چیف ایڈیٹر:طارق محمود چودھری  ایڈیٹر: مظہر اقبال چودھری  مینیجنگ ایڈیٹر: ادریس چودھری

جون 24, 2026 3:47 صبح

جہلم (پروفیسر خورشید علی ڈار )۔رورل سینٹر دینہ کا نام مریم نواز ہیلتھ کلینک تو رکھ دیا گیا ، مگر مسائل جوں کے توں ،مسائل میں روز بروز اضافہ،سٹاف کی کمی، صفائی کی ابتر صورتحال

جہلم (پروفیسر خورشید علی ڈار )۔رورل سینٹر دینہ( مریم نواز ہیلتھ کلینک)کے مسائل میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے سماجی سیاسی زعماء کی عدم دلچسپی عروج پر ہے شہری کی شکایات حقائق پر مبنی ہے اسباب کی طرف توجہ دینا ہوگی شہری کو مناسب میڈیسن ملنا لیپ ٹیسٹ کروانا حقوق میں شامل ہے مقام افسوس ہے کہ رورل ہیلتھ سینٹر دینہ عرصہ 20 سال سے اسی حیثیت میں کام کر رہا ہے حالانکہ اس کی او پی ڈی کسی بھی تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال سے زیادہ ہے مریضوں کا رش ہوگا جبکہ ڈاکٹر صرف ایک ہی ہوگا اسی نے ایمرجنسی میں کام کرنا ہوگا وہی ایم ایل سی لکھے گا بعض اوقات وہی ڈاکٹر رات کو بھی ڈیوٹی دے گا ان حالات میں شکایات کا ہونا خلاف توقع نہیں ہے بہت کم لوگوں کو علم ہے کہ موجودہ ہیلتھ سینٹر دینہ میں سٹاف کی کمی بہت زیادہ ہے اسی بناء پر مسائل پیدا ہوتے ہیں مصدقہ ذرائع کے مطابق صفاء عابد اسسٹنٹ کمشنر دینہ ہر روز رورل ہیلتھ سینٹر دینہ کی وزٹ کرتی ہیں اچھے کام پر شاباش اور رہنمائی بھی کرتی ہیں تقریبا تین دفعہ مذکورہ آفیسر مجاز اتھارٹی کو تحریری طور پر لکھ چکی ہے کے ہفتے میں ایک دن سپیشلسٹ ڈاکٹرز رورل ہیلتھ سینٹر دینہ تشریف لائیں مگر تا حال اس پر عمل نہیں ہوا جب تک ضرورت کے مطابق میڈیسن نہیں ملیں گی لیب ٹیسٹ کے حوالے سے کیمیکلز نہیں ملیں گے ایکسرے اس وقت تک نہیں ہوں گے جب تک اس کی ضرورت پوری نا کی جائے گی اے سی اس وقت تک فنگشن نہیں کرے گا جب تک اس کو ٹھیک نہیں کروایا جاۓ درج بالا ضرورت کو پورا کرنا حکومت پنجاب کا فرض ہے سوہاوہ ایک گاؤں تھا مرد حر راجہ خالد ایم پی اے نے سوہاوہ کو تحصیل ہیڈ کواٹر کا درجہ دلوایا اور سوہاوہ میں تحصیل لیول کی ہر چیز موجود ہے کاش ہماری تحصیل میں بھی راجہ خالد جیسا ایم پی اے پیدا ہوتا تاکہ ہمارے مسائل حل کرتا ضرورت اس امر کی ہے کہ ہمارے سیاسی زعماء خصوصی طور پر مشیر صحت جنرل اظہر صاحب رورل ہیلتھ سینٹر دینہ کی طرف توجہ دیں اور جائز شکایات کا ازالہ کروائیں

Facebook
Twitter
LinkedIn
Pinterest
Pocket
WhatsApp

متعلقہ خبریں

زندگی کا سفر موت کی طرف ہے۔ہم بحیثیت مجموعی تجاوز کرتے ہیں اللہ کریم غفورالرحیم ہیں اگر ایک دن میں 70 بار بھی شرمندگی سے ندامت سے معافی مانگی جائے تو اللہ کریم معاف فرما دیتے ہیں۔ہمیں ہر وقت اپنا تجزیہ کرتے رہنا چاہیے ہر بندے کو اپنا بخوبی پتہ ہوتا ہے کہ نہاں خانہ دل میں کیا ہے؟امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ عالیہ کا سالانہ اجتماع کے موقع پر صحبت شیخ میں خطاب۔

تازہ ترین خبریں

زندگی کا سفر موت کی طرف ہے۔ہم بحیثیت مجموعی تجاوز کرتے ہیں اللہ کریم غفورالرحیم ہیں اگر ایک دن میں 70 بار بھی شرمندگی سے ندامت سے معافی مانگی جائے تو اللہ کریم معاف فرما دیتے ہیں۔ہمیں ہر وقت اپنا تجزیہ کرتے رہنا چاہیے ہر بندے کو اپنا بخوبی پتہ ہوتا ہے کہ نہاں خانہ دل میں کیا ہے؟امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ عالیہ کا سالانہ اجتماع کے موقع پر صحبت شیخ میں خطاب۔