
معصوم کلیوں کا خون، آخر کب تک؟آج جب بھی کسی معصوم بچی کے ساتھ جنسی زیادتی اور پھر اس کے بے رحمانہ قتل کی خبر سامنے آتی ہے تو دل خون کے آنسو روتا ہے۔ یہ صرف ایک خاندان کا غم نہیں بلکہ پوری انسانیت کے ضمیر پر ایک ایسا داغ ہے جو کبھی نہیں مٹ سکتا۔وہ بچیاں جن کے ہاتھوں میں کتابیں، کھلونے اور رنگ برنگے خواب ہونے چاہئیں، آج خوف کے سائے میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ آخر ہمارا معاشرہ کس طرف جا رہا ہے؟ آخر کب تک معصوم کلیاں درندوں کا شکار بنتی رہیں گی؟ یہ سوال ہر باشعور انسان کے دل میں اٹھ رہا ہے۔ایسے مجرم نہ صرف قانون بلکہ انسانیت کے بھی مجرم ہیں۔ ان کے لیے قانون کے مطابق فوری اور سخت سزا ناگزیر ہے تاکہ کسی اور گھر کا چراغ نہ بجھے۔ انصاف میں تاخیر بھی ظلم کو بڑھاوا دیتی ہے، اس لیے ضروری ہے کہ ایسے مقدمات کو ترجیحی بنیادوں پر نمٹایا جائے۔لیکن صرف سزا کافی نہیں۔ والدین، اساتذہ، میڈیا، مذہبی رہنما اور ریاست—سب کو اپنی اپنی ذمہ داری ادا کرنی ہوگی۔ بچوں کو حفاظت سے متعلق آگاہی دینا، ان کی بات سننا، اور مشکوک سرگرمیوں پر فوراً کارروائی کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ایک قوم کی پہچان اس بات سے ہوتی ہے کہ وہ اپنے کمزور افراد کی کتنی حفاظت کرتی ہے۔ اگر ہم اپنی بیٹیوں کو محفوظ نہیں بنا سکتے تو ترقی کے تمام دعوے بے معنی ہیں۔آئیے عہد کریں کہ ظلم کے خلاف خاموش نہیں رہیں گے، انصاف کا ساتھ دیں گے اور ایک ایسا معاشرہ بنانے کی کوشش کریں گے جہاں ہر بچی بے خوف ہو کر اپنے خواب پورے کر سکے۔ کیونکہ بیٹیاں محفوظ ہوں گی تو ہی ہمارا مستقبل محفوظ ہوگا۔



















