
جہلم (نعیم احمد بھٹی) ضلع بھر میں کئی میڈیکل اسٹورز اے سی کے بغیر چلنے لگے ٹمپریچر۔ 41 سے 43 تک جبکہ ادویات پر لکھے ٹمپریچر کے برعکس اس شدید گرمی میں بھی میڈیکل اسٹور پر ادویات پڑی ہیں کون ان کو چیک کرے گا کون ان کے خلاف کاروائی کرے گا جب ڈرگ انسپکٹر سے پوچھیں تو وہ یہی کہتے نظر آتے ہیں کہ ایسی کوئی بات نہیں آخر کچھ تو گڑ بڑ ہے کہ یہ میڈیکل اسٹور مالکان دیدہ دلیری سے یہ کام کرتے نظر آتے ہیں ہم تو نشاندہی کرتے رہتے ہیں لیکن ان کے خلاف کاروائی تو پھر محکمہ صحت کا آفیسر ہی کرے گا شہریوں کا کہنا ہے کہ محکمہ صحت کے افسران ان کو چیک کریں تفصیلات کے مطابق ضلع بھر میں اس شدید گرمی کے موسم میں کئی میڈیکل اسٹورز اے سی نہیں چلا رہے ادویات پر ٹمپریچر 20 سے 25 سینٹی گریڈ تک لکھا ہوتا کچھ پر کم بھی لکھا ہوتا ہے لیکن اس کے باوجود ایسی ادویات۔ 41 سے 43 سینٹی گریڈ ٹمپریچر میں پڑی ہیں آخر ان کو کنٹرول کون کرے گا ان کے خلاف کون کاروائیاں کرے گا لیکن ستم ظریفی تو ایک یہ بھی ہے کہ جو ہمیں زمہ دار ذرائع سے معلوم ہوا کہ کچھ سیاسی شخصیات کے منشی ٹائپ کے لوگ ان کی سر پرستی کرتے ہیں اور کاروائیاں نہیں ہونے دیتے ذرائع یہ بھی بتاتے ہیں کہ یہ لوگ وہاں سے منتھلیاں بھی لیتے ہیں تو پھر یہاں ڈرگ انسپکٹر کیا کرے ؟ وہ تو مجبور ہوجاتا ہے کہ کہیں یہ سیاسی منشی ہمارا تبادلہ ہی نہ کرا دیں یا ہمارے خلاف کوئی کاروائی ہی نہ کروا دیں لیکن ڈیوٹی تو پھر ڈیوٹی ہے اگر اس کو نیک نیتی سے کیا جائے اس وقت کئی میڈیکل اسٹورز ایسے ہیں جو اے سی کے بغیر کام چلا رہے ہیں جبکہ یہ لوگ اپنے کاروبار بھی کسی دوسرے کے لائسنس پر کرتے نظر آتے ہیں ان کے اسٹورز میں فارما سسٹ بھی موجود نہیں میڈیکل اسٹورز کو چلانے کے لیے جو قواعدِ و ضوابط ہیں ان پر کچھ ہی ایسے اسٹورز ہوں گے جو ان پر پورا اترتے ہوں گے بقیہ تو بس اللہ تیری یاری کے ساتھ ہی چل رہے ہیں اس موقع پر شہریوں کا کہنا تھا کہ اس شدید گرمی میں ادویات کو اے سی چلائے بغیر رکھنا انسانی جان کے لیے بھی خطرہ پیدا ہوسکتا ہے محکمہ صحت ان میڈیکل اسٹورز کو چیک کریں اور جو قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی کر رہے ہیں ان کے خلاف قانونی کاروائی کریں



















