چیف ایڈیٹر:طارق محمود چودھری  ایڈیٹر: مظہر اقبال چودھری  مینیجنگ ایڈیٹر: ادریس چودھری

اکتوبر 25, 2026 3:33 صبح
تازہ ترین خبریں

علم.تحریر: مولانا امیر محمد اکرم اعوان رح

علم.تحریر: مولانا امیر محمد اکرم اعوان رح

ﷲ کریم نے زمین پر بسنے والی مخلوق میں صرف انسان کو یہ فضیلت دی کہ وہ علوم کو قلم کے ذریعے منتقل کر سکتا ہے (سورۃ العلق: 4)۔ ہم قلم سے ٹنڈے، گھیرے، خاکے بناتے رہتے ہیں۔ انسان کو ایسا شعور اور ایسی عقل عطا کر دی کہ وہ ان ٹنڈوں گھیروں کو مختلف آوازوں، زبان کی حرکات اور علوم کی شناخت کے ساتھ حروف مقرر کر لے۔کہ یہ لکیر ایسے ہو گی تو اسے ’’الف‘‘ کہا جائے گا، اسے ایسے کر دیں گے تو ’’ب‘‘ ہو جائے گی، نقطے اتنے بڑھا دیں گے تو ’’پ‘‘ ہو جائے گی۔ ہے تو وہی لکیر! ایسے کر دیں گے تو یہ ’’ج‘‘ کی آواز دے گی، ہر زبان میں۔ایسے کریں گے تو انڈہ سا ہو گا، اس طرح کر دو تو A ہو جائے گا، دو خانے اوپر نیچے بنا دو تو B ہو جائے گی، اس انڈے میں تھوڑا سا راستہ رکھ دو تو C ہو جائے گی، اس انڈے کے ساتھ ٹنڈا بڑھا دو تو D ہو جائے گی۔اب ان کو جوڑو تو الفاظ بنیں گے؛ وہ زبان بن جائے گی۔ جو آپ جانتے ہیں وہ دوسرے کو سنانا چاہتے ہیں۔ وہ ٹنڈے گھیرے مقصد تو نہیں ہوتے، مقصد تو وہ بات ہوتی ہے جو ان کے طفیل آگے پہنچانی ہوتی ہے۔ایک آدمی ایک جملہ لکھتا ہے کہ مجھے ضرورت ہے، میں پیاسا ہوں، ایک گلاس پانی لا دیجئے۔ آپ اسے سارا دن حفظ کرتے رہیں، اس کا کیا حاصل؟ آپ وہ ٹنڈے گھیرے دیکھتے ہیں اور پانی کا گلاس لے آتے ہیں۔ مقصد پورا ہو گیا۔تو مقصد وہ حروف، الفاظ، ٹنڈے گھیرے نہیں تھے؛ مقصد تو وہ بات تھی جو آپ تک پہنچائی گئی۔ اسی لیے علمائے حق فرماتے ہیں کہ یہ کاغذ، یہ سیاہی، یہ حروف — یہ قرآن نہیں ہیں۔ ان میں جو مفہوم مقید ہے وہ قرآن ہے۔ ورنہ تو ساری عربی زبان کی دنیاوی باتیں بھی انہی حروف تہجی سے لکھی جاتی ہیں۔مرادِ الٰہی اس میں جو مقید ہے وہ قرآن ہے۔اﷲ نے فرمایا: آپ کا پروردگار بے پناہ کریم ہے۔وہ رب، وہ عطا کرنے والا۔ اس نے قلم کے ذریعے علوم کے خزانے منتقل کرنے کا ہنر دیا۔ یہ کتنا بڑا احسان ہے!ہمارا نہ تعلیمی نصاب اپنا ہے، نہ اندازِ فکر اپنا ہے، نہ ہم اپنی مرضی سے سوچ سکتے ہیں نہ بول سکتے ہیں، نہ حلال و حرام میں تمیز کر سکتے ہیں۔ نہ نظامِ انصاف وہ ہے جو اﷲ اور رسول ﷺ نے دیا، نہ نظامِ سیاست، نہ نظامِ تعلیم ہمارا ہے۔ہم نے لکھنے پڑھنے کو صرف نوکری کا ذریعہ سمجھ لیا ہے۔ انگریز ہمیں یہاں تک لے آیا کہ پڑھنا محض پڑھنا نہ رہے، صرف وہ پڑھو جو نوکری میں کام آئے۔ قرآن پڑھنا چھوڑ دو، اس سے تو نوکری نہیں ملتی۔ تفسیر چھوڑ دو، اس سے نوکری نہیں ملتی۔ نَحو و صرف نہ سیکھو، حدیث یاد کر کے ملا بن جاؤ گے، مردے نہلاؤ گے! صاحب بنو، افسر بنو؛ وہی چیزیں سیکھو جن سے اچھی نوکری ملتی ہے۔پھر علم رہ ہی نہیں جاتا — صرف معاش کا ایک حیلہ رہ جاتا ہے۔آدمی پی ایچ ڈی کر کے مزدوری بھی کر سکتا ہے، اپنی دکان بھی چلا سکتا ہے، کھیتی باڑی بھی کر سکتا ہے، دیواریں بھی بنا سکتا ہے۔ ضروری نہیں کہ وہ ٹائی لگا کر صاحب ہی بنے۔لیکن ہم تو صرف نوکری کے لیے پڑھتے ہیں۔ تب وہ علم نہیں رہتا، وہ صرف کاغذی ڈگری رہ جاتی ہے۔اﷲ تعالیٰ نے فرمایا کہ تمہارا رب وہ کریم ہے جس نے انسان کو بے پناہ علوم کے حصول کی استعداد بخشی، پھر قلم اور چند لکیروں کے ذریعے علم منتقل کرنے کا شعور عطا کیا۔انسان اگر یہ وسائل نہ پاتا تو وہ ان علوم میں ترقی نہ کر پاتا۔ جو کبھی پیدل چلتا تھا، اس نے گھوڑا مسخر کیا، پھر موٹر بنائی، ٹرین ایجاد کی، پھر جہاز بنا لیا۔ آج ایک پورا شہر فضا میں تیر رہا ہے۔ مہینوں کا سفر لمحوں میں طے ہو رہا ہے۔اگر تعلیم و تعلم اور قلم کا تصور نکال دیں تو یہ ساری ترقی دھڑام سے گر جائے۔جس شخص نے بنیاد رکھی، وہ مر جائے تو اس کی معلومات بھی قبر میں چلی جائیں۔ دوسرا پھر سے شروع کرے گا۔ لیکن جب پہلوں نے اپنی معلومات قلم سے محفوظ کیں تو اگلے وہاں سے آگے بڑھے۔یہ بدن انسان نہیں ہوتا۔ اصل انسان روح ہے۔ روح نکل جائے تو بدن صرف میت رہ جاتا ہے۔انسان کا تعلق اﷲ سے براہِ راست ممکن نہیں۔ تجلیاتِ باری کا کوئی پردہ ہٹ جائے تو مخلوق جل جائے۔ اس لیے نبیؑ پیدا فرمائے گئے، جو انسان ہوتے ہیں لیکن کلامِ باری سن لیتے ہیں، سمجھ لیتے ہیں، اور آگے پہنچاتے ہیں۔نبیؑ صادق و امین ہوتے ہیں۔ ان میں گناہ کی آمیزش ہو ہی نہیں سکتی۔ جیسے تار پر ویلڈنگ ہو جائے تو آواز رک جاتی ہے، ویسے ہی گناہ تعلقِ نبوت کو منقطع کر دیتا ہے — اس لیے نبی گناہ سے پاک ہوتے ہیں۔بدن کے لیے اتنے وسائل دیے، تو روح کے لیے کتنے ہوں گے؟ظاہری علوم کے لیے قلم، اور روحانی علوم کے لیے انبیاءؑ کو ذریعہ بنایا۔ان لطافتوں اور کیفیات کو منتقل کرنے کا ذریعہ وہی نبی ہوتے ہیں۔ نبیؑ اور امتی میں یہی لطافت کا فرق ہے۔ بظاہر ایک جیسے انسان، مگر نور، نزاکت اور صفائی میں زمین آسمان کا فرق۔کلامِ الٰہی صرف لفظ نہیں — کیفیت بھی ہوتی ہے۔غصے کے الفاظ کے ساتھ غصے کی کیفیت منتقل ہوتی ہے۔ شاباش کے ساتھ خوشی کی کیفیت۔ اسی طرح کلامِ الٰہی کے ساتھ اﷲ کی کیفیت بھی ہوتی ہے۔ یہ کیفیت پاگل پر اثر نہیں کرتی، لیکن نبیؑ پوری لطافت سے اسے محسوس کرتے ہیں اور آگے پہنچاتے ہیں۔ مومن اس کیفیت کو قبول کرتا ہے، کافر نہیں۔جیسے ظاہری علوم کا ایک سلسلہ ہے، ویسے روحانی علوم کا بھی سلسلہ ہے —نبی ﷺ → صحابہؓ → اولیاء اللہ → اہل اللہ → علمائے حق → عوامیہ علم رٹنے سے نہیں آتا، کیفیت سے آتا ہے۔باطنی علم اصل ہے، ظاہری علم اس کا سایہ ہے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Pinterest
Pocket
WhatsApp

متعلقہ خبریں

جہلم( ادریس چودھری) رسولِ اکرم ﷺ کی ذاتِ مبارکہ اور حیاتِ طیبہ ہر شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد کے لیے کامل نمونہ ہے۔ آپ ﷺ کی سیرت ذاتی کردار، خاندانی تعلقات، پیشہ ورانہ ذمہ داریوں اور معاشرتی معاملات میں رہنمائی فراہم کرتی ہے۔ انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ قرآنِ کریم کے پیغام کو سمجھنے کے ساتھ یہ جاننا بھی ضروری ہے کہ نبی کریم ﷺ نے اللہ تعالیٰ کی ہدایات کو اپنی زندگی میں کس طرح عملی صورت دی۔ انہوں نے شرکاء کو قرآن و سیرت سے اپنا تعلق مضبوط بنانے اور ان تعلیمات کو روزمرہ زندگی میں اپنانے کی تلقین کی۔امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ کا شکاگو میں قونصل خانہ پاکستان اور سبیل سینٹر کے اشتراک سے سیرتِ طیبہ ﷺ کانفرنس سے خطاب

روز قیامت کی سختی میں جب لوگ ہوش میں ہوتے ہوئے بھی مدہوش ہونگے لیکن وہ جنہوں نے اپنی زندگیوں میں اتباع رسالت ﷺ اختیار کیا اور خود کو اسوہ حسنہ میں ڈھال لیا ایسے لوگوں کو رحمت الٰہی گھیر لی گی اور ان کو اس دن کا بھاری خوف غمگین نہیں کرے گا۔صحابہ کرام ؓ نے اس دعوی محبت کو عملی طور پر ثابت کر کے دکھایا۔یہ زمین و آسماں گواہ ہیں کہ ظاہری اسباب نہ ہونے کے باوجود انہوں نے اللہ پر توکل کر کے وہ کام کر دکھایا جو ظاہراًنہ ہو سکتا تھا۔ امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ کا سانفرانسیسکو، اے ایم ایل مسجد میں جمعتہ المبارک کے موقع پر خطاب

جہلم:اِبنِ عباس اسلامک سینٹر جہلم کے زیرِ اہتمام فقید المثال تقریبِ حمد و نعت کا انعقاد ہواتقریب میں طلبائے مرکز کے مابین ہونے والے مقابلۂ حُسنِ تلاوت کے نتیجہ میں طلبہ کی حوصلہ افزائی کےلیے انعامات کی بارش کی گئی: طلبہ کو نقد انعامات اور اعزازی اسناد سے نوازا گیا

تازہ ترین خبریں

جہلم( ادریس چودھری) رسولِ اکرم ﷺ کی ذاتِ مبارکہ اور حیاتِ طیبہ ہر شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد کے لیے کامل نمونہ ہے۔ آپ ﷺ کی سیرت ذاتی کردار، خاندانی تعلقات، پیشہ ورانہ ذمہ داریوں اور معاشرتی معاملات میں رہنمائی فراہم کرتی ہے۔ انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ قرآنِ کریم کے پیغام کو سمجھنے کے ساتھ یہ جاننا بھی ضروری ہے کہ نبی کریم ﷺ نے اللہ تعالیٰ کی ہدایات کو اپنی زندگی میں کس طرح عملی صورت دی۔ انہوں نے شرکاء کو قرآن و سیرت سے اپنا تعلق مضبوط بنانے اور ان تعلیمات کو روزمرہ زندگی میں اپنانے کی تلقین کی۔امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ کا شکاگو میں قونصل خانہ پاکستان اور سبیل سینٹر کے اشتراک سے سیرتِ طیبہ ﷺ کانفرنس سے خطاب

روز قیامت کی سختی میں جب لوگ ہوش میں ہوتے ہوئے بھی مدہوش ہونگے لیکن وہ جنہوں نے اپنی زندگیوں میں اتباع رسالت ﷺ اختیار کیا اور خود کو اسوہ حسنہ میں ڈھال لیا ایسے لوگوں کو رحمت الٰہی گھیر لی گی اور ان کو اس دن کا بھاری خوف غمگین نہیں کرے گا۔صحابہ کرام ؓ نے اس دعوی محبت کو عملی طور پر ثابت کر کے دکھایا۔یہ زمین و آسماں گواہ ہیں کہ ظاہری اسباب نہ ہونے کے باوجود انہوں نے اللہ پر توکل کر کے وہ کام کر دکھایا جو ظاہراًنہ ہو سکتا تھا۔ امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ کا سانفرانسیسکو، اے ایم ایل مسجد میں جمعتہ المبارک کے موقع پر خطاب