
*حالیہ پاک افغان کشیدگی کے حوالے سے چند شبہات کا اِزالہ* نگارشات: ڈاکٹر فیض احمد بھٹی
پاکستان اور افغانستان کے درمیان بڑھتی ہوئی حالیہ کشیدگی نے نہ صرف باہمی تعلقات کو ٹھیس پہنچائی ہے، بلکہ دونوں کی سلامتی کو خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔ فساد کی اصل جڑ "ٹی ٹی پی” ہے، جس کے نزدیک پاکستان کا آئین غیر اسلامی اور حکومت کافرانہ ہے۔ یہ اپنی خودساختہ مذہبی تشریحات اس ملک پہ بزورِ بازو نافذ کرنا چاہتے ہیں۔ اس مقصد کےلیے یہ ربع صدی سے خون کی ہولی کھیل رہے ہیں۔ یہ بدبخت اب تک 80 ہزار سے زائد لاشیں گرا چکے ہیں، جن میں سیکیورٹی پہ مامور افراد، افواج اور بے شمار عام نہتے شہری بھی شامل ہیں۔ ایک بندے کا قتل پوری انسانیت کا قتل ہے۔ اور یہاں تو مقتولین کی تعداد لاکھ کا ہندسہ چُھو رہی ہے۔ ستم پہ ستم یہ ہے کہ افغان طالبان ان کی مکمل پشت پناہی کر رہے ہیں۔ ان کی اِس غارت گری اور قتل میں یہ انہیں ہر قسم کی امداد بہم پہنچاتے ہیں۔ ریاست پاکستان کے بارہا سمجھانے کے باوجود یہ اپنی روش سے باز نہیں آئے۔ "تنگ آمد بجنگ آمد” کے مصداق پاکستان کو پھر میدان کارزار میں کودنا پڑا اور پھر ان کے چھکے چھڑانے پڑے۔ ابھی حال ہی میں جس ملک نے خود سے سات گنا بڑے ملک(انڈیا) کو ہزیمت سے دوچار کیا اور ایک ہی بار اس کے کئی جہاز اور بیسیوں مزائل گرائے، اس کا سارا سسٹم جام کر کے دنیا کی بڑی بڑی طاقتوں کو حیران کر دیا، اس کے آگے یہ بندوق بردار افغان اور ٹی ٹی پی کیا حیثیت رکھتے ہیں!!؟ ابھی تو صرف ٹریلر دکھایا ہے، جس میں ان کے ہاں صف ماتم بچھ گئی ہے۔ یاد رہے! پاک فوج کا خمیر انتہا درجے کے جوش اور بہت گہرے ہوش سے گُندھا ہے۔ یہ تو ہستے کھیلتے جنگ میں جاتے ہیں اس برتے پر کہ مر گئے تو شہید، نہیں تو غازی۔اس لیے ان مخدوش حالات میں بہتر یہی ہے کہ افغانستان ہوش کا دامن تھامے۔ ویسے بھی وسط ایشیا میں بالخصوص ایران کے ساتھ امریکی و اسرائیلی تنازع پہلے ہی فسادات کو بھرپور بھڑکائے ہوئے ہے۔ اوپر سے افغان حکومت کا انڈیا کی شہ پر پاکستان کے ساتھ یہ گھٹیا ترین رویہ انتہائی شرماناک ہے۔افغان طالبان یہ احسان مت بھولیں کہ یہ پاکستان کی فوج ہی تھی کہ جس نے انہیں اقتدار دلوانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ پس یہ دشمنوں کے سامنے اپنا اور ہمارا تماشہ نہ بنوائیں اور "جیو اور جینے دو” کی پالیسی اپنائیں۔قارئین! اسی تناظر میں چند اہم حقائق کو ذہن نشین رکھنا ہر باشعور پاکستانی اور محبِ وطن شہری کےلیے ضروری ہے، تاکہ پاکستان اور پاک فوج کے بارے میں غلط سلط رائے قائم کرتے وقت جذبات کے بجائے حقیقت کو پیش نظر رکھے:1پاک افغان حالیہ کشیدگی کو محض دو مسلمان ملکوں کی جنگ قرار دینا، حقیقت کو مسخ کرنے کے مترادف ہے۔ ایک طرف ریاستِ پاکستان ہے، جبکہ دوسری طرف وہ "خارجی ٹولہ” (TTP) ہے، جس کا وتیرہ ہی مسلمانوں کا خون بہانا، مساجد اور امام بارگاہوں پہ حملے کرنا، بازاروں اور سیکیورٹی کے اداروں میں خودکش دھماکے کرنا بالخصوص وطن عزیز پاکستان میں فساد پھیلانا ہے۔ لہذا ایسے”خوارج” کے خلاف پاکستان کا حالیہ رد عمل عین شرعی، قانونی اور اخلاقی ہے۔2انتہائی افسوسناک پہلو یہ ہے کہ اِس پڑوسی ملک کی سرزمین آج مذکورہ "خوارج” کےلیے محفوظ ترین پناہ گاہ بن چکی ہے۔ ایک طرف برادر ملک ہونے کا دعویٰ اور دوسری طرف پاکستان کے خلاف دشمن قوتوں (کفار) کا آلہ کار بننا اور فتنہ پرور خارجیوں کی سرپرستی کرنا، "اسلامی اخوت” کے مقدس تصور کو بری طرح مجروح کر رہا ہے۔3پاکستان نے ہمیشہ ایک ذمے دار ہمسائے کے طور پر قرآنی حکم کے مطابق صلح کا راستہ اختیار کیا۔ مسلسل مذاکرات، وفود اور صبر و تحمل کا مظاہرہ اس لیے کیا گیا؛ تاکہ امتِ مسلمہ کا خون نہ بہے، لیکن دوسری طرف سے ان مخلصانہ کوششوں کا جواب ہمیشہ عہد شکنی سے دیا گیا۔4جب صلح کی تمام راہیں مسدود ہو جائیں اور ایک گروہ مسلسل سرکشی پر تُلا رہے، تو قرآن کا حکم واضح ہے کہ اس کے خلاف اس وقت تک لڑو جب تک وہ اللہ کے حکم (راہِ راست) کی طرف لوٹ نہ آئے (سورہ حُجرات)۔ لہذا پاکستان کا دفاع دراصل اس فتنے کا خاتمہ ہے، جو اسلام کے نام پر اسلام کو ہی نقصان پہنچا رہا ہے!5یہ بات بھی ذہن نشیں رہے کہ وطن عزیز میں حالیہ دہشت گردی میں واضح طور پر انڈیا ملوث ہے، اور افغانستان اس جرم میں بدستور انڈیا کی سہولت کاری اور آلہ کاری کر رہا ہے۔ *لہذا ہم اس موقع پر اپنی غیور اور جری فوج کی کامیابی کےلیے دعا گو ہیں اور فتنہ پرور عناصر کے خلاف ان کے شانہ بشانہ سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن کر کھڑے ہیں! اللہ تعالى پاکستان کا حامی و ناصر ہو، آمين*پاکستان زندہ بادپاک فوج پائندہ باد



















