چیف ایڈیٹر:طارق محمود چودھری  ایڈیٹر: مظہر اقبال چودھری  مینیجنگ ایڈیٹر: ادریس چودھری

مئی 1, 2026 1:51 صبح

منگلا ۔۔۔امن بھائی چارے کا نام۔۔تحریر: آصف محمود چوہدری

منگلا امن بھائی چارے کا نام۔۔تحریر آصف محمود چوہدری

منگلا کو پوری دنیا میں نمایاں مقام حاصل ہے جس کی کئی وجوہات ہیں ایک تو خوبصورت ترین علاقہ منگلا ہے جس طرح وطن پاک ہر علاقے کی کوئی نہ کوئی خصوصی اہمیت ہے جس سے انکار نہیں کیا جا سکتا اسی طرح منگلا کی پورے وطن میں دنیا میں اپنی پہچان ہے خوبصورتی کے لحاظ سے امن بھائی چارے اور پر خلوص لوگوں کی وجہ سے علمی ادبی اور روحانی وجہ سے منگلا کا اپنا مقام ہے یہاں بسنے والے ہمیشہ اپس میں محبتیں بانٹتے ہیں پرامن لوگ ادھر آباد ہیں منگلا ڈیم کی بھی اپنی اہمیت ہے جو ملکی معیشت میں اہم کردار ادا کر رہا ہے یہاں کام کرنے والے بھی مخلص لوگ ہیں اپنا خون پسینہ لگا کر محنت کرتے ہیں جس سے وطن بھر کا فائدہ ہے دوسری جانب منگلا کا ماحول اس قدر پرامن ہے کہ منگلا آ کر کسی کا بھی منگلا سے واپس جانے کو دل نہیں کرتا اکثریت لوگوں کی مر کر بھی ادھر دفن ہونے کو ترجیح دیتے ہیں اکثر لوگوں کا کہنا ہوتا ہے کہ ہم جب مر جائیں تو ہمیں منگلا ہی میں دفن کیا جائے ان کی خواہش اس لیے ہوتی ہے کہ منگلا میں محبتیں بانٹنے والے لوگ رہتے ہیں وطن پاک دیگر علاقوں میں بھی محبتیں بانٹنے والے لوگ موجود ہیں منگلا ڈیم میں کام کرنے والے اکثریت لوگوں کی تعداد مزدور طبقے کی ہے جن کے وسائل اس مہنگائی کے دور میں بہت کم ہیں 40 50 ہزار تنخواہ لینے والے زندگی کا گزر بسر بڑی مشکل سے کرتے ہیں یہی وجہ ہے کہ اکثریت لوگوں کی ایسی ہوتی ہے جن کی خواہش مرنے کے بعد منگلا کے قبرستانوں میں دفن ہونے کی ہوتی ہے اور چند صاحب حیثیت لوگ بھی خواہش کرتے ہیں کہ وہ بھی مر کر منگلا کے مقام پر دفن ہوں یہاں دفن ہونے کی خواہش میری نظر میں اس لیے لوگوں کی خواہش ہوتی ہے کہ ہمارے قبرستان میں ہر وقت کوئی نہ کوئی قبرستان میں تلاوت کر رہا ہوتا ہے اور قبرستان کا ماحول انتہائی پرامن پر خلوص اور خوبصورت ہے اور دیگر سہولیات بھی میسر ہیں اس لیے ادھر دفن ہونے کی ترجیح ہوتی ہے قدرت کا نظام ہے کہ نظام زندگی چل رہا ہے موت کا ایک دن مقرر ہے وقت پورا ہونے پر سب نے دنیا چھوڑنی ہے قبرستان کے لیے جو بھی کوئی جگہ مختص کر کی جائے اس کی حفاظت ہم سب کی ذمہ داری ہے چاہے قبرستان سرکاری جگہ پر ہو یا پرائیویٹ جگہ پر ہو اس کے تقدس کا خیال سب کو رکھنا چاہیے نظام زندگی چلانے کے لیے ہم خود اپنے اپنے اصول بناتے ہیں اور خود ہی توڑتے ہیں جو اچھے اصول ہوں ان کی حمایت کرنی چاہیے اور جن میں کوئی خامی ہو اس کو درست کرنا چاہیے مقصد کسی کی مخالفت برائے مخالفت کرنا نہیں ہونی چاہیے کیونکہ قبرستان واحد جگہ ہے جہاں پر سیاست کاروبار نہیں ہوتا بلکہ قبرستان کا انتظام چلانے والے ہر مرنے والے کو باعزت پروکار طریقے سے دفنانے کا بندوبست کرتے ہیں جس میں مرنے والے کے لواحقین بھی حصہ ڈالتے ہیں اور کچھ ایسے افراد بھی ہوتے ہیں جن کا مرنے کے بعد کوئی دفنانے والا بھی نہیں ہوتا ایسے لوگوں کو بھی قبرستانوں کا نظام چلانے والے درد دل رکھنے والے انسانیت کی خدمت کرنے والے لوگ دفن کرنے کا انتظام کرتے ہیں یہی انسانیت کی خدمت کی دلیل ہے منگلا کالونی اور منگلا ہیملٹ کے لوگوں کا تعلق محبت پیار امن بھائی چارے کا ہے جو کئی سالوں سے چلا رہا ہے اور انشاءاللہ قائم رہے گا منگلا ڈیم کی اپ ریزنگ کی وجہ سے یہاں منگلس میں بیرون ممالک کے لوگ منگلا کالونی میں رہائش پذیر ہیں جن کی سکیورٹی کا مسئلہ ہے ان کو سکیورٹی فراہم کرنے کے لیے حفاظتی اقدامات کے تحت کچھ پابندیاں منگلا کالونی کے انٹری گیٹ پر پرائیویٹ لوگوں کے لیے لگائی گئی ہے جن کا مقصد بیرون ممالک سے ائے ہوئے مہمانوں کی حفاظت ہے وطن بھر میں دہشت گردی سے بچنے کے لیے حفاظتی اقدامات کیے جاتے ہیں ان مہمانوں کی حفاظت کے لیے تھوڑی رکاوٹ ہوتی ہے جس کا ہم سب کو برا نہیں منانا چاہیے بلکہ واپڈا کے اہلکاروں سے بھرپور تعاون کرنا چاہیے اور دوسری جانب سکیورٹی پر مامور عملہ کو بھی اپنا رویہ عوام سے درست رکھنا چاہیے اس وجہ سے عوام میں کوئی نفرت پیدا نہیں ہونی چاہیے اور منگلا کالونی میں بسنے والے لوگ بھی منگلا ہیملٹ کے عوام سے محبت کرتے ہیں کیوں نہ کہ وہ بھی اسی وطن کے باشندے ہیں کئی سالوں سے پیار محبت سے رہنے والے منگلا کے پرامن لوگ ہمیشہ پرامن رہیں گے جو کہ منگلا کی پہچان ہے اور قبرستان کا نظام چلانے والے لوگ انتہائی مخلص لوگ ہیں یہاں رہنے والا ہر ایک بزرگ ہر ایک فرد قابل احترام ہے اور یہاں انے والے مہمان بی قابل احترام ہیں منگلا کے عوام ہمیشہ سے مہمان نواز ہیں اور ہمیشہ رہیں گے نفرت پھیلانے والے وطن پاک سے مخلص نہیں ہو سکتے منگلا میں ہمیشہ پیار محبت کی فصلیں پرامن ماحول میں تیار ہوتی ہیں جن کا ثمر ہم سب لیتے ہیں منگلا ہیملٹ کے اور منگلا کالونی کے لوگ محبتیں بانٹنے والے ہیں پرامن ہیں اور ہمیشہ پرامن رہیں گے جگہ کا مسئلہ مل جل کر حل کیا جا سکتا ہے اس کے لیے واپڈا ذمہ دران سے بات کی جا سکتی ہے لیکن اگر قبرستان کی جگہ پر کسی کا قبضہ موجود ہے تو اس کو بھی خالی کرایا جانا چاہیے اور قبرستان کے لیے جگہ کی کمی کا مسئلہ واپڈا اور منگلا ہیملٹ کے ذمہ داران کے تعاون سے مسئلہ حل ہو سکتا ہے کیوں نہ کہ بے شمار زمین موجود ہے اور منگلا ڈیم بھی ہم سب کا ہے قبرستان میں مر کر پہنچنے والے کی کوئی درجہ بندی نہیں ہوتی امیر غریب سب برابر دفن ہوتے ہیں اور مر کر قبر نصیب ہو جانا بڑے نصیب کی بات ہے اللہ پاک ہمیں باعزت پر وقار موت عطا فرمائے اور ہم سب کو مل جل کر اتفاق اتحاد سے رہنے کی توفیق عطا فرمائے اگر کوئی تحریر میں غلطی ہوئی ہو تو معاف کیجئے گا خدا حافظ

Facebook
Twitter
LinkedIn
Pinterest
Pocket
WhatsApp

متعلقہ خبریں

تازہ ترین خبریں