چیف ایڈیٹر:طارق محمود چودھری  ایڈیٹر: مظہر اقبال چودھری  مینیجنگ ایڈیٹر: ادریس چودھری

جون 3, 2026 10:27 شام

جہلم//آر ٹی اے جہلم اور ڈی ایس پی ٹریفک جہلم کی موجودگی میں عوام کو سفری سہولت دینا ناممکن ہو گیا، عوام ذلیل وخوار

جہلم// پروفیسر خورشید علی ڈار ۔ سے
موجودہ زمینی حقائق کے مطابق کہا جا سکتا ہے کہ آر ٹی اے جہلم اور ڈی ایس پی ٹریفک جہلم کی موجودگی میں عوام کو سفری سہولت دینا ناممکن ہے ۔۔مذکورہ افیسران کی ترجیحات میں یہ بات شامل نہیں ہے کہ عوام کو ریلیف دیا جائے ایک عرصہ دراز تک ہر بس ہر ویگن جو دینہ سے جہلم جاتی تھی ۔اس کا راستہ سول ہسپتال سے گزر کر شاندار چوک جہلم تک ہوا کرتا تھا ان دونوں افیسران نے عوام کے مفاد میں پابندی لگا دی ہے کہ کوئی بس کوئی ویگن اس راستے سے نہیں گزر سکتی ۔۔۔اب مسافر 130/150 دے کر جادہ اترتے ہیں ۔پھر 100 روپیہ دے کر سول ہپستال پہنچتے ہیں یا جہلم شہر جاتے ہیں اب اس بات سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ان کی سوچ کس قدر مثبت ہے بالخصوص مریض اور بوڑھے لوگ جب جادہ اترتے ہیں تو ان کو ہسپتال جانے میں کافی حد تک تکلیف برداشت کرنا پڑتی ہے مقام افسوس ہے کہ ہمارے محترم ڈپٹی کمشنر جہلم نے بھی حسب توقع توجہ اس طرف مبذول نہیں کی اج کل جو الیکٹرک بسیں چل رہی ہیں ار ٹی اے جہلم کی غلط رہنمائی کی بنیاد پر ان بسوں کا استعمال 70 فیصد غلط ہو رہا ہے خواتین بلا ضرورت سفر کر رہی ہیں ایک عورت کے ساتھ اٹھ بچے ہوں گے وہ بھی سفر کریں گی سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ان بچوں کی کیا ضرورت ہے؟؟ایک بچہ تو ہو سکتا ہے لیکن سات سے اٹھ بچوں کی کیا ضرورت ہے؟؟
پھر دینہ سے جہلم جانے والی الیکٹرک بس فوجی مل کے قریب کھڑی ہو جائے گی اب 40 منٹ تک پھر انتظار کرنا ہوگا یہ ایک سیکنڈ کا کام ہے کہ جو بس دینہ سے جہلم جا رہی ہے اگر اس نے سٹاپ فوجی فاؤنڈیشن کرنا ہے تو اگے سے گاڑی تیار ہو جانی چاہیے تاکہ دو منٹ میں مسافر اس بس میں بیٹھے اور جہلم چلے جائے اس حوالے سے ڈپٹی کمشنر جہلم سے اپیل کی جاتی ہے کہ وہ عوام کے مفاد میں اپنے فیصلوں پر نظرثانی کریں تاکہ عوام کو ریلیف دیا جا سکے۔موجودہ حالات میں ان کو ذہنی کوفت دی جا رہی ہے ۔بلا شبہ حکومت پنجاب نے ان کو 10 سے 15 کروڑ کی لگثری گاڑی دے رکھی ہے جتنے بھی ہمارے معزز افیسرز ہیں ان کو کیا معلوم کہ پبلک ٹرانسپورٹ کے کیا مسائل ہیں ایک عام ادمی کس طرح سفر کرتا ہے سفر کرنے کے لیے اس کی جیب میں پیسے ہیں یا نہیں ہیں اگر کسی طریقے سے ہمارے افیسرز پبلک ٹرانسپورٹ پر سفر کریں تو یہ تکلیف عوام کو کبھی نہ ہو۔ظاہر ہے آقا اور غلام میں فرق ہوتا ہے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Pinterest
Pocket
WhatsApp

متعلقہ خبریں

دینہ(سہیل انجم قریشی سے) پولیس تھانہ دینہ کی موٹر سائیکل چوری پر قابو پانے کی انوکھی منطق،موٹر سائیکل پنکچر کرو نہ مالک چلائے نہ چور، پبلک پارکنگ میں خریداری کے لیے آنے والے شہریوں،دکانداروں اور ملازمین کے درجنوں موٹر سائیکل پنکچر کر دیے شہریوں کا اعلی حکام سے نوٹس لینے کا مطالبہ

تازہ ترین خبریں