چیف ایڈیٹر:طارق محمود چودھری  ایڈیٹر: مظہر اقبال چودھری  مینیجنگ ایڈیٹر: ادریس چودھری

نومبر 6, 2026 9:03 شام
تازہ ترین خبریں

بچے کا پیدائش کے بعد رونا۔۔۔ تحریر ۔ڈاکٹر ملک عدیل افتخار اعوان چائلڈ سپیشلسٹ

بچے کا پیدائش کے بعد روناڈاکٹر ملک عدیل افتخار اعوان چائلڈ سپیشلسٹ

بچے کی پیدائش کے بعد سب سے پہلا لمحہ بہت اہم ہوتا ہے۔ عموماً جیسے ہی بچہ پیدا ہوتا ہے اور پہلی مرتبہ سانس لیتا ہے تو اس کا رونا اس بات کی ایک اچھی علامت سمجھا جاتا ہے کہ وہ سانس لینے کے عمل میں منتقل ہو رہا ہے۔لیکن اگر بچہ پیدائش کے فوراً بعد نہ روئے تو ہر مرتبہ اس کا مطلب یہ نہیں کہ بچہ زندگی بھر کے لیے معذور ہو جائے گا۔ بعض بچے ابتدائی مدد کے بعد جلد سانس لینے لگتے ہیں اور بالکل ٹھیک رہتے ہیں۔ اصل تشویش اس وقت ہوتی ہے جب بچے کو مناسب سانس نہ مل رہی ہو اور دماغ سمیت جسم کے اہم اعضاء کو آکسیجن کی کمی طویل وقت تک رہے۔حمل کے دوران بچہ ماں کے ذریعے آکسیجن حاصل کرتا ہے، لیکن پیدائش کے بعد اسے خود سانس لینا شروع کرنا ہوتا ہے۔ اگر کسی وجہ سے یہ تبدیلی صحیح طریقے سے نہ ہو اور بچہ سانس نہ لے رہا ہو یا بہت کمزور سانس لے رہا ہو تو جسم میں آکسیجن کی کمی پیدا ہو سکتی ہے۔اگر آکسیجن کی شدید کمی بروقت دور نہ کی جائے تو دماغ سب سے زیادہ متاثر ہونے والے اعضاء میں شامل ہے۔ ایسی صورت میں بعض بچوں میں آکسیجن اور خون کی کمی سے دماغ کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ شدید صورتوں میں اس کے اثرات بعد کی زندگی میں نشوونما میں تاخیر، دورے، حرکت کے مسائل، سننے یا دیکھنے کی مشکلات کی شکل میں سامنے آ سکتے ہیں۔لیکن یہاں سب سے اہم بات یہ ہے کہ پیدائش کے فوراً بعد بچے کا نہ رونا خود بیماری نہیں، بلکہ بچے کی سانس اور مجموعی حالت کو فوری طور پر جانچنے کا اشارہ ہے۔اگر بچہ پیدا ہونے کے بعد نہیں رو رہا، سانس نہیں لے رہا یا سانس بہت کمزور ہے تو فوراً تربیت یافتہ طبی عملہ بچے کی حالت کا جائزہ لیتا ہے اور ضرورت کے مطابق اسے گرم رکھنے، سانس کی مدد دینے اور نوزائیدہ کی بحالی کے اقدامات شروع کرتا ہے۔بعض والدین سمجھتے ہیں کہ بچے کو الٹا لٹکانا، زور سے ہلانا یا مارنا ضروری ہے تاکہ وہ روئے۔ یہ طریقے درست نہیں اور نقصان دہ بھی ہو سکتے ہیں۔ بچے کو مناسب طبی طریقے سے سانس لینے میں مدد دینا ضروری ہوتا ہے۔بچے کی حالت کا اندازہ صرف رونے سے نہیں بلکہ سانس، دل کی دھڑکن، جسمانی رنگت، حرکت اور مجموعی ردِعمل سے کیا جاتا ہے۔ بعض بچے فوراً زور سے نہیں روتے لیکن سانس مناسب لے رہے ہوتے ہیں، جبکہ بعض بچوں کو فوری طبی مدد کی ضرورت ہوتی ہے۔اگر بچے کو پیدائش کے وقت سانس لینے میں دشواری ہوئی ہو، اسے بحالی کی ضرورت پڑی ہو یا پیدائش کے بعد کچھ وقت تک آکسیجن کی کمی رہی ہو تو ایسے بچے کی قریبی نگرانی ضروری ہوتی ہے۔ شدید آکسیجن کی کمی کی بعض صورتوں میں بروقت خصوصی علاج اور نگہداشت دماغی نقصان کے خطرے کو کم کرنے میں مدد دے سکتی ہے۔اس لیے اصل پیغام خوف پیدا کرنا نہیں بلکہ بروقت اور صحیح مدد کی اہمیت سمجھانا ہے۔اسی لیے ہر بچے کی پیدائش ایسی جگہ ہونا زیادہ محفوظ ہے جہاں تربیت یافتہ عملہ موجود ہو اور ضرورت پڑنے پر نوزائیدہ بچے کو فوری سانس اور بحالی کی مدد دی جا سکے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Pinterest
Pocket
WhatsApp

متعلقہ خبریں

دینہ:ممتاز کاروباری و سماجی شخصیت منور حسین لندن سے اپنے آبائی گاؤں کھٹانہ، تحصیل دینہ، ضلع جہلم پہنچ گئے۔ ان کے داماد رضی شاہد مرحوم کے اچانک انتقال پر تعزیت اور دعائے مغفرت کے لیے اہلِ علاقہ سمیت عزیز و اقارب اور دوست احباب کی بڑی تعداد ان کی رہائش گاہ پر پہنچ رہی ہے، جہاں لواحقین سے دلی ہمدردی اور افسوس کا اظہار کیا جا رہا ہے(رپورٹ ادریس چودھری دینہ جہلم)

دینہ:میری جیت پوری تحصیل دینہ کے صحافیوں کی جیت ہے۔ الیکٹرانک و ڈیجیٹل میڈیا دینہ کے ممبران نےجس اعتماد کا مجھ پر اظہارِ کیا ہے میں ان کا شکر گزار ہوں۔ عوامی مسائل کو اجاگر کرنا اولین ترجیح ہے ۔ تحصیل دینہ کے صحافیوں کے مسائل حل کرنے کی بھرپور کوشش کروں گا، نو منتخب صدر دینہ الیکٹرانک اینڈ ڈیجیٹل میڈیا یاسر صدیق کی میڈیا سے گفتگو

جہلم( ادریس چودھری) رسولِ اکرم ﷺ کی ذاتِ مبارکہ اور حیاتِ طیبہ ہر شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد کے لیے کامل نمونہ ہے۔ آپ ﷺ کی سیرت ذاتی کردار، خاندانی تعلقات، پیشہ ورانہ ذمہ داریوں اور معاشرتی معاملات میں رہنمائی فراہم کرتی ہے۔ انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ قرآنِ کریم کے پیغام کو سمجھنے کے ساتھ یہ جاننا بھی ضروری ہے کہ نبی کریم ﷺ نے اللہ تعالیٰ کی ہدایات کو اپنی زندگی میں کس طرح عملی صورت دی۔ انہوں نے شرکاء کو قرآن و سیرت سے اپنا تعلق مضبوط بنانے اور ان تعلیمات کو روزمرہ زندگی میں اپنانے کی تلقین کی۔امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ کا شکاگو میں قونصل خانہ پاکستان اور سبیل سینٹر کے اشتراک سے سیرتِ طیبہ ﷺ کانفرنس سے خطاب

تازہ ترین خبریں

دینہ:ممتاز کاروباری و سماجی شخصیت منور حسین لندن سے اپنے آبائی گاؤں کھٹانہ، تحصیل دینہ، ضلع جہلم پہنچ گئے۔ ان کے داماد رضی شاہد مرحوم کے اچانک انتقال پر تعزیت اور دعائے مغفرت کے لیے اہلِ علاقہ سمیت عزیز و اقارب اور دوست احباب کی بڑی تعداد ان کی رہائش گاہ پر پہنچ رہی ہے، جہاں لواحقین سے دلی ہمدردی اور افسوس کا اظہار کیا جا رہا ہے(رپورٹ ادریس چودھری دینہ جہلم)

دینہ:میری جیت پوری تحصیل دینہ کے صحافیوں کی جیت ہے۔ الیکٹرانک و ڈیجیٹل میڈیا دینہ کے ممبران نےجس اعتماد کا مجھ پر اظہارِ کیا ہے میں ان کا شکر گزار ہوں۔ عوامی مسائل کو اجاگر کرنا اولین ترجیح ہے ۔ تحصیل دینہ کے صحافیوں کے مسائل حل کرنے کی بھرپور کوشش کروں گا، نو منتخب صدر دینہ الیکٹرانک اینڈ ڈیجیٹل میڈیا یاسر صدیق کی میڈیا سے گفتگو