چیف ایڈیٹر:طارق محمود چودھری  ایڈیٹر: مظہر اقبال چودھری  مینیجنگ ایڈیٹر: ادریس چودھری

ستمبر 11, 2026 6:57 شام
تازہ ترین خبریں

کرسمس ڈے منانے یا اس میں جانے کے حوالے سے ایک سوال کا جائزہ*تحریر*ڈاکٹر فیض احمد بھٹی

*کرسمس ڈے منانے یا اس میں جانے کے حوالے سے ایک سوال کا جائزہ*تحریر*ڈاکٹر فیض احمد بھٹی*

قارئین! ایک سینئر کالم نویس صاحب کی طرف سے مجھے درج ذیل سطور بھیج کر: ((کہ ایک ڈاکٹر۔۔۔ صاحب کہتے ہیں: ہم مسلمانوں کےلیے بھی کرسمس منانا جائز ہے۔ کیونکہ تمام فقہاء کے ہاں یہ امر مسلمہ ہے کہ مسلمان ہونے کےلیے آنحضرت ﷺ کے علاوہ تمام پیغمبروں پر ایمان لانا بھی ضروری ہے۔ نیز ان پیغمبروں میں فرق نہ کرنے کا بھی حکم ہے۔ لہذا ہمارے لیے یہ کرسمس کا دن حضرت مسیح علیہ السلام کی پیدائش کا ایک نہایت مسرت دن ہے۔ اس مبارک دن میں خوشی کے اظہار کے طور پر ہم مسلمان کرسمس بھی منا سکتے ہیں۔ اس سے ایک طرف خود ہمارے اپنے ایمان میں تازگی آئے گی تو دوسری طرف اہل کتاب کےلیے محبت اور احترام کا پیغام ہوگا۔ اور آنحضرت ﷺ سے غیر مسلموں کی عالمی دوری اور اسلاموفوبیا میں بھی کمی آئے گی۔ مگر اس دن کو اپنے اسلامی طریقے پر منائیں۔ اس سے حضرت مسیح علیہ السلام کے خدا کا بیٹا ہونا ہرگز تسلیم نہیں ہو گا بلکہ اتحاد بین المذاہب اور امن کا پرچار ہوگا))*پوچھا گیا کہ آپ اس کے متعلق کیا فرماتے ہیں؟* تو جواباَ جو عرض کیا گیا، وہ افادہ عام کےلیے پیشِ خدمت ہے۔*مکرمی ڈار صاحب اللہ کریم آپ کو خوش باش رکھے!* سب سے پہلے یہ بات ذہن نشیں رہے کہ عیسائی برادری کا اپنے عقیدے کے مطابق حضرت عیسی علیہ السلام کی ولادت کے دن کا نام "کرسمس ڈے” رکھنا اور اس ایونٹ کو اپنے طور طریقے پر سیلیبریٹ کرنا، ہمارے پیارے نبی حضرت محمد ﷺ کی ولادت با سعادت کے ساتھ قطعاَ کوئی مماثلت نہیں رکھتا۔ کیونکہ مسیح برادری کا یہ بنیادی عقیدہ ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام 25دسمبر کو اللہ کی (نعوذ باللہ نقلِ کفر، کفر نہ باشد) بیوی سیدہ مریم علیہا السلام جنہیں وہ "میری” کہتے ہیں، کے ہاں پیدا ہوئے جو اللہ کے حقیقی بیٹے ہیں۔ لہذا وہ حضرت عیسی کا یومِ میلاد اللہ کے بیٹے کی پیدائش ہونے کے اعتبار سے سے مناتے ہیں، نہ کہ رسول خدا کی پیدائش کے طور پر۔ بلکہ وہ اپنے لیے یہ بہت بڑا اعزاز اور فخر سمجھتے ہیں کہ ان کا پیشوا حضرت عیسی اللہ کا بیٹا ہے۔الغرض ان کے تثلیثی عقیدے "یسو اللہ (خاوند)، مسیح عیسی (بیٹا)، اور مقدس مریم (بیوی)” کے لحاظ سے اگر دیکھا جائے تو آنجناب ﷺ کی ولادت با سعادت اور 25دسمبر والے اس ایونٹ میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ ویسے بھی "کرسمس” کا لفظ اپنے اندر سموئی ہوئی تفصیل سے واضح کرتا ہے کہ یہ دن اللہ تعالی کے بیٹے حضرت عیسی علیہ السلام کی ولادت کے بہت بڑے اجتماع کا دن ہے۔ عیسائی فرقے کیتھولک کے مطابق در اصل "کرسمس ڈے” کا مفہوم ہی یہی ہے۔ جبکہ قرآن و حدیث نے عیسائیوں کے اس تثلیثی عقیدے (جس کی بنیاد پر یہ کرسمس ڈے منایا جاتا ہے) کو بڑی وضاحت کے ساتھ متعدد مقامات پر کفریہ عقیدہ قرار دیا ہے۔لہذا مسلمان کےلیے قطعی طور پر اس عقیدے کو اپنانا جائز نہیں۔ اور نہ ہی ان کی دلجوئی کےلیے کرسمس ڈے وغیرہ کو منانا، یا ان میں شامل ہونا جائز ہے۔ بلکہ اس عقیدے کے حاملین یعنی عیسائیوں کی ان کے عقائد کے لحاظ سے سپورٹ اور حوصلہ افزائی کرنا بھی جائز نہیں۔ کیونکہ کرسمس کی یہ سیلیبریشن کفرِ صریح پر مبنی اور اللہ کی غضبناکی کا سبب ہے۔ آپ خود سوچیے! کہ جو لوگ اللہ کے دشمنوں کی خوشنودی حاصل کرنے کے چکروں میں ایسی تقریبات کو منا کر کہ جن سے اللہ ناراض و غضبناک ہو،،، بھلا وہ کیسے مقبولیت حاصل کر پائیں گے، یا کیسے محبت بڑھا پائیں گے، ہر گز ایسا ممکن نہیں!اور دوسری یہ بات کہ "جی ہمارے نبی ﷺ کی ولادت اور حضرت عیسی کی ولادت کے حوالے سے خوشیاں ملتی جلتی ہیں، یا حضرت عیسی پر ایمان لانے کا حکم دیا گیا ہے،،،،؛ اس لیے ان کی کرسمس منانا اور اس میں جانا جائز ہے”۔ تو ان کی یہ بات حقائق کے بالکل برعکس ہے۔ جس کا شریعت اسلامیہ میں کوئی ثبوت نہیں۔ بلکہ آئمہ خمسہ (امام ابو حنیفہ، امام احمد بن حنبل، امام مالک، امام شافعی، امام جعفر صادق) میں سے کسی بھی امام سے اس کی تائید نہیں ملتی۔ کیونکہ پورا قرآن مجید عقیدہ تثلیث اور اس جیسے دیگر عقائدِ نصاری کی سختی کے ساتھ نفی اور تردید کرتا ہے۔ علاوہ ازیں ہمارے ذہن میں یہ بات بھی ہونی چاہیے کہ رسول کریم ﷺ نے کفار کے "شعائر” (یعنی جو ان کے مذہبی لحاظ سے بنیادی عقائد و تہوار ہیں) کے ساتھ کسی طرح کی بھی مشابہت اختیار کرنے کو حرام قرار دیا ہے۔ جیسا کہ عیسائیوں کا کرسمس منانا، ان کی تثلیثی نشانی ٹی لٹکانا یا ان کے مذہبی تہواروں میں اظہار عقیدت کےلیے شمولیت کرنا۔رہی بات حضرت عیسی پر ایمان کی، تو اس کی سب سے بڑی دلیل یہ ہے کہ اسلام کے مطابق اس بندے کا ایمان ہی مکمل نہیں، جو حضرت عیسی علیہ السلام کے نبی و رسول ہونے پر کامل یقین نہ رکھے۔ لیکن یہاں یاد رہے کہ یہ ایمان انہیں اللہ کی طرف سے رسول و نبی بنا کر بھیجے جانے پر ہے، اور یہ بھی ایمان کہ وہ باپ کے بغیر پیدا ہوئے، اور وہ سولی نہیں چڑھے بلکہ زندہ آسمان پر اٹھائے گئے ہیں، اور ان کی ماں مریم دنیا کی پاکیزہ ترین عورت تھیں، ان کو یہ بیٹا اللہ نے معجزے کے ذریعے عطا فرمایا تھا۔ مذکورہ باتوں پر تو ہمارا مکمل اور مضبوط ترین ایمان ہے۔ بلکہ ہمارے نزدیک وہ نہ صرف نبی و رسول ہیں بلکہ عالی عزم و عالی منصب پیغمبروں میں سے ایک ہیں۔ مگر ہمارے اس ایمان و محبت کو 25دسمبر کی کرسمس اور اس کی سیلیبریشن کے ساتھ خلط ملط کرنا اور اس سے کرسمس منانے یا اس میں شمولیت کا جواز نکالنا،،، یہ قرآن مجید اور فرمان رسول ﷺ کی نصوصِ صریحہ کے خلاف اور ان کی قبیح توجیہات کے مترادف ہے۔ کرسمس میں بطور عبادت اس بات کا بھی برملا اقرار و اظہار کیا جاتا ہے کہ یسو جی (حضرت عیسی) ہمارے گناہوں کے کفارے میں سولی چڑھ کر ہمیں بخشوا گئے ہیں۔ یہ عقیدہ بھی سراسر خلاف شرع ہے۔*یہاں ایک بات کی وضاحت بھی ضروری ہے کہ* اگر کوئی حکومتی نمائندہ مثلاَ وزیر، ڈی سی، اے سی وغیرہ جو ان اقلیتوں کی بھی دیکھ بھال کے ذمے دار ہیں یا سیکورٹی افسران جو ڈیوٹی پر مامور ہیں، تو وہ اس موقع پر ان کے ساتھ حسبِ ضرورت و تقاضہ تعاون کر سکتے ہیں، ان کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کر سکتے ہیں۔ وہ بھی صرف اس لیے کہ یہ اس ملک کے باشندے ہیں اور سلطنت کے ساتھ ان کے معاہدہ جات طے شدہ ہیں، جن کی حکومت پابند ہے۔ لہذا پاکستانی شہری ہونے کے ناطے ان کو سہولیات دینا، ان کی ضرورتوں کا خیال رکھنا، ان کی مذہبی تقریبات کے حوالے سے انہیں سیکیورٹی مہیا کرنا یا ان کو مقررہ کوٹے کے مطابق مالی تعاون فراہم کرنا جائز ہے۔ اس میں کوئی قباحت نہیں۔لیکن ان کے مذہبی شعائر و تقریبات میں اگر کوئی نمائندہ اپنی انتظامی ذمے داری کی بجائے عقیدت سمجھ کر، یا مذہبی ہمدردی کے طور پہ شریک ہوتا ہے، یا ان کو مبارک بادیں پیش کرتا پھرے، تو وہ بھی ان کے عقائد میں برابر کا شریک گردانا جائے گا۔ مطلب ان کے مذہبی شعائر میں وہ بطور ایڈمنسٹریٹر انکے ساتھ کوآپریٹ کرے گا نہ کہ بطور مذہبی عقیدت و محبت کے۔ والسلام

Facebook
Twitter
LinkedIn
Pinterest
Pocket
WhatsApp

متعلقہ خبریں

بہترین تبلیغ یہ ہے کہ ہم خود عملی طور پر اپنا وہ کردار اختیار کریں جس کا دوسرے کو بتا رہے ہیں کیونکہ اگرہم ممبر پر بیٹھ کر بیان کریں اور اپنا عمل اس سے مختلف ہو تو پھر اس تبلیغ کا اثر نہ ہو گا۔آج بھی مجاہدین جان اللہ کے سپرد کرتا ہے تو اس کے بارے حکم ہے کہ اسے مردہ نہ کہو وہ اللہ کے ہاں سے رزق پاتا ہے تو جو اللہ کا نبی اور رسول ہے اس کا مقام کیا ہوگا۔موت کے بھی درجے ہیں۔امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان کا جمعتہ المبارک کے روز خطا ب۔

میر پور(آصف محمود چوہدری) میر پور اور ارد گرد کے علاقوں میں پیزا شوارما سینٹروں اور دیگر پکوان سینٹروں میں فروزن چکن ناقص چٹنیاں ٹومیٹو کیچپ اور دیگر چیزیں اکثر جگہ پر استعمال کی جانے لگی- عوام کی صحت سے کھیل کر اعلیٰ پکوان کے نام پر چند لوگ اپنی جیبیں بھرنے میں مصروف جب کہ ناقص تیل گھی بھی استعمال کیے جانے لگا محکمہ فوڈز کے ذمہ داران نوٹس لیں عوامی مطالبہ

دینہ (نثار احمد مغل سے )فارابی فاؤنڈیشن ھائی سکول دینہ نے اپنی سابقہ روایات کو بر قرار رکھتے ھوئے راولپنڈی تعلیمی بورڈ کے نویں کلاس کی طالبہ طیبہ نور اورطلبہ میں محمد عبداللہ نے ضلع جہلم میں نمایاں پوزیشن حاصل کر کے تحصیل دینہ بھر میں دوسری پوزیشن اور سکول میں پہلی پوزیشن حاصل کر کے سکول کے معیار کو بر قرار رکھا

نبوت رسالت کی عظیم الشان عمارت میں آپ ﷺ کی بعثت مبارکہ اُس اینٹ کی مانند ہے جس نے اس عمارت کی تکمیل فرمائی اور ختم نبوت پر اپنی مہر ثبت فرمائی۔اب قیامت تک کوئی نبی نہیں آئے گا۔اس ماہ مبارک ربیع الاول میں آپ ﷺ کی ولادت با سعات پر اکثریت 9 ربیع الاول پر متفق ہے اور 12 ربیع الاول کو آپ ﷺ داردنیا سے پردہ فرما گئے اس پر سب کا اتفاق ہے۔ امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان کا مرکز دارالعرفان منارہ میں بعثت رحمت عالم ﷺ کانفرنس میں خواتین وحضرات کی بڑی تعداد سے خطاب۔

آج کے مسائل کا حل اسلامی نظام معیشت میں ہے۔غیر اسلامی نظام معیشت میں دولت ایک جگہ اکٹھی ہونا شروع ہو جاتی ہے باقی جگہ پر مفلسی اور غربت آجاتی ہے۔اسلامی نظام معیشت دولت کو ایک جگہ رکنے نہیں دیتا۔کیونکہ جو سال بھر پیسہ استعمال نہیں ہوا اس پر زکوۃ لاگو ہو جاتی ہے۔جس میں مستحق کا حصہ اس کو ملتا ہے۔اسی طرح عشر ہے،صدقہ و خیرات،قربانی کی کھالیں وغیرہ شامل ہیں جس سے مستحق لوگوں تک ان کا حصہ پہنچتا رہتا ہے۔ان امور کو اگر معاشرے پر نافذ کیا جائے تو پیسہ ایک جگہ نہیں رکتا۔حقدار تک اس کا حق پہنچ جاتا ہے۔جب بندہ پیسہ جمع نہیں کرے گا تو کاروبار کرے گا جس سے لوگوں کو روزگار ملے گا اور معاشرے میں خوشحالی آئے گی۔ امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان کا جمعتہ المبارک کے روز خطاب۔

بعثتِ رحمتِ عالم ﷺ کانفرنس زیرِ صدارت و خصوصی خطاب:حضرت امیر عبدالقدیر اعوان دامت برکاتہم العالیہ شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان الحمدللہ! سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ کے تحت ہر سال کی طرح امسال بھی ملک بھر میں بعثتِ رحمتِ عالم ﷺ کانفرنسز کا سلسلہ جاری ہے۔ فیصل أباد ۔ بہاولپور ۔ وہاڑی ۔ ڈیرہ نور ربانی کھر اور گوجرانوالہ میں کامیاب اجتماعات کے بعد ابان شاء اللہ 6 ستمبر بروز اتوار دن 11 بجےدارالعرفان منارہ تحصیل کلر کہار ضلع چکوال میں عظیم الشان بعثت رحمت عالم ﷺ کانفرنس منعقد کی جا رہی ہے

میرپورمنگلا(آصف محمود چوہدری) منگلا ہیملٹ کا سرکاری بنیادی مرکز صحت علاقہ کے مریضوں کو کم وسائل میں بہترین سہولتیں مہیا کرنے لگا میڈیا میں نشاندہی کے بعد مخیر حضرات کے تعاون سے اور حکومتی فنڈ سے مرکز کی حالت بہتر سے بہتر ہونے لگی سٹاف بہترین طریقے سے مریضوں کو طبی سہولیات دینے میں مصروف

تازہ ترین خبریں

بہترین تبلیغ یہ ہے کہ ہم خود عملی طور پر اپنا وہ کردار اختیار کریں جس کا دوسرے کو بتا رہے ہیں کیونکہ اگرہم ممبر پر بیٹھ کر بیان کریں اور اپنا عمل اس سے مختلف ہو تو پھر اس تبلیغ کا اثر نہ ہو گا۔آج بھی مجاہدین جان اللہ کے سپرد کرتا ہے تو اس کے بارے حکم ہے کہ اسے مردہ نہ کہو وہ اللہ کے ہاں سے رزق پاتا ہے تو جو اللہ کا نبی اور رسول ہے اس کا مقام کیا ہوگا۔موت کے بھی درجے ہیں۔امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان کا جمعتہ المبارک کے روز خطا ب۔

میر پور(آصف محمود چوہدری) میر پور اور ارد گرد کے علاقوں میں پیزا شوارما سینٹروں اور دیگر پکوان سینٹروں میں فروزن چکن ناقص چٹنیاں ٹومیٹو کیچپ اور دیگر چیزیں اکثر جگہ پر استعمال کی جانے لگی- عوام کی صحت سے کھیل کر اعلیٰ پکوان کے نام پر چند لوگ اپنی جیبیں بھرنے میں مصروف جب کہ ناقص تیل گھی بھی استعمال کیے جانے لگا محکمہ فوڈز کے ذمہ داران نوٹس لیں عوامی مطالبہ

دینہ (نثار احمد مغل سے )فارابی فاؤنڈیشن ھائی سکول دینہ نے اپنی سابقہ روایات کو بر قرار رکھتے ھوئے راولپنڈی تعلیمی بورڈ کے نویں کلاس کی طالبہ طیبہ نور اورطلبہ میں محمد عبداللہ نے ضلع جہلم میں نمایاں پوزیشن حاصل کر کے تحصیل دینہ بھر میں دوسری پوزیشن اور سکول میں پہلی پوزیشن حاصل کر کے سکول کے معیار کو بر قرار رکھا

نبوت رسالت کی عظیم الشان عمارت میں آپ ﷺ کی بعثت مبارکہ اُس اینٹ کی مانند ہے جس نے اس عمارت کی تکمیل فرمائی اور ختم نبوت پر اپنی مہر ثبت فرمائی۔اب قیامت تک کوئی نبی نہیں آئے گا۔اس ماہ مبارک ربیع الاول میں آپ ﷺ کی ولادت با سعات پر اکثریت 9 ربیع الاول پر متفق ہے اور 12 ربیع الاول کو آپ ﷺ داردنیا سے پردہ فرما گئے اس پر سب کا اتفاق ہے۔ امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان کا مرکز دارالعرفان منارہ میں بعثت رحمت عالم ﷺ کانفرنس میں خواتین وحضرات کی بڑی تعداد سے خطاب۔