چیف ایڈیٹر:طارق محمود چودھری  ایڈیٹر: مظہر اقبال چودھری  مینیجنگ ایڈیٹر: ادریس چودھری

اگست 24, 2026 9:03 صبح
تازہ ترین خبریں

علم.تحریر: مولانا امیر محمد اکرم اعوان رح

علم.تحریر: مولانا امیر محمد اکرم اعوان رح

ﷲ کریم نے زمین پر بسنے والی مخلوق میں صرف انسان کو یہ فضیلت دی کہ وہ علوم کو قلم کے ذریعے منتقل کر سکتا ہے (سورۃ العلق: 4)۔ ہم قلم سے ٹنڈے، گھیرے، خاکے بناتے رہتے ہیں۔ انسان کو ایسا شعور اور ایسی عقل عطا کر دی کہ وہ ان ٹنڈوں گھیروں کو مختلف آوازوں، زبان کی حرکات اور علوم کی شناخت کے ساتھ حروف مقرر کر لے۔کہ یہ لکیر ایسے ہو گی تو اسے ’’الف‘‘ کہا جائے گا، اسے ایسے کر دیں گے تو ’’ب‘‘ ہو جائے گی، نقطے اتنے بڑھا دیں گے تو ’’پ‘‘ ہو جائے گی۔ ہے تو وہی لکیر! ایسے کر دیں گے تو یہ ’’ج‘‘ کی آواز دے گی، ہر زبان میں۔ایسے کریں گے تو انڈہ سا ہو گا، اس طرح کر دو تو A ہو جائے گا، دو خانے اوپر نیچے بنا دو تو B ہو جائے گی، اس انڈے میں تھوڑا سا راستہ رکھ دو تو C ہو جائے گی، اس انڈے کے ساتھ ٹنڈا بڑھا دو تو D ہو جائے گی۔اب ان کو جوڑو تو الفاظ بنیں گے؛ وہ زبان بن جائے گی۔ جو آپ جانتے ہیں وہ دوسرے کو سنانا چاہتے ہیں۔ وہ ٹنڈے گھیرے مقصد تو نہیں ہوتے، مقصد تو وہ بات ہوتی ہے جو ان کے طفیل آگے پہنچانی ہوتی ہے۔ایک آدمی ایک جملہ لکھتا ہے کہ مجھے ضرورت ہے، میں پیاسا ہوں، ایک گلاس پانی لا دیجئے۔ آپ اسے سارا دن حفظ کرتے رہیں، اس کا کیا حاصل؟ آپ وہ ٹنڈے گھیرے دیکھتے ہیں اور پانی کا گلاس لے آتے ہیں۔ مقصد پورا ہو گیا۔تو مقصد وہ حروف، الفاظ، ٹنڈے گھیرے نہیں تھے؛ مقصد تو وہ بات تھی جو آپ تک پہنچائی گئی۔ اسی لیے علمائے حق فرماتے ہیں کہ یہ کاغذ، یہ سیاہی، یہ حروف — یہ قرآن نہیں ہیں۔ ان میں جو مفہوم مقید ہے وہ قرآن ہے۔ ورنہ تو ساری عربی زبان کی دنیاوی باتیں بھی انہی حروف تہجی سے لکھی جاتی ہیں۔مرادِ الٰہی اس میں جو مقید ہے وہ قرآن ہے۔اﷲ نے فرمایا: آپ کا پروردگار بے پناہ کریم ہے۔وہ رب، وہ عطا کرنے والا۔ اس نے قلم کے ذریعے علوم کے خزانے منتقل کرنے کا ہنر دیا۔ یہ کتنا بڑا احسان ہے!ہمارا نہ تعلیمی نصاب اپنا ہے، نہ اندازِ فکر اپنا ہے، نہ ہم اپنی مرضی سے سوچ سکتے ہیں نہ بول سکتے ہیں، نہ حلال و حرام میں تمیز کر سکتے ہیں۔ نہ نظامِ انصاف وہ ہے جو اﷲ اور رسول ﷺ نے دیا، نہ نظامِ سیاست، نہ نظامِ تعلیم ہمارا ہے۔ہم نے لکھنے پڑھنے کو صرف نوکری کا ذریعہ سمجھ لیا ہے۔ انگریز ہمیں یہاں تک لے آیا کہ پڑھنا محض پڑھنا نہ رہے، صرف وہ پڑھو جو نوکری میں کام آئے۔ قرآن پڑھنا چھوڑ دو، اس سے تو نوکری نہیں ملتی۔ تفسیر چھوڑ دو، اس سے نوکری نہیں ملتی۔ نَحو و صرف نہ سیکھو، حدیث یاد کر کے ملا بن جاؤ گے، مردے نہلاؤ گے! صاحب بنو، افسر بنو؛ وہی چیزیں سیکھو جن سے اچھی نوکری ملتی ہے۔پھر علم رہ ہی نہیں جاتا — صرف معاش کا ایک حیلہ رہ جاتا ہے۔آدمی پی ایچ ڈی کر کے مزدوری بھی کر سکتا ہے، اپنی دکان بھی چلا سکتا ہے، کھیتی باڑی بھی کر سکتا ہے، دیواریں بھی بنا سکتا ہے۔ ضروری نہیں کہ وہ ٹائی لگا کر صاحب ہی بنے۔لیکن ہم تو صرف نوکری کے لیے پڑھتے ہیں۔ تب وہ علم نہیں رہتا، وہ صرف کاغذی ڈگری رہ جاتی ہے۔اﷲ تعالیٰ نے فرمایا کہ تمہارا رب وہ کریم ہے جس نے انسان کو بے پناہ علوم کے حصول کی استعداد بخشی، پھر قلم اور چند لکیروں کے ذریعے علم منتقل کرنے کا شعور عطا کیا۔انسان اگر یہ وسائل نہ پاتا تو وہ ان علوم میں ترقی نہ کر پاتا۔ جو کبھی پیدل چلتا تھا، اس نے گھوڑا مسخر کیا، پھر موٹر بنائی، ٹرین ایجاد کی، پھر جہاز بنا لیا۔ آج ایک پورا شہر فضا میں تیر رہا ہے۔ مہینوں کا سفر لمحوں میں طے ہو رہا ہے۔اگر تعلیم و تعلم اور قلم کا تصور نکال دیں تو یہ ساری ترقی دھڑام سے گر جائے۔جس شخص نے بنیاد رکھی، وہ مر جائے تو اس کی معلومات بھی قبر میں چلی جائیں۔ دوسرا پھر سے شروع کرے گا۔ لیکن جب پہلوں نے اپنی معلومات قلم سے محفوظ کیں تو اگلے وہاں سے آگے بڑھے۔یہ بدن انسان نہیں ہوتا۔ اصل انسان روح ہے۔ روح نکل جائے تو بدن صرف میت رہ جاتا ہے۔انسان کا تعلق اﷲ سے براہِ راست ممکن نہیں۔ تجلیاتِ باری کا کوئی پردہ ہٹ جائے تو مخلوق جل جائے۔ اس لیے نبیؑ پیدا فرمائے گئے، جو انسان ہوتے ہیں لیکن کلامِ باری سن لیتے ہیں، سمجھ لیتے ہیں، اور آگے پہنچاتے ہیں۔نبیؑ صادق و امین ہوتے ہیں۔ ان میں گناہ کی آمیزش ہو ہی نہیں سکتی۔ جیسے تار پر ویلڈنگ ہو جائے تو آواز رک جاتی ہے، ویسے ہی گناہ تعلقِ نبوت کو منقطع کر دیتا ہے — اس لیے نبی گناہ سے پاک ہوتے ہیں۔بدن کے لیے اتنے وسائل دیے، تو روح کے لیے کتنے ہوں گے؟ظاہری علوم کے لیے قلم، اور روحانی علوم کے لیے انبیاءؑ کو ذریعہ بنایا۔ان لطافتوں اور کیفیات کو منتقل کرنے کا ذریعہ وہی نبی ہوتے ہیں۔ نبیؑ اور امتی میں یہی لطافت کا فرق ہے۔ بظاہر ایک جیسے انسان، مگر نور، نزاکت اور صفائی میں زمین آسمان کا فرق۔کلامِ الٰہی صرف لفظ نہیں — کیفیت بھی ہوتی ہے۔غصے کے الفاظ کے ساتھ غصے کی کیفیت منتقل ہوتی ہے۔ شاباش کے ساتھ خوشی کی کیفیت۔ اسی طرح کلامِ الٰہی کے ساتھ اﷲ کی کیفیت بھی ہوتی ہے۔ یہ کیفیت پاگل پر اثر نہیں کرتی، لیکن نبیؑ پوری لطافت سے اسے محسوس کرتے ہیں اور آگے پہنچاتے ہیں۔ مومن اس کیفیت کو قبول کرتا ہے، کافر نہیں۔جیسے ظاہری علوم کا ایک سلسلہ ہے، ویسے روحانی علوم کا بھی سلسلہ ہے —نبی ﷺ → صحابہؓ → اولیاء اللہ → اہل اللہ → علمائے حق → عوامیہ علم رٹنے سے نہیں آتا، کیفیت سے آتا ہے۔باطنی علم اصل ہے، ظاہری علم اس کا سایہ ہے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Pinterest
Pocket
WhatsApp

متعلقہ خبریں

ماہ ربیع الاول تجدید عہد کا دن ہے اس دن کو ہمیں یہ عہد کرنا ہوگا کہ ہم اپنی زندگی کو اسوہ رسول ﷺ کے مطابق گزاریں گے۔آپ ﷺ سے اظہار محبت ہماری زندگی کا اثاثہ ہے۔آپ ﷺ سے محبت ہی ہمیں زندگی سے آشنائی عطا کرتی ہے۔یہ وہ راستہ ہے جس میں اپنی جان نچھاور کرنے کو کامیابی اور فخر سمجھا جاتاہے۔ سیماب ایسی موت کی ہے جستجو مجھے،لپٹا ہو جس میں تہہ بہ تہہ محبوب کا وصال امیر عبدالقدیرا عوان شیخ سلسلہ عالیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پا کستان کا بہاولپور میں بعثت رحمت عالم ﷺ کانفرنس میں خواتین و حضرات کی بڑی تعداد سے خطاب

نبی کریم ﷺ کو رحمۃ اللعالمین بنا کر بھیجا گیا۔جسے جو نصیب ہو رہا ہے آپ ﷺ کی رحمت سے نصیب ہو رہا ہے۔ہمارے پاس ایسے الفاظ نہیں کہ نبی کریم ﷺ کی شان بیان کر سکیں۔اللہ کریم جانتے ہیں کہ اپنے حبیب ﷺ کو کیا بلندیاں عطا فرمائیں۔ربیع الاول میں کوشش کریں کہ آپ ﷺ کی سیرت پاک کا مطالعہ کیا جائے آپ ﷺ کی ولادت سے لے کر زندگی کا ایک ایک پل جو آپ ﷺ نے بسر فرمایا اس سے ہماری نسلوں کوراہنمائی ملے گی اور بھلائی نصیب ہو گی۔ امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان جمعتہ المبارک کے روز خطاب

دوسری ملک گیر کانفرنس سے پہلے ورکشاپ کا انعقادپروفیسر ساجد مقبول آڈیٹوریم یونیورسٹی آف چائلڈ ہیلتھ سائنسز لاہور میں الفلاح فاؤنڈیشن پاکستان کے زیر انتظام یو سی ایچ ایس اور مائنڈ أرگنائزیشن کے تعاون سے سینیئر اور جونیئر ڈاکٹرز کے مابین ہم أہنگی کے فقدان کے عنوان سے پری کانفرنس ورکشاپ کا کامیاب انعقاد 19 اگست 2026 صبح 9 بجے سے 11 بجے تک کیا گیا

دینہ کی تاریخ میں ریکارڈ ساز کیمپ۔معروف چائلڈ سپیشلسٹ ڈاکٹر ملک عدیل افتخار اعوان کی زیر نگرانی عدیل کلینک نزد مرکزی جامع مسجد و میزان بینک جی ٹی روڈ دینہ پر بچوں کی گروتھ اسسمینٹ کیمپ کا انعقاد کیا گیاجس میں دینہ شہر اور اس کے مضافات سے سیکڑوں والدین اپنے نوزائدہ بچوں سے لے کر 14 سال تک کے بچوں کے ساتھ تشریف لائے اور ان کی گروتھ اسسمینٹ کروائی

آج بھی حضرت محمد ﷺ روضہ اطہر میں اُسی طرح جلوہ افروز ہیں جیسے اس دار دنیا میں جلوہ افروز تھے۔اگر کوئی وہاں صدق دل سے حاضر ہو کر اپنے گناہوں کی بخشش طلب کی جائے تو اللہ کریم آپ ﷺ کے صدقے معاف فرمائیں گے۔دیکھنا یہ ہے کہ ہم نہاں خانہ دل سے یہ تڑپ لے کر جارہے ہیں؟اگر ہماری اکثریت صدق سے جاتی تو ہمارے معاشرے میں حجاج اور عمرہ کرنے والے سب سے زیادہ ہیں پھر بھی معاشرے میں انحطاط ہے۔امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ وسربراہ تنظیم الاخوان پاکستان کا فیصل آباد کیولیم مارکی میں بعثت رحمت عالم ﷺ کانفرنس میں خواتین و حضرات کی بڑی تعداد سے خطاب

تازہ ترین خبریں

ماہ ربیع الاول تجدید عہد کا دن ہے اس دن کو ہمیں یہ عہد کرنا ہوگا کہ ہم اپنی زندگی کو اسوہ رسول ﷺ کے مطابق گزاریں گے۔آپ ﷺ سے اظہار محبت ہماری زندگی کا اثاثہ ہے۔آپ ﷺ سے محبت ہی ہمیں زندگی سے آشنائی عطا کرتی ہے۔یہ وہ راستہ ہے جس میں اپنی جان نچھاور کرنے کو کامیابی اور فخر سمجھا جاتاہے۔ سیماب ایسی موت کی ہے جستجو مجھے،لپٹا ہو جس میں تہہ بہ تہہ محبوب کا وصال امیر عبدالقدیرا عوان شیخ سلسلہ عالیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پا کستان کا بہاولپور میں بعثت رحمت عالم ﷺ کانفرنس میں خواتین و حضرات کی بڑی تعداد سے خطاب

نبی کریم ﷺ کو رحمۃ اللعالمین بنا کر بھیجا گیا۔جسے جو نصیب ہو رہا ہے آپ ﷺ کی رحمت سے نصیب ہو رہا ہے۔ہمارے پاس ایسے الفاظ نہیں کہ نبی کریم ﷺ کی شان بیان کر سکیں۔اللہ کریم جانتے ہیں کہ اپنے حبیب ﷺ کو کیا بلندیاں عطا فرمائیں۔ربیع الاول میں کوشش کریں کہ آپ ﷺ کی سیرت پاک کا مطالعہ کیا جائے آپ ﷺ کی ولادت سے لے کر زندگی کا ایک ایک پل جو آپ ﷺ نے بسر فرمایا اس سے ہماری نسلوں کوراہنمائی ملے گی اور بھلائی نصیب ہو گی۔ امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان جمعتہ المبارک کے روز خطاب

دوسری ملک گیر کانفرنس سے پہلے ورکشاپ کا انعقادپروفیسر ساجد مقبول آڈیٹوریم یونیورسٹی آف چائلڈ ہیلتھ سائنسز لاہور میں الفلاح فاؤنڈیشن پاکستان کے زیر انتظام یو سی ایچ ایس اور مائنڈ أرگنائزیشن کے تعاون سے سینیئر اور جونیئر ڈاکٹرز کے مابین ہم أہنگی کے فقدان کے عنوان سے پری کانفرنس ورکشاپ کا کامیاب انعقاد 19 اگست 2026 صبح 9 بجے سے 11 بجے تک کیا گیا