

جہلم// ادریس چودھری//نورِ ایمان بند ہ ٔ مومن کے قلب میں ادراک اور بصیرت عطا فرماتا ہےامیر عبدالقدیر اعوان اللہ کے حکم کے مطابق زندگی بسر کرنے میں ہی ہماری فلاح ہے: اجتماع سے خطاب ۔نورِ ایمان بند ہ ٔ مومن کے قلب میں وہ ادراک اور بصیرت عطا فرماتا ہے کہ بندہ ٔ مومن خلق کی ان وسعتوں سے نکل کر اللہ رب العالمین سے آشنا ہوجاتا ہے اور مقامِ نبوت اور رسالتﷺ کے طفیل امت تک یہ آشنائی اور نور پہنچا جس کا ہم جتنا شکر ادا کریں کم ہے۔ بعثت ِ رحمت اللعالمینﷺ سے پہلے عہدِ فطرت کا عہد500 سال پر محیط ہے۔ اس عہد میں جس نےبھی دل کی گہرائی سے سوچا کہ کوئی ہے جو عبادت کے لائق اور وحدہ‘ لاشریک ہے اور وہ اس جستجو میں رہا تو اس کی نجات ہو گئی۔ ان خیالات کا اظہار شَیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان حضرت امیر عبدالقدیر اعوان نے دارالعرفان میں سالکین کےبڑے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئےکیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ آپﷺ کی 40 سالہ زندگی جو کفارِ مکہ کے درمیان بسر فرمائی وہ اتنی بڑی شہادت ہے کہ بڑے سے بڑے دشمن نے بھی آپﷺ کے صادق اور امین ہونے کی گواہی دی اور آج ہم مسلمان امتی دولت اور دنیا کی ہوس میں پڑے ہوئے ہیں اور یہ ذات باری سے دوری کی وجہ سے ہے۔ جتنی دوری اللہ سے ہوتی ہے اتنی انا بڑھتی ہے حالانکہ جو کچھ ہے وہ اللہ کا ہے۔انھوں نے کہا کہ جب بندہ اس دنیا سے جاتا ہے تو اس کا جو کچھ ہوتا ہے وہ وارثوں کا ہو جاتا ہے اور غلط فہمی دور ہو جاتی ہے کہ یہ سب کچھ میرا ہے۔ حالانکہ یہ نعمتیں سب اللہ کی دی ہوئی ہیں اوراس بات کی سمجھ آ جائے تو حقیقت کھل جاتی ہے۔ دنیا کو ترک کرنے کا نہیں کہا جا رہابلکہ دنیا بھی اللہ کی ہے اور آخرت بھی اللہ کی ہے اصل میں جو حکم اللہ کا ہے اس کے مطابق رہنا ہے اور اس میں ہی ہماری فلاح ہے۔ انھوں نے احکاماتِ دین پر عمل پیرا ہونے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ روزے میں ہماری جسمانی و روحانی بھلائی ہے، جبکہ نماز کی ادائیگی محض ورزش کے لیے نہیں بلکہ فرض سمجھ کر ہونی چاہیے۔ اللہ کریم نے زندگی کا جو نصاب مقرر فرمایا ہے وہ ہماری عین ضرورت ہے۔ انہوں نے اس بات کا احساس دلایا کہ موت کے بعد تلافی کا کوئی موقع نہیں ملے گا اگرچہ ہم کمزور اور گناہ گار ہیں، مگر اللہ کی شانِ کریمی اور رحمت بے پناہ ہے۔ اگر انسان اپنے گناہ پر نادم ہو کر معافی کا طلب گار ہو، تو وہ غفور الرحیم توبہ کی توفیق بھی عطا فرماتا ہے۔ انہوں نے تلقین کی کہ تلاوتِ قرآن مجید کو روزمرہ کا معمول بنایا جائے اور ہر دن کا آغاز کلامِ الٰہی سے ہو۔ قرآن کو محض وظائف کے طور پر نہیں بلکہ اللہ کا پیغام سمجھ کر اول تا آخر پڑھنا چاہیے۔ انہوں نے "اکرم التراجم” کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ ترجمہ لفظی و محاوراتی لحاظ سے انتہائی سلیس اور عام فہم ہے، لہٰذا کوشش کریں کہ قرآن مجید کی تلاوت ترجمے کے ساتھ کریں تاکہ زندگی میں حقیقی تبدیلی آ سکے۔آخر میں انہوں نے کہا کہ ہم دینِ اسلام کے احکام پر عمل کریں گےتو یہ ہمارے لیے ہر لحاظ سے بہتر ہو گا۔



















