چیف ایڈیٹر:طارق محمود چودھری  ایڈیٹر: مظہر اقبال چودھری  مینیجنگ ایڈیٹر: ادریس چودھری

جون 28, 2026 10:12 شام

معصوم کلیوں کا خون، آخر کب تک؟۔۔۔۔۔ تحریر ۔ فیصل صدیق۔ پنڈوڑی دینہ

معصوم کلیوں کا خون، آخر کب تک؟آج جب بھی کسی معصوم بچی کے ساتھ جنسی زیادتی اور پھر اس کے بے رحمانہ قتل کی خبر سامنے آتی ہے تو دل خون کے آنسو روتا ہے۔ یہ صرف ایک خاندان کا غم نہیں بلکہ پوری انسانیت کے ضمیر پر ایک ایسا داغ ہے جو کبھی نہیں مٹ سکتا۔وہ بچیاں جن کے ہاتھوں میں کتابیں، کھلونے اور رنگ برنگے خواب ہونے چاہئیں، آج خوف کے سائے میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ آخر ہمارا معاشرہ کس طرف جا رہا ہے؟ آخر کب تک معصوم کلیاں درندوں کا شکار بنتی رہیں گی؟ یہ سوال ہر باشعور انسان کے دل میں اٹھ رہا ہے۔ایسے مجرم نہ صرف قانون بلکہ انسانیت کے بھی مجرم ہیں۔ ان کے لیے قانون کے مطابق فوری اور سخت سزا ناگزیر ہے تاکہ کسی اور گھر کا چراغ نہ بجھے۔ انصاف میں تاخیر بھی ظلم کو بڑھاوا دیتی ہے، اس لیے ضروری ہے کہ ایسے مقدمات کو ترجیحی بنیادوں پر نمٹایا جائے۔لیکن صرف سزا کافی نہیں۔ والدین، اساتذہ، میڈیا، مذہبی رہنما اور ریاست—سب کو اپنی اپنی ذمہ داری ادا کرنی ہوگی۔ بچوں کو حفاظت سے متعلق آگاہی دینا، ان کی بات سننا، اور مشکوک سرگرمیوں پر فوراً کارروائی کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ایک قوم کی پہچان اس بات سے ہوتی ہے کہ وہ اپنے کمزور افراد کی کتنی حفاظت کرتی ہے۔ اگر ہم اپنی بیٹیوں کو محفوظ نہیں بنا سکتے تو ترقی کے تمام دعوے بے معنی ہیں۔آئیے عہد کریں کہ ظلم کے خلاف خاموش نہیں رہیں گے، انصاف کا ساتھ دیں گے اور ایک ایسا معاشرہ بنانے کی کوشش کریں گے جہاں ہر بچی بے خوف ہو کر اپنے خواب پورے کر سکے۔ کیونکہ بیٹیاں محفوظ ہوں گی تو ہی ہمارا مستقبل محفوظ ہوگا۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Pinterest
Pocket
WhatsApp

متعلقہ خبریں

زندگی کا سفر موت کی طرف ہے۔ہم بحیثیت مجموعی تجاوز کرتے ہیں اللہ کریم غفورالرحیم ہیں اگر ایک دن میں 70 بار بھی شرمندگی سے ندامت سے معافی مانگی جائے تو اللہ کریم معاف فرما دیتے ہیں۔ہمیں ہر وقت اپنا تجزیہ کرتے رہنا چاہیے ہر بندے کو اپنا بخوبی پتہ ہوتا ہے کہ نہاں خانہ دل میں کیا ہے؟امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ عالیہ کا سالانہ اجتماع کے موقع پر صحبت شیخ میں خطاب۔

تازہ ترین خبریں