
معاشرے میں حق کی تشکیل بندہ مومن کی ذمہ داری ہے۔مسلمان نے ظلم کو روکا لیکن یہ غلط فہمی ہے کہ مسلمانوں نے تلوار سے اسلام کو پھیلایا بلکہ دین اسلام نے جہاں بھی جس خطے کو بھی فتح کیا وہاں ایسی معاشرتی مساوات قائم کی کہ وہاں کے لوگوں نے ناصرف خود اسلام قبول کیا بلکہ اور لوگوں تک بھی پہنچایا۔نبی کریم ﷺ سے اہل مکہ نے کہا کہ آپ جو بھی دین اپنانا چاہیں اسے اختیار کریں اس پر عمل کریں لیکن ہمارے مذاہب کے بارے میں بات مت کریں۔عبادات اپنی مرضی سے کریں لیکن معاشرتی زندگی پر بات نہ کریں جیسے ہمارا معاشرہ چل رہا ہے اسے ایسے ہی چلنے دیں۔معاشرہ اگر دینی اصولوں پر کاربند ہو اس کا کہنا اور سننا قرآن وسنت کے مطابق ہوتا ہے۔اور اگر معاشرے کو مخلوق اپنے مزاج کے مطابق ڈھال لے پھر خواہشات نفس کا اظہار ہوتا ہے۔ امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان کا جمعتہ المبارک کے روز خطاب۔ انہوں نے کہا کہ باعمل مسلمان کے سامنے کوئی کھڑا نہیں ہو سکتا۔یہ مسلمانوں کے خلاف سازشیں ہو رہی ہیں کہ انہیں دین سے دور رکھا جائے ان کے درمیان فحاشی کو عام کیا جا رہا ہے۔اس سارے کا مقصد یہ ہے کہ یہ باعمل نہ ہوں۔اپنے وطن عزیز کو دیکھیں کہ اسے آزاد ہوئے دہائیاں ہو گئی ہیں۔اسلام کے نام پر وجود میں آیا لیکن اپنا قانون دیکھ لیں اپنے معاشرے کے رواجات دیکھ لیں،اپنے آج کے حالات دیکھ لیں آئے روز جو واقعات پیش آتے ہیں انہیں دیکھیں اور جائزہ لیں کہ ہم کتنے قرآن وسنت سے مطابقت رکھتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ دنیا کی زندگی کا انحصارکچھ دینے میں ہے۔ایک بیج کو زمین نے اگنے کے لیے جگہ دی تو وہ ایک درخت یا پودہ بنا ایسے ہی آپ کسی چیز کو بھی دیکھ لیں زندگی آگے چلتی تب ہے جب آپ کچھ دیں گے۔سورج اگر اپنی توانائیاں روک لے تو زندگی آگے نہیں چل سکتی وہ بھی دے رہا ہے۔ حق کو جانتے ہوئے حق مخلوق تک نہ پہنچایا جائے یہ بھی بخل ہے۔اگر کوئی عالم ہے اور وہ حق کی بات کو روک لیتا ہے لوگوں تک نہیں پہنچاتا تو اسے ہی بخیل کہتے ہیں۔ماہ مبارک ربیع الاول وہ تجدید عہد ہے جہاں امتی کو آپ ﷺ کی ولادت باسعادت پر تقویت نصیب ہوئی اللہ کی رحمت نصیب ہوئی۔امتی کا جو خصوصی رشتہ ہے وہ ہمیں بعثت کے موقع پر نصیب ہوتا ہے۔کیا امتی کا رشتہ ان 12 دنوں کے ساتھ مخصوص رہتا ہے۔امتی کے لیے تو تاحیات حکم ہے کہ ساری زندگی نبی کریم ﷺ سے محبت اور اتباع میں گزر جائے۔اللہ کریم ہمیں صحیح شعور عطا فرمائیں۔آخر میں انہوں نے ملکی سلامتی اور بقا کی اجتماعی دعا بھی فرمائی۔



















