
جہلم ( پروفیسر خورشید علی ڈار) زمینی حقائق کے مطابق کوئی ایسا دن نہیں جب اعلیٰ آفیسران ڈسٹرکٹ ہیڈ کواٹر ہسپتال جہلم کی سرپرائز وزٹ نا کریں ان میں ڈی سی جہلم ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جہلم بعض اوقات مشیر صحت پنجاب بلکہ چیف منسٹر پنجاب کی سرپرائز وزٹ کرنے والی ٹیم میں وہ بھی سول ہسپتال کا دورہ کرتی رہتی ہیں اور متعلقہ انتظامیہ کی رہنمائی بھی کرتی ہیں لیکن جو ڈسٹرکٹ ہیڈ کواٹر ہسپتال کا برننگ ایشو ہے اس کو تا حال حل نہیں کیا گیا یا یہ کہہ لیں کہ اس کو نظر انداز کیا جاتا ہے سمجھ اسے بالاتر ہے اس وقت ڈسٹرکٹ ہیڈ کواٹر جہلم میں کم و بیش چھ سے سات کنسلٹنٹس موجود نہیں ہیں مثلا چند ماہ سے ای این ٹی سپیشلسٹ یہاں سے فارغ ہوئی ہے متبادل انتظام نہیں کیا گیا اگر کوئی گائنی کالوجسٹ یا لیڈی ڈاکٹر یہاں سے فارغ ہوئی ہے اس کا بھی انتظام نہیں کیا گیا ۔اگر کوئی چیسٹ سپیشلسٹ یہاں سے ریٹائرمنٹ کے بعد فارغ ہوا ہے تو اس کی جگہ تعیناتی نہیں ہوئی اس سے دیگر شعبوں پر بھی اثرات مرتب ہو رہے ہیں ۔اور مذکورہ بالا جو کنسلٹنٹس ہیں اس حوالے سے جب کوئی مریض ہسپتال میں اتا ہے اور اس کو یہ کہا جاتا ہے کہ وہ موجود نہیں یا سیٹ خالی ہے تو جو مریض پر گزرتی ہے وہ مریض ہی جانتا ہے عام آدمی کے بس کا روگ نہیں کہ وہ اس کا ادراک کر سکے لہذا حکومت پنجاب کو سیکرٹری ہیلتھ پنجاب کو شہریان دینہ نے اپیل کی ہے کہ عوام کے مفاد ڈسٹرکٹ ہیڈ کواٹر کی ضرورت کو اولین ترین فرصت میں پورا کیا جائے ضلع جہلم کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ یہاں کے ہی ایک نامور شخصیت ریٹائرڈ جنرل اظہر کیانی جو اس وقت مشیر صحت ہیں ان کا بھی تعلق ضلع جہلم سے ہے ان سے بھی توقع کی جاتی ہے کہ وہ اپنی قائدانہ صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے ڈسٹرکٹ ہیڈ کواٹر ہسپتال کی موجودہ صورتحال کو بہتر سے بہتر بنانے کی عملی کوشش کریں



















