
*پنکھوں اور ٹوٹیوں کی چوری سے آگے بھی بہت کچھ ہے، اصل قومی نقصان پر توجہ دی جائے۔شبانہ رشید
*جہلم(ظہیر عبّاس)تفصیلات کے مطابق اساتذہ کو مبینہ طور پر چوری سے جوڑنے والے بیان پر سماجی حلقوں میں تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔مس شبانہ رشید نے وزیر تعلیم کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے طنزیہ انداز میں کہا ہے کہ "میں ایک استاد ہوں اور مجھے میرے وزیر تعلیم نے بتایا ہے کہ میں استاد ہونے کے ساتھ ساتھ چور بھی ہوں، جو زیادہ تر پنکھے اور ٹوٹیاں چوری کرتا ہے۔”انہوں نے کہا کہ تعلیمی اداروں میں چوری کے حوالے سے اگر بات کی جائے تو صرف پنکھے اور ٹوٹیاں ہی موضوع نہیں، بلکہ کئی دیگر مسائل بھی موجود ہیں جن پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ان کا کہنا تھا کہ شاید وزیر تعلیم کی نظر میں صرف یہی دو چیزیں آئی ہیں، جبکہ بڑے پیمانے پر قومی وسائل کے ضیاع اور نقصان کے معاملات بھی اہمیت رکھتے ہیں۔شبانہ رشید نے کہا کہ اساتذہ معاشرے کی تعمیر و ترقی میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں، اس لیے ان کے احترام اور وقار کو ملحوظ رکھنا ضروری ہے۔انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا کہ اگر کسی کو قومی وسائل کے نقصان سے سبق حاصل کرنا ہے تو اسے ان لوگوں کو دیکھنا چاہیے جو ملک کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچاتے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ وزیر تعلیم شاید اپنے محکمے سے وابستہ افراد کو یہ پیغام دینا چاہتے ہوں کہ وہ اپنی ذمہ داریوں میں مزید بہتری لائیں، تاہم اس مقصد کے لیے تمام اساتذہ کو ایک ہی نظر سے دیکھنا مناسب نہیں۔انہوں نے آخر میں شعر کے انداز میں کہا:”چیزیں اور بھی ہیں سکول میں چوری کرنے کے سوا،ڈکیتیاں اور بھی ہیں پنکھوں اور ٹوٹیوں کے سوا۔”


















