
*فیلڈ مارشل کی بات کا بتنگڑ**ایران کو بہانہ بنا کر بدامنی پھیلانا، افواج پاکستان کو نشانہ بنانا کسی طور پر مناسب نہیں*بقلم: ڈاکٹر فیض احمد بھٹی
حالیہ دِنوں شیعہ علمائے کرام کو ایک اہم بریفنگ کےلیے بڑے احترام سے مدعو کیا گیا۔ جس میں فیلڈ مارشل جنرل سید عاصم منیر نے ملکی و علاقائی صورتحال اور داخلی و خارجی چیلنجز کے حوالے سے ان کے ساتھ تفصیلی گفتگو کی۔ بریفنگ کے بعد بعض خود غرض عناصر نے سوشل میڈیا پر اس نشست کے کُچھ حصوں کو سیاق و سباق سے الگ کر کے پیش کرنا شروع کر دیا۔ جس کے نتیجے میں عوام بالخصوص شیعہ کمیونٹی میں کئی غلط فہمیاں جنم لینے لگیں۔ لہذا ایسی صورتِ حال میں ضروری ہے کہ جذبات سے ہٹ کر حقائق کو سمجھا جائے، قومی مفاد کو ہر اعتبار سے مقدم رکھا جائے، اور ایسے شرپسند عناصر کو لگام دی جائے۔ اِس حوالے سے سب سے پہلے یہ بات ذہن نشیں رہے کہ پاکستان کے اندر تقریباً تمام مکاتبِ فکر اور تمام سیاسی و مذہبی حلقوں نے ایران کے حق میں آواز بلند کی ہے اور اسرائیلی جارحیت کی شدید مذمت کی ہے۔ یہ حمایت کسی ایک فرقے، ایک جماعت یا ایک مخصوص مکتبِ فکر تک محدود نہیں، بلکہ یہ ایک وسیع تر انسانی، اخلاقی اور اسلامی ردِعمل ہے۔ سو جو بھی شخص ظلم کے خلاف اور سچ کے حق میں بولنے کا حوصلہ رکھتا ہے، اس نے ایران کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کیا ہے۔ ایسے میں اگر کوئی طبقہ اس فضا کو فرقہ وارانہ رنگ دینے کی کوشش کرتا ہے، تو وہ دراصل پاکستان کے اندر پیدا ہونے والی قومی یکجہتی اور ملکی سلامتی کو نقصان پہنچانا چاہتا ہے۔ اور اس کا مقصد فسادگری کے سوا کچھ نہیں۔دوسری یہ بھی ایک اہم بات ہے کہ ایران کی قیادت کی جانب سے پاکستان کے کردار کو کئی بار سراہا گیا ہے۔ ایرانی قیادت کی طرف سے پاکستان کے موقف اور کردار کو قدر کی نگاہ سے دیکھا گیا۔ بلکہ ایرانی سپریم لیڈر مجتبی خامنئی اور وزیر خارجہ ڈاکٹر عباس عراقچی نے برملا پاکستان کی خدمات کا اعتراف اور شکریہ بھی ادا کیا۔ یہ بیانات اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ پاکستان اور ایران کے کافی اچھے تعقات ہیں۔ اور پاکستان نے خطے کے ایک حساس مرحلے میں اپنی خارجہ پالیسی کو توازن، تدبر اور نہایت ذمے داری کے ساتھ آگے بڑھایا ہے۔ جس کا پورا ایران قائل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج پاکستان کو ایک سنجیدہ، ذمے دار اور مؤثر ترین اسلامی ملک کے طور پر دیکھا اور جانا جا رہا ہے۔تیسری بات یہ کہ پاکستان بیک وقت کئی محاذوں پر نبرد آزما ہے۔ ایک طرف داخلی انتشار، دہشت گردی اور تخریبی کارروائیاں ہیں، تو دوسری طرف خطے میں بدلتی ہوئی گھمبیر صورتحال ہے۔ خاص کر بلوچستان اور کے پی کے میں دہشت گرد عناصر کے خلاف ریاست اور دفاعی ادارے مسلسل برسرِ پیکار ہیں۔ ایسے ماحول میں پاکستان کو نہ صرف متوازن خارجہ پالیسی کی ضرورت ہے، بلکہ داخلی استحکام و مضبوطی کی بھی اشد ضرورت ہے، جو جذبات کی بجائے حکمت پر مبنی ہو۔قارئین! رہی بات اس جملے کی جو سوشل میڈیا پر سب سے زیادہ موضوعِ بحث بنایا گیا، وہ فیلڈ مارشل عاصم منیر سے منسوب یہ جملہ تھا کہ "جسے ایران سے محبت ہے، وہ ایران چلا جائے” بظاہر یہ الفاظ سخت محسوس ہوتے ہیں اور پہلی نظر میں بے چینی پیدا کرتے ہیں۔ لیکن اصل سوال یہ ہے کہ کیا یہ جملہ کہا بھی گیا ہے یا نہیں؟! اگر کہا گیا ہے، تو کس پس منظر میں کہا گیا، اور اس کا مخاطب کون تھا؟؟!! اگر اس پورے تناظر کو سامنے رکھا جائے، تو معاملہ بالکل مختلف دکھائی دیتا ہے اور دودھ کا دودھ، پانی کا پانی ہو جاتا ہے۔حقیقت یہ ہے کہ اس گفتگو کا تعلق کسی خاص فرقے، کسی مخصوص مسلک یا فقہ جعفریہ سے وابستہ یا فقہ اسماعیلیہ سے وابستہ افراد سے نہیں تھا۔ اور نہ ہی یہ بات ان لوگوں کےلیے تھی، جو ایران کو ایک برادر اسلامی ملک سمجھتے ہوئے اس کے ساتھ ہمدردی رکھتے ہیں۔ کیونکہ ایران کی حمایت صرف شیعہ حلقوں تک محدود نہیں۔ بلکہ پاکستان کے اندر اہل السنہ سمیت دیگر مذہبی حلقہ جات، حتیٰ کہ عام شہری بھی اسرائیلی جارحیت کے خلاف اور ایران کے حق میں بول رہے ہیں۔ لہٰذا یہ تصور ہی غلط ہے کہ اس طرح کا جملہ کسی ایک مسلک کے خلاف کہا گیا۔ بلکہ اس کا درست مفہوم اور حقیقت یہ ہے کہ "اگر کوئی شرپسند گروہ ایران کا نام استعمال کر کے پاکستان کے اندر بدامنی و فساد پھیلانا چاہے، ریاستی رٹ کو چیلنج کرے، املاک کو نقصان پہنچائے، جلاؤ گھیراؤ کرے، خون ریزی کرے یا ملک کو اندر سے کمزور کرنے کی کوشش کرے، تو ایسے عناصر کو ہرگز برداشت نہیں کیا جا سکتا!!! وہ ایران میں جا کر ایسی بدامنی پھیلائیں، تو کیا ایران انہیں اس کی اجازت دے گا؟ ہر گز نہیں! گویا اصل ہدف وہ عناصر ہیں، جو کسی بیرونی ایجنڈے یا مذہبی وابستگی کو پاکستان میں فساد، انتشار اور تخریب کا ذریعہ بنانا چاہتے ہیں۔ اس نکتے کو سمجھے بغیر محض ایک جملہ اچھال دینا دیانت دارانہ طرزِ عمل نہیں بلکہ منافقت ہے۔ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ جنگی اور بحرانی حالات میں سب سے بڑی ضرورت اتحاد، صبر اور بصیرت کی ہوتی ہے۔ جو لوگ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی حکمت و دنائی کے قائل ہیں، ان کےلیے یہی راستہ ہے کہ وہ جذبات کی بجائے دانائی سے کام لیں، دشمن کی چال کو سمجھیں اور یہ جانیں کہ پاکستان کے خلاف سازشیں کن راستوں سے داخل ہو رہی ہیں۔ اِن حالات میں پاکستان کے اندر فرقہ وارانہ دراڑیں پیدا کرنا، قومی بیانیے کو کمزور کرنا اور اتحاد کی فضا کو خراب کرنا دشمن کے مفاد میں ہے، پاکستان کے حق میں نہیں۔یاد رہے! پاکستان ایک ایٹمی طاقت ہے، ایک اہم ترین اسلامی ملک ہے، پورا عالمِ اسلام اس کی طرف توقع بھری نگاہ سے دیکھتا ہے۔ ایسے میں ریاستی اداروں کو کمزور کرنا، سالارِ لشکر فیلڈ مارشل اور افواج کو خوامخواہ تنقید کا نشانہ بنانا، داخلی انتشار کو ہوا دینا یا فرقہ وارانہ فضا پیدا کرنا کسی طور بھی دانش مندی نہیں، بلکہ یہ قبیح ترین جرم کا ارتکاب ہے۔اختلافِ رائے ہر معاشرے میں ہوتا ہے، مگر جب معاملہ ریاست کے استحکام، قومی سلامتی اور امتِ مسلمہ کے وسیع تر مفاد کا ہو، تو پھر ذمہ داری کا دامن مضبوطی سے تھامنا پڑتا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم سوشل میڈیا کے شور و غوغا سے نکل کر اصل حقیقت کو سمجھیں۔ پاکستان کو اس وقت نفرت، اشتعال اور تقسیم نہیں، بلکہ اتحاد، حکمت اور استحکام کی ضرورت ہے۔ ایران کی حمایت اپنی جگہ اور امریکہ و اسرائیل سے نفرت اپنی جگہ؛ مگر اس آڑ میں پاکستان کے امن اور افواج پاکستان کی ساکھ کو مجروح کرنا بالکل قابل قبول نہیں۔ پاکستان کا امن، وحدت اور سلامتی بہرصورت مقدم ہونی چاہیے۔ یہی وہ اصول ہے، جو ہمیں ہر جذباتی نعرے اور ہر اشتعال انگیز تعبیر سے بلند ہو کر اپنانا ہوگا۔



















