
*ڈاکٹر فیض احمد بھٹی کے قلم سے "حمدِ باری تعالیٰ” ایک دل نشین پنجابی تخلیقی کلام پر خراجِ تحسین، تشریح، اور فکری و ادبی تاثرات* *تبصرہ نگار:* حافظ محمد ارشد حیات
حمد وہ مقدس صنفِ سُخن ہے، جس میں بندہ اپنے خالقِ حقیقی کی عظمت، کبریائی، بزرگی، ربوبیت، الوہیت، اور بے پایاں رحمتوں اور نعمتوں کا اعتراف کرتا ہے۔ حمد دراصل بندے اور رب کے درمیان محبت، عقیدت اور نیاز مندی کا وہ حسین اظہار ہے، جس میں زبان الفاظ ادا کرتی ہے؛ مگر حقیقت میں دل اپنے رب کے سامنے جھک جاتا ہے۔زیرِ نظر پنجابی حمدیہ کلام *”رب وَلے آ کے تاں ویکھ”* محترم ڈاکٹر فیض احمد بھٹی کی ایک خوبصورت اور ایمان افروز کاوش ہے۔ موصوف نے پنجابی زبان کے نہایت سادہ، رواں، عام فہم اور دل نشین الفاظ میں اللہ تعالیٰ کی عظمت، رحمت، قدرت، ربوبیت اور وحدانیت کا پیغام عام کرنے کی کوشش کی ہے۔ اس کلام کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ اس میں مشکل عقائد کو فلسفیانہ اصطلاحات کے بجائے عوامی زبان میں پیش کیا گیا ہے۔یہ کلام پڑھتے ہوئے محسوس ہوتا ہے کہ شاعر سامع کو محض اشعار نہیں سنا رہا؛ بلکہ اسے بڑی محبت سے اللہ کے دروازے تک لے جا رہا ہے، اس کے ہاتھ میں امید کی جھولی دے رہا ہے اور کہہ رہا ہے کہ دنیا کے سب سہارے عارضی ہیں، اصل سہارا وہی ہے جو کبھی کمزور نہیں ہوتا۔اس کلام میں امید، دعا، توکل، شکر، عاجزی، ربوبیت اور توحید ایک خوبصورت روحانی وحدت کی صورت اختیار کر گئے ہیں۔کلام کا مطلع:*رب وَلے آ کے تاں ویکھ، دُکھڑے سُنا کے تاں ویکھ**جی میرا بندہ آکھے شہنشاہ، تُوں اِک واری بُلا کے تاں ویکھ* تشریح:یہ مطلع پورے کلام کا مرکزی پیغام اپنے اندر سموئے ہوئے ہے۔ شاعر بندے کو دنیا کے دروازوں سے ہٹا کر رب العالمین کے در پر لے آتا ہے۔ انسان جب مشکلات میں گھِر جاتا ہے تو کبھی انسانوں سے امید لگاتا ہے، کبھی ظاہری وسائل کو آخری سہارا سمجھتا ہے، لیکن قرآن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ حقیقی مددگار اللہ تعالیٰ ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿وَقَالَ رَبُّكُمُ ادْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ﴾”تمہارا رب فرماتا ہے: مجھے پکارو، میں تمہاری دعا قبول کروں گا۔” (سورۃ غافر: 60)مطلع کی *ردیف "آ کے تاں ویکھ”* محض شعری تکیہ نہیں؛ بلکہ ایک پُرتاثیر دعوت ہے، رب کے در پر آنے کی دعوت، اپنے دکھ اس کے سامنے رکھنے کی دعوت ہے، اور اس یقین کی دعوت کہ اللہ اپنے بندے کو سنتا، دیکھتا اور اس کے حالات سے باخبر ہے۔*بند نمبر1*اوندا گھر لاجواب اے، اوندا در لاجواب اےاوندیاں عطاواں دا ثمر لاجواب اےتُوں در اُتّے آ کے تاں ویکھ، جھولی پھیلا کے تاں ویکھتشریح:یہ بند اللہ تعالیٰ کی رحمت اور سخاوت کو نہایت خوبصورت انداز میں بیان کرتا ہے۔ دنیا کے دروازے محدود ہیں، دنیا کے خزانے محدود ہیں، انسان کی طاقت محدود ہے، مگر اللہ تعالیٰ کی رحمت اور عطا کی کوئی حد نہیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿وَرَحْمَتِي وَسِعَتْ كُلَّ شَيْءٍ﴾”اور میری رحمت ہر چیز کو گھیرے ہوئے ہے۔” (سورۃ الاعراف: 156)شاعر کہتا ہے کہ ایک مرتبہ اس در پر آکر دیکھ، اپنی جھولی پھیلا کر دیکھ۔ اس میں ایک گہرا روحانی پیغام پوشیدہ ہے کہ بندہ اللہ کے سامنے سوال کرنے میں شرم محسوس نہ کرے، کیونکہ وہ کریم، رحیم اور وہاب ہے۔رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "اللہ کا ہاتھ بھرا ہوا ہے، دن رات خرچ کرنے سے بھی اس میں کوئی کمی نہیں آتی۔” (صحیح البخاری، صحیح مسلم)یعنی اللہ کی عطا انسانی پیمانوں کی پابند نہیں۔ بندے کی ضرورت محدود ہوسکتی ہے، مگر رب کی رحمت لامحدود ہے۔*بند نمبر2*ساری خدائی دا بادشاہ او اکیلاحاجت روا تے مشکل کُشا او اکیلاتُوں کالاں ملا کے تاں ویکھ، آنسو بہا کے تاں ویکھتشریح:یہ بند توحیدِ الوہیت کی خوبصورت ترجمانی کرتا ہے۔ شاعر یہاں واضح کر رہا ہے کہ حقیقی اقتدار صرف اللہ تعالیٰ کا ہے۔ پوری کائنات اس کی مخلوق ہے اور وہ کسی کا محتاج نہیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿أَمَّنْ يُجِيبُ الْمُضْطَرَّ إِذَا دَعَاهُ وَيَكْشِفُ السُّوءَ﴾”بھلا کون ہے جو بے قرار کی دعا قبول کرتا ہے جب وہ اسے پکارتا ہے اور تکلیف دور کرتا ہے؟” (سورۃ النمل: 62)یہاں شاعر کی دعوت انتہائی اثر انگیز ہے: "کالاں ملا کے تاں ویکھ” یعنی اللہ کو پکار کر دیکھ۔ یہ پکار صرف زبان کی آواز نہیں؛ بلکہ دل کا یقین بھی ہے۔دعا دراصل بندے کی عاجزی اور اللہ کی قدرت کا اعتراف ہے۔ جب انسان آنسوؤں کے ساتھ اپنے رب کو پکارتا ہے تو وہ اپنی کمزوری اور اللہ کی بے پایاں طاقت و قدرت کا اقرار کرتا ہے۔*بند نمبر3*مخلوق ساری دا خالق تے مالکداتا و دستگیر سب دا ہے رازقنظراں دوڑا کے تاں ویکھ، جبیں نُوں جُھکا کے تاں ویکھتشریح:یہ بند اللہ تعالیٰ کی ربوبیت کا جامع بیان ہے۔ وہی خالق ہے، وہی مالک ہے، وہی رازق و داتا اور دستگیر ہے۔ تمام مخلوقات اسی کی محتاج ہے۔قرآن کریم میں ارشاد ہے: ﴿اللَّهُ خَالِقُ كُلِّ شَيْءٍ﴾”اللہ ہر چیز کا پیدا کرنے والا ہے۔” (سورۃ الزمر: 62)مزید فرمایا: ﴿وَمَا مِنْ دَابَّةٍ فِي الْأَرْضِ إِلَّا عَلَى اللَّهِ رِزْقُهَا﴾”زمین پر چلنے والا کوئی جاندار ایسا نہیں جس کا رزق اللہ کے ذمہ نہ ہو۔” (سورۃ ہود: 6)شاعر پہلے بندے کو کائنات میں اللہ کی قدرت دیکھنے کی دعوت دیتا ہے، پھر کہتا ہے: "جبیں نوں جھکا کے تاں ویکھ”۔یہاں فکر سے ذکر اور مشاہدے سے سجدے تک کا سفر مکمل ہوجاتا ہے۔ آنکھ اللہ کی قدرت دیکھے، دل اس کی عظمت محسوس کرے اور پیشانی اس کے سامنے جھک جائے، یہی حقیقی بندگی ہے۔*بند نمبر4*اوندی خلقت دا کوئی شمار نہیںنِعمتاں دا وِی کوئی حِصار نہیںگُوگل چلا کے تاں ویکھ، سَرچاں لگا کے تاں ویکھتشریح:یہ بند کلام کے جدید اور منفرد پہلوؤں میں سے ایک ہے۔ شاعر نے "گوگل” اور "سرچ” جیسے جدید الفاظ استعمال کرکے نئی نسل کے ذہن اور زبان سے براہِ راست گفتگو کی ہے۔کیونکہ آج انسان دنیا کے تقریباً ہر موضوع کی معلومات چند لمحوں میں تلاش کرسکتا ہے۔ وہ کائنات، ستاروں، سیاروں، سمندروں، پہاڑوں، جانداروں اور انسانی جسم کے عجائبات پر تحقیق کرسکتا ہے، مگر جتنا علم بڑھتا جاتا ہے اتنا ہی یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ اللہ کی تخلیق کا احاطہ انسان کےلیے ممکن نہیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿وَإِن تَعُدُّوا نِعْمَةَ اللَّهِ لَا تُحْصُوهَا﴾”اگر تم اللہ کی نعمتیں گننا چاہو تو انہیں شمار نہیں کرسکتے۔” (سورۃ النحل: 18)یہاں شاعر نے جدید ٹیکنالوجی کو اللہ تعالیٰ کی معرفت کا بہت بڑا ذریعہ قرار دیا ہے۔ گویا جتنا زیادہ تلاش کرو گے، اتنے ہی رب کی قدرت کے زیادہ آثار سامنے آتے جائیں گے۔ مطلب گوگل پہ سرچ لگاؤ اور خدائی عجائبات و تخلیقات تک رسائی حاصل کرتے جاؤ۔*بند نمبر5*لا إلہ دی یاری سب نالوں اعلیٰمُوحّد دا رُتبہ ہے جنتاں چ بالادِل چ وسا کے تاں ویکھ، فیض آزما کے تاں ویکھتشریح:یہ پورے کلام کے روحانی اور فکری نقطے کا عروج ہے۔شاعر نے اس آخری بند میں انسان کو "لا إلہ إلا اللہ” کی طرف شدید رغبت دلائی ہے۔ کیونکہ یہی تمام انبیائے کرام علیہم السلام کی بنیادی دعوت تھی: ﴿وَمَا أَرْسَلْنَا مِن قَبْلِكَ مِن رَّسُولٍ إِلَّا نُوحِي إِلَيْهِ أَنَّهُ لَا إِلَٰهَ إِلَّا أَنَا فَاعْبُدُونِ﴾”اور ہم نے آپ سے پہلے جو رسول بھی بھیجا اس کی طرف یہی وحی کی کہ میرے سوا کوئی معبود نہیں، پس میری ہی عبادت کرو۔” (سورۃ الأنبیاء: 25)مطلب: "لا إله إلا الله” محض زبان سے ادا کیے جانے والے الفاظ نہیں؛ بلکہ زندگی کا مکمل نظریہ ہے۔ اس کا تقاضا ہے کہ عبادت اللہ کی ہو، دعا اللہ سے ہو، حقیقی بھروسا اللہ پر ہو اور دل کا سب سے بڑا تعلق اللہ تعالیٰ کے ساتھ ہو۔رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "جس کو آخری وقت (لا إله إلا الله) پڑھنا نصیب ہو گیا، وہ جنت میں داخل ہوگا۔” (سنن ابی داود: 3116)کلام کا مقطع:*”دل چ وسا کے تاں ویکھ”* انتہائی معنی خیز ہے۔ یعنی توحید صرف زبان پر نہ ہو؛ بلکہ دل میں اترے، کردار میں ظاہر ہو اور زندگی کے ہر شعبے کو متاثر کرے۔*پورے کلام کا مجموعی فکری حسن:*اس حمد کا مطالعہ کیا جائے تو محسوس ہوتا ہے کہ شاعر نے ایک خاص ترتیب کے ساتھ بندے کو روحانی سفر کرایا ہے: دکھ، دعا، اللہ کا در، رحمت، قدرت، ربوبیت، الوہیت، نعمت، شکر، یعنی ابتدا انسان کی دکھی حالت اور خدا کی مہربانی سے ہوتی ہے اور اختتام "لا الہ إلا اللہ” کی اہمیت و افادیت اور عظمت پر ہوتا ہے۔ یہی اس کلام کی سب سے بڑی فکری خوبی ہے۔در اصل شاعر انسان کو یہ سمجھا رہا ہے کہ پریشانی انسان کو توڑنے کےلیے نہیں؛ بلکہ اسے اپنے رب کے قریب کرنے کا ذریعہ بھی بن سکتی ہے۔ کیونکہ جب بندہ اپنے خالقِ حقیقی کو پہچان لیتا ہے تو آزمائش کے اندر بھی امیدیں پیدا ہوجاتی ہیں، تنہائی میں بھی سہارے محسوس ہوتے ہیں اور مشکلات کے درمیان بھی دل مطمئن رہتا ہے۔*کلام میں ادبی و فنی خصوصیات:*اس کلام میں پنجابی زبان کی شیرینی، عوامی محاورے کی سادگی اور عقیدۂ توحید کی پختگی باہم یکجا ہوگئی ہے۔ شاعر نے مشکل اور فلسفیانہ انداز سے گریز کرتے ہوئے ایسے الفاظ استعمال کیے ہیں جو عام آدمی بھی سمجھ سکتا ہے اور ایک عالم بھی ان میں موجود فکری پیغام کو واضح محسوس کرسکتا ہے۔*خصوصاً:* "دُکھڑے سُنا کے””جھولی پھیلا کے””آنسو بہا کے””جبیں نوں جھکا کے””گوگل چلا کے””سَرچاں لگا کے””دل چ وسا کے”یہ ردیفی تراکیب کلام کو محض پڑھنے کی چیز نہیں رہنے دیتیں؛ بلکہ اسے ایک جیتی جاگتی دعوت کا مؤثر ترین مظہر بنا دیتی ہیں۔اس "حمد” میں سب سے منفرد بات یہ ہے کہ شاعر نے قدیم روحانی مفہوم کو جدید عہد کے الفاظ کے ساتھ جوڑ دیا ہے۔ "گوگل” اور "سرچ” کا استعمال اسی جدید شعری حسن کا مظہر ہے۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ دینی پیغام کو عصرِ حاضر کے مزاج اور زبان سے ہم آہنگ کر کے نئی نسل تک پہنچایا جاسکتا ہے۔*ڈاکٹر فیض احمد بھٹی کےلیے خراجِ تحسین:*ڈاکٹر فیض احمد بھٹی یقیناً مبارک باد اور خراجِ تحسین کے مستحق ہیں کہ انہوں نے پنجابی زبان کو صرف تفریح اور جذباتی اظہار کا وسیلہ نہیں بنایا؛ بلکہ اسے توحید، دعا، توکل، شکر اور معرفتِ الٰہی کے پیغام کا ذریعہ بنایا۔ایک شاعر کےلیے اس سے بڑی سعادت کیا ہوسکتی ہے کہ اس کے الفاظ کسی دل کو اپنے رب کی طرف متوجہ کر دیں، کسی پریشان انسان کو دعا کی طرف لے آئیں، کسی مایوس شخص کے اندر امید پیدا کر دیں اور کسی غافل دل میں "لا إله إلا الله” کی حقیقت تازہ کردیں۔یہی وجہ ہے کہ ڈاکٹر فیض احمد بھٹی کا یہ کلام محض ایک ادبی تخلیق نہیں بلکہ ایک دعوتی، اصلاحی اور روحانی پیغام بھی ہے۔ان کے کلام میں پنجابی تہذیب کی مٹھاس بھی ہے، دینی فکر کی پختگی بھی، توحید کی حرارت بھی اور عوامی زبان کی تاثیر بھی۔ یہ عناصر کسی بھی دینی شاعری کو الفاظ سے اٹھا کر دلوں کی آواز بنا دیتے ہیں۔*اختتامی کلمات:*آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ اس حمد کی استھائی *”رب وَلے آ کے تاں ویکھ”* صرف شعر نہیں، بلکہ ایک دلربا صدا، پرتاثیر دعوت اور سچی پکار ہے۔اس شخص کےلیے جو پریشان ہے، یہ دعا کی دعوت ہے۔ اس شخص کےلیے جو مایوس ہے، یہ امید کی دعوت ہے۔ اس شخص کےلیے جو بھٹک گیا ہے، یہ رب کی طرف واپسی کی دعوت ہے۔ اور اس شخص کےلیے جو شرک و باطل کے سہاروں میں الجھ گیا ہے، یہ خالص توحید کی دعوت ہے۔یاد رکھیں! دنیا کی چمک دمک انسان کو بہت سے دروازوں تک لے جاسکتی ہے، مگر دل کا حقیقی سکون صرف اس در پر ملتا ہے، جہاں بندہ اپنے رب کے سامنے جھک جاتا ہے۔آئیے! اپنے دکھ اسی کے سامنے رکھیں، اپنی امیدیں اسی سے وابستہ کریں، اپنی پیشانی اسی کے سامنے جھکائیں، نعمتوں پر اسی کا شکر ادا کریں اور اپنے دل میں "لا إله إلا الله” کا ورد زندہ کریں۔اللہ تعالیٰ شاعرِ اسلام، خطیبِ ملت، ادیبِ صحافت ڈاکٹر فیض احمد بھٹی کے قلم میں مزید اخلاص، برکت، تاثیر اور قبولیت عطا فرمائے، ان کے اس "حمدیہ کلام” کو لوگوں کے دلوں میں توحیدِ الہی اور محبتِ رسول پیدا کرنے کا ذریعہ بنائے، اور ہمیں اپنی حقیقی معرفت، خالص بندگی، سچی دعا اور کامل توکل کی دولت نصیب فرمائے آمین یا رب العالمین۔*حافظ ارشد محمود حیات**جامعہ اسلامیہ اہل حدیث پنڈی گھیب*



















