مقدم جانتے ہو؟ قرآن موجود ہے، کلامِ ذاتی ہےھُدًى لِّلنَّاسِ۔۔۔لوگوں کی راہنمائی کے لئے ایک تم نہیں جو بھی راہنمائی لینا چاہے اُس کے لئے موجود ہے۔ وَبَيِّنٰتٍ مِّنَ الْہُدٰى۔۔۔’’ اور ہدایت کی روشن دلیلیں ہیں‘‘ جس بات پر عمل کرو گے و ہی تمہارے لیے روشن دلیل بن جائے گی۔ وَالْفُرْقَانِ۝۰ۚ ’’اور فیصلہ کرنے والا‘‘ قرآنِ کریم ہے کسی بات کو لے کر جانچ لو مبہم بات نہیں ہوگی حق اور باطل کی ایسی تفریق فرماتا ہے کہ باطل باطل نظر آتا ہے اور حق حق نظر آتا ہے۔ کوئی گنجائش نہیں چھوڑتا کہ کوئی شے مبہم ہو۔ ہم یہاں دنیا میں فیصلے کرتے ہیں نہ سمجھ میں آتا ہے کہ حق میں ہیں یا مخالف ہیں نہ سمجھ میں آتا ہے کہ اس میں مخلوق کی بھلائی کی گئی ہے یا نقصان پہنچایا گیا ہے۔ ایک ابہام پیدا کردیا جاتا ہے۔ عدالتوں میں قانون کے مطابق فیصلے سنائے جاتے ہیں مگر ان میں بھی ابہام ہوتا ہے جو قوانین قرآنِ کریم سے متصادم ہیں اُن میں انصاف کیا ہوگا؟ لیکن انسان کے بنائے گئے قوانین میں بھی ابہام ہوجاتا ہے کیوں؟ اس لئے کہ مخلوق کررہی ہے جہاں بات خالق کی نسبت آئے گی تو وہاں ابہام نہیں رہتاوَالْفُرْقَانِ۝۰ۚ ’’اور فیصلہ کرتا ہے‘‘ حق وباطل کو واضح کردیتا ہے۔ دعا ، عبادت اور اللہ پر بھروسا: کل کسی دوست نے مجھ سے سوال کیا فرمانے لگے کہ اگر کئی سالوں سے بندہ دعا مانگ رہا ہو اور وہ قبول نہ ہو رہی ہو تو دل میں خیال نہیں آجاتا کہ اللہ تو میری سنتا ہی نہیں میں نے کہا اگر دعا مانگ رہے ہوگے تو یہ خیال نہیں آئے گا لیکن اگر اپنی طرف سے حکم دے رہے ہو تو پھر یہ سوچا جاسکتا ہے کہ جو میں مانگ رہا ہوں ایسا کیوں نہیں ہورہا۔ ایک ماں چمکتی شے ایک طرف کردیتی ہے اور بچہ چیختا ہے اور ہم سارے خوش ہوتے ہیں کہ ماں نے بچے کے لئے بہتری کی کیوں کہ وہ تیز دار آلہ تھا اور اگر بچہ ہاتھ میں پکڑتا تو ہاتھ کٹ جاتا لیکن بچہ نہیں سمجھتا وہ چیختا اور چلاتا ہے کہ مجھے کیوں نہیں دی۔ ایک ماں بچے سے جو شے ہٹا رہی ہے مخلوق سمجھ رہی ہے اور جو مالک محفوظ کررہا ہے حفاظت دے رہا ہے اُسے تو نہیں سمجھ رہا جو تُو مکلف ہے۔ یہ کیفیت اس لئے کہ ہم عبادات کو سودوں میں کرتے ہیں عوضانے چاہتے ہیں اور یہ بھول جاتے ہیں کہ ہم اتنے مقروض ہیں اتنے مقروض ہیں اتنے مقروض ہیں کہ ساری زندگی عبادت میں بسر کردیں تو اللہ کا قرض نہیں چکا سکتے۔ ہم شکرانہ ادا نہیں کرسکتے چونکہ ہم پہلے مقروض ہیں قرض سے نکلیں تو شکرانے تک پہنچیں گے۔ اور ہماری ضرورت ہے اور وہ ہمیں بتاتا ہے کہ اس طرح تمہارا فائدہ ہے اُسے عبادت بھی فرما دیتا ہے اور اُس پر اپنی رضا بھی عطا فرماتا ہے، اُس پر اجر اور ثواب بھی دیتا ہے۔ ہر شے اُسی کی ہے مالک بھی وہ ہے کبھی کہیں دیکھا ہے دنیا میں؟ کہ جو مالک ہے جس کی شے ہے اُسی کا غلام بھی ہو جہاں رہتا ہے وہ جگہ بھی اُس کی ہو، لباس بھی اُس کا ہو، خوراک بھی اُس کی ہو، جہاں اُس نے سر چھپا رکھا ہے وہ گھر بھی اُس کا ہو، چار دیواری بھی اُس کی ہو سواری استعمال کرنی ہے وہ بھی اُس کی ہو۔ جس زمین پر پائوں رکھتا ہے وہ بھی اُس کی ہو۔ حالاں کہ دونوں انسان ہیں لیکن یہاں معاملہ مخلوق کا نہیں ہے۔ خالق اور مخلوق کا ہے اور ہر شے اُس کی، اور جو عمل اپنے فائدے کے لئے کررہا ہے وہ اُسے عبادت کا درجہ دیتا ہے اور اُس پر اجر اور ثواب دیتا ہے اُس پر اپنی رضا عطا فرماتا ہے۔ فرماتا ہے تمہیں جنت عطا فرمائوں گا، بخش دوں گا ہمیشہ تُو ایسی جگہ رہے گا جہاں تیری کوئی خواہش ایسی نہیں ہوگی جو رہ جائے۔ کسی طرح کا کوئی اندیشہ اور خوف تجھے نہیں رہے گا اور تُو ہمیشہ رہے گا۔ رمضان المبارک کی آمد ہے اللہ کریم رمضان المبارک کی برکتیں ہمیں عطا فرمائے۔ ہمیں اس کی برکات سے صالح کردار عطا فرمائے تاکہ اس اُمت میں اتحاد ہوسکے۔ اس ملک کی حفاظت ہوسکے، اس ملک میں اتفاق ہوسکے۔ ہمارے معاشرے، ہمارے گھروں، ہماری برادریوں، ہمارے اہلِ خانہ تک، ایک محبت اور اتحاد پیدا ہوسکے اپنے حصہ کا کردار ضرور ادا کریں۔ اللہ سے توفیقِ عمل مانگیں۔ کیا ہوگا کیا نہیں ہوگا یہ اللہ کے دستِ قدرت میں ہے مجھ سے یہ سوال ہے کہ جو فرصت اور استعداد مجھے دی گئی ہے اُس میں نے کیسے صرف کیا۔ اللہ خیر فرمائے اور اپنی حفاظت عطا فرمائے۔(آمین)

Facebook
Twitter
LinkedIn
Pinterest
Pocket
WhatsApp

متعلقہ خبریں

تازہ ترین خبریں