

دینہ:کشمیر مارکیٹ دینہ ، مین بازار دینہ کے مغرب کی طرف واقع ہے ٫ 16 دکاندار اپنے حقوق حاصل کرنے کے لیے جگہ جگہ فریاد کرنے میں مصروف ٫ تاحال ان کی داد رسی نہ ہو سکی
دینہ ( پروفیسر خورشید ڈار) کشمیر مارکیٹ دینہ ، مین بازار دینہ کے مغرب کی طرف واقع ہے ان ایام میں 16 دکاندار اپنے حقوق حاصل کرنے کے لیے جگہ جگہ فریاد کرنے میں مصروف ہیں تاحال ان کی داد رسی نہیں ہو سکی اج سے ٹھیک 15 سال قبل ایک مقامی شخص نے با اختیار سیاسی شخصیت کی وجہ سے ان کو انتظامیہ کے ذریعے تنگ کرنا شروع کر دیا بعض دکانداروں نے خوف سے ضمانت قبل از گرفتاری حاصل کر کے ہائی کورٹ سے رجوع کیا ہائی کورٹ نے وقتی طور پر ریلیف دے دیا اس طرح یہ مظلوم ظلم سے بچ گئے ان ایام میں یہ لوگ دوبارہ آزمائش میں مبتلا ہو چکے ہیں چند روز قبل دکانداروں اور اسسٹنٹ کمشنر دینہ کے درمیان بات چیت ہوئی اسسٹنٹ کمشنر نے حکم جاری کیا کہ مین بازار دینہ کے سامنے والے دکاندار 15 فٹ پیچھے ہو جائیں تاکہ بازار کو خوبصورت بنایا جا سکے ذرائے کے مطابق اب اسسٹنٹ کمشنر دینہ نامعلوم وجوہات کی بنا پر حکم دے رہے ہیں کہ 45 فٹ پیچھے ہو جائیں مذکورہ حکم سے ان دکانداروں پر قیامت ٹوٹ پڑی ہے مذکورہ دکاندار مایوس ہو کر گزشتہ روز ڈپٹی کمشنر جہلم کے پاس گئے انہوں نے اسسٹنٹ کمشنرینہ کو ہدایت کی کہ قانون کے مطابق ان کو ڈیل کیا جائے اب اگر قانون کی بات کی جائے تو انتظامیہ کسٹولین کا کردار ادا کر سکتی ہے کشمیر مارکیٹ دینہ حکومت پنجاب کی ملکیت نہیں ہے اور نہ ہی مرکزی حکومت کی ملکیت ہے کشمیر مارکیٹ دینہ حکومت آزاد کشمیر کی ملکیت ہے۔۔اگر حکومت آزاد کشمیر نے کوئی سرکاری لیٹر بنام اسسٹنٹ کمشنر دینہ لکھا ہے تو تحصیل دینہ کے اسسٹنٹ کمشنر ایکشن لینے کے مجاز ہیں اگر ایسا نہیں ہے تو ان مظلوموں پر رحم کیا جائے کیونکہ ان کے روزگار کے ساتھ سو افراد کا دارومدار ہے



















